اسلام میں بے گناہوں کا قتل حرام ہے

ریاض احمد چودھری ........
”اے آزادی! تمہارے نام پر کیسے کیسے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے؟“ یہ بات فرانس کی ملکہ میری جین رولینڈ نے اس وقت کہی تھی‘ جب اسے پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا تھا۔ اس وقت فرانس میں خونیں انقلاب وقوع پذیر ہوچکا تھا اور فرانس میں دہشت کا راج تھا۔ آج کا پاکستان بھی ایسے ہی دہشت کے دوراہے سے گزر رہا ہے‘ مگر یہ دہشت خود ساختہ مذہب کے نام پر پھیلائی جا رہی ہے۔ ملک دہشت گردانہ تشدد کے تحت خون سے تر ہے۔ یہ دہشت گردی مذہبی بنیادوں پر ہے جس کے تحت پاکستان کے شہریوں خصوصاً نئی نسل کا ذہن تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کچھ پاکستانی نوجوانوں کو انتہا پسند بنایا جا رہا ہے‘ مگر حکومت پاکستان کو کوئی پرواہ ہی نہیں۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ مدرسوںمیں اصلاحات نافذ کریں گے مگر اس وعدے پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ دنیا بھر میں مدارس کے بارے میں یہ نظریہ ہے کہ ان مدارس کا نصاب زمانہ وسطیٰ کے ادب سے لیا گیا ہے۔ مدارس کے طلباءکو 8 سال تک تو درس نظامی پڑھایا جاتا ہے‘ جو مولانا نظام الدین سیالوی مرحوم (1778ئ) کا تیار کردہ ہے جو لکھنو کے مشہور دینی مدرسہ فرنگی محل سے تعلق رکھتے تھے۔مدارس میں جو ذہن تیار کیا جارہا ہے‘ وہ ان نصابی کتب کی طرح ہے جوپاکستان کے تعلیمی بورڈ تصنیف کر رہے ہیں۔ جہاں دوسرے مذاہب سے نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ ریاضی کے مسائل کے حوالے سے تیسری جماعت کے طلباءکو بتایا جاتا ہے کہ ”مجاہدین کا ایک گروپ پچاس روسی فوجیوں پر حملہ کرتا ہے۔ اس حملہ میں 20 روسی ہلاک کردیئے جاتے ہیں، بھلا کتنے روسی فرار ہوگئے؟“ حکومت نے چوتھی جماعت کیلئے جو نصاب تیار کیا ہے‘ اس کے مطابق ”کلاشنکوف رائفل کی گولی کی رفتار 8 سو میٹر فی سیکنڈ ہے۔ اگر کوئی روسی کسی مجاہد سے تین ہزار 2 سو میٹر کی دوری پر ہو اور وہ مجاہد روسی کے سر کو نشانہ بنائے تو بتایئے کہ گولی کے روسی کے ماتھے میں لگنے کیلئے کتنے سیکنڈ درکار ہوں گے۔“
اگر پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنا درکار ہے تو صرف مدارس کی اصلاحات سے بڑھ کر سارے نظام تعلیم کو یکساں اور متوازن بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پورے نظام تعلیم کو اوور ہال کرنا ہوگا۔“
”جہاد“ اور ”شہادت“ کے موضوعات اور خیالات ملک کے تعلیمی اداروں کے 1979ءسے قبل اور بعد کے نصاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1979ءکے بعد مرتب کی جانے والی نصابی کتب میں جذبہ جہاد اور شہادت کی مدح کی گئی ہے۔
مدارس میں اور سیکولر (غیر مذہبی) سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں فرق صرف یہ ہے کہ اول الذکر کا تعلق غریب اور نادار خاندانوں سے ہوتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2005ءمیں پندرہ لاکھ طلباءنے مدارس میں داخلہ لیا تھا‘ جس کے بعد اس تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ مدارس اور سیکولر سکول ملک کے نوجوانوں کے ذہن تبدیل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ غربت کے باعث مدارس کے بعض طلباءانتہا پسند گروپوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر عسکریت پسندی کو کنٹرول کرنا مقصود ہے‘ تو ہمیں دولت کی مساوی تقسیم کا انتظام کرنا ہوگا۔ غریبوں کو انصاف فراہم کرنا ہوگا جو غربت کے باعث اپنے بچوں کو مدارس میں داخل کرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بعض اخلاق پرست یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”انسان محض روٹی پر ہی زندہ نہیں رہتا“ لیکن اس بات کی تردید بھی محال ہے کہ ”جب روٹی نہیں ملتی تو انسان صرف اور صرف روٹی کیلئے ہی زندہ رہتا ہے۔“
پاکستان عالمی سطح کے اجلاسوں میں ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ وہ ہر نوع اور ہر مشکل میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے‘ معصوم شہریوں کے خلاف مذہب کے نام پر دہشت گردی حرام ہے۔ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت کا حکم قرآن پاک میں 622ءمیں نازل ہوا تھا مگر اس حکم کا تعلق مذہب کی تبلیغ سے نہیں تھا‘ بلکہ یہ حکم مشروط تھا۔ جنگ کی صرف ان لوگوں کے خلاف اجازت ہے ”جو آپ کے خلاف آمادئہ جنگ ہوں۔“ مثال کے طور پر صرف جنگجو افراد کے خلاف ہی جنگ کی جائے اور عام شہریوں کو کسی بھی نوع کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کی مذمت اور ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اسلام سے زیادہ کسی اور مذہب نے مذمت نہیں کی۔ جب تک قرآن پاک کی تعلیمات کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جائے گا اور نئی نسل کو یکساں نصاب تعلیم کے مطابق تعلیم نہیں دی جائے گی‘ اس وقت تک معاشرے میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔