ابو انیس حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ

پروفیسر سید خرم شہزاد حافظ آباد....
تاجدار دارالاحسان حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ1911ءکو موضع برہمی ضلع لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت میاں نگاہی بخش تھا۔ آپؒ نے اپنے وقت کے معروف بزرگ شاہ ولایت حضرت امیر الحسن سہارنپوریؒ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ باوا جی سرکار حضرت صوفی محمد برکت علیؒ اگرچہ مادر زاد ولی تھے لیکن والد گرامی کی خواہش پر آپؒ نے 19 اپریل 1930ءکو فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1933ءمیں آپؒ انڈین ملٹری اکیڈمی کے وائی کیڈٹ منتخب ہو گئے۔ کور کمانڈر جنرل وچ آپؒ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھا اور وہ آپؒ کی تقلید میں رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں کچھ نہ کھاتا پیتا تھا۔ فوجی ملازمت کے دوران آپؒ اپنے فرائض سے فارغ ہو کر اکثر و بیشتر کلیر شریف میں حضرت علاﺅ الدین علی احمد صابرؒ کے مزار پرانوار پر حاضری دیتے اور وہاں ساری رات مجاہدہ میں گذار دیتے۔ جوں جوں آپؒ کا سینہ صابری مئے سے لبریز ہوتا گیا۔ آپؒ کی حالت روز بروز بدلتی گئی بالآخر آپ نے 22 جون 1945ءکو فوج سے استعفیٰ برٹش حکومت سے غداری کے مترادف تھا۔ اور اس نازک وقت میں آرمی سے استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت جنگ عظیم جاری تھی اور اس نازک وقت میں آرمی سے استعفیٰ برٹش حکومت سے غداری کے مترادف تھا۔ جس کی سزا کالا پانی، عمر قید یا پھانسی تھی۔ ابتدا میں برٹش حکومت کی طرف سے آپ کو فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے طرح طرح کے لالچ دیئے گئے لیکن جب آپؒ ان کے دام میں نہ آئے تو آپؒ کو زہر دے دیا گیا۔ خدا کی قدرت کہ آپؒ کو ایک قے آئی جس سے زہر خارج ہو گیا۔ بعد ازاں آپ کو کورٹ مارشل میں بھی باعزت بری کر دیا گیا۔ فوجی وردی اتارنے کے بعد آپؒ نے خدا کے سپاہی بنکر حضرت علاﺅالدین علی احمد صابر کے مزار اقدس پر خداوند کریم سے 3 وعدے کئے کہ اپنی باقی زندگی ان کاموں میں صرف کرونگا۔
-1ذکر الٰہی -2دین اسلام کی دعوت و تبلیغ -3 اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمتدنیا نے دیکھا کہ زمانے میں کئی نشیب و فراز آئے لیکن آپؒ پوری زندگی پہاڑ کی استقامت کے ساتھ ان تینوں محاذوں پر ڈٹے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے کچھ عرصہ گجرات میں قیام کرنے کے بعد حافظ آباد کے قصبہ سکھیکی میں کیمپ لگایا اور یہاں ایک سال تک مقیم رہے۔ بعد ازاں آپؒ نے سالار والہ ( موجودہ دار الاحسان) کو اپنی دینی، تبلیغی و رفاعی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جو جلد دنیائے اسلام میں دارالاحسان کے نام سے مشہور ہو گیا۔ 1984ءمیں باوا جی سرکار فیصل آباد کے قریب دسوھہ سمندری روڈ پر تشریف لے گئے۔ اس مقام کو المستفیض دارالاحسان سے منسوب کیا گیا۔ یہاں بھی آپؒ نے ایک خوبصورت قرآن کریم محل اور ایک بہت بڑا فری ہسپتال قائم کیا۔ بانی دارالاحسان حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ ایک انقلاب آفریں شخصیت تھے۔ جنہوں نے خانقاہی نظام کو ایک نئی جہت دیکر اسے تروتازگی بخشی۔ آپؒ نے عام سجادہ نشینوں کے برعکس کچی جھونپڑیوں میں ڈیرہ جما کر نہ صرف لاکھوں انسانوں کی کایا پلٹ ڈالی بلکہ عمل و کردار کا انمول نمونہ پیش کیا۔امریکہ کے ایک رفاعی ادارہ نے 1992ءمیں آپؒ کو 5 ارب روپے سے زیادہ مالی پیشکش کی مگر آپؒ نے اسے بھی قبول نہ کیا۔ حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ نے عمر بھر اس اصول پر مداومت فرمائی کہ آج کا مال آج ہی ختم ہو۔ کل کی روزی کل ملے گی۔ نیر فرماتے کہ ہماری روزی پرندوں کی طرح ہے جو صبح گھونسلوں سے بھوکے اٹھتے ہیں لیکن شام کو سیر ہو کر لوٹا کرتے ہیں۔ آپؒ کی زندگی اقبالؒ کے اس شعر کی مصداق تھی۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
آپؒ نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ جن میں زیادہ تر تعداد خانہ بدوشوں کی ہے۔ صدیوں سے گمراہی و ضلالت میں مبتلا یہ خانہ بدوش گگڑے اب قبول اسلام کے بعد یا حی یا قیوم کی صدائیں بلند کرتے دکھائی دیتے نظر آتے ہیں۔ آپؒ کا لٹریچر اسی جذبے سے مفت تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس عظیم مشن کے سلسلہ کو دیکھ کر یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ آپؒ قلب الاقطاب ہی نہیں بلکہ ایک انقلاب آفریں شخص تھے۔ جن کا فیض روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ آپؒ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال16 رمضان المبارک کو المستفیض دارالاحسان سمندری روڈ فیصل آباد میں منایا جاتا ہے۔