آمریت اور جمہوریت

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

آسمان پر دو قسم کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ایک سیلابی دوسرے آمرانہ، یوں لگتا ہے کہ امریکہ ہمیں اس سیاق میں لا رہا ہے جس میں مارشل لاءکے امکانات روشن ہوں، کیونکہ ہمیشہ سے امریکہ کو اس ملک میں فوجی حکومت درکار رہی ہے، آج بھی اس کی نظر کرم جتنی ہماری فوج پر ہے جمہوریت اور سویلین حکومت پر نہیں۔ نواز شریف نے بہت خوب اور بروقت کہا ہے کہ جنرل کیانی شٹ اپ کہہ دیں، بہت ممکن ہے کہ یہ شٹ اپ کافی موثر ثابت ہو، پاکستان میں جمہوریت اور سویلین حکومت عرصہ دراز کے بعد قائم ہوئی ہے، اس لئے اب اس کی حفاظت نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن پر بھی عائد ہوتی ہے۔ الطاف حسین نے جو بات کی وہ نہ جانے کس سیاق اور کس نیت سے کی اس لئے اس کو ہوا دے کر خواہ مخواہ ملک میں آمریت کے ذکر کو عام نہ کیا جائے، ہمیں پوری امید ہے کہ آرمی چیف بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ شکوک و شبہات جنہوں نے پوری قوم کو گھیر لیا ہے وہ یکسر دور ہو جائیں۔ آصف علی زرداری اپنی پوری تندہی سے جمہوری حکومت کو جیسے تیسے چلا رہے ہیں مگر پروپیگنڈے کے ذریعے ان کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ الطاف بھائی جو جاگیر داروں، سرمایہ دارانہ نظام اور عسکری آمریت کے مخالف رہے
ہیں کیسے مارشل لاءکو دعوت دے سکتے ہیں، اگر ایسی بات ہوتی تو وہ کھل کر سامنے آتے اور فوج کو بلانے کا مطالبہ کرتے جبکہ ایسی کوئی صورتحال نہیں۔ پاکستان کو جتنا نقصان آمریت نے پہنچایا ہے وہ پاکستان کے عوام سے ڈھکا چھپا نہیں، اس لئے اب بدلے ہوئے حالات میں وہ آمریت کی آمد کو ہرگز خوش آمدید نہیں کہیں گے، جو لوگ مارشل لاءکے خلاف بیانات کی بھرمار کئے ہوئے ہیں وہ بھی خاموشی سے کام لیں، اور ایک ایسا عمل جس کی کوئی توقع ہی نہیں اس کو مزید اتنی ہوا نہ دیں کہ افواج پاکستان بھی حیران ہو جائیں۔ میاں نواز شریف نے جو کچھ جنرل کیانی کی بابت کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی بات کو شٹ اپ کہیں، ایک بروقت صدا ہے جو انہوں نے بحیثیت اپوزیشن لیڈر لگا دی ہے، زرداری اور گیلانی کو بھی کھل کر اس مسئلے پر اظہار خیال کرنا چاہیے تاکہ قوم ایک نئے ذہنی خلفشار سے باہر نکلے، البتہ ہم یہ ضرور کہیں گے کہ افواج پاکستان جنہیں امریکہ نے اپنی جنگ پر لگا رکھا ہے، اس کا دھارا سیلاب زدگان کی طرف موڑ دینا چاہیے اور امریکہ سے صاف کہہ دینا چاہیے کہ پاکستان کس قیامت سے گزر رہا ہے اور وہ ڈومور کا شرمناک مطالبہ کر رہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ بھارت کے ذریعے افغانستان میں پاکستان کے خلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے، آمریت کی باتیں آخر کیوں شروع ہو گئی ہیں یہ بھی امریکی سازش کا حصہ ہیں۔ کیا ہماری سویلین حکومتوں میں اتنی بھی بھی سکت نہیں کہ وہ آمریت کو روک سکیں، کیونکہ اب عوام بھی ان کے ساتھ ہیں۔ امریکہ مقبوضہ کشمیر میں آمریت پر خاموش ہی نہیں بلکہ درپردہ اسے امریکی آشیرباد بھی حاصل ہے، اس
وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور بھارتی ظلم و ستم کو امریکہ ایک انداز سے ڈومور کہہ رہا ہے، اسے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی نظر آتی ہے مگر وہ وہاں ڈرون طیارے نہیں بھیجتا، یہ وہ دوعملی ہے جو پاکستان کے خلاف بھارت اور امریکہ ملکرکر رہے ہیں۔ پاکستان جمہوریت کے لئے بنا ہے اور اب یہاں آمریت کبھی نہیں آئے گی، زرداری اور گیلانی مضبوط رہیں اور اس سلسلے میں پروپیگنڈے کے پس پردہ حقائق کا پتہ کر کے قوم کو ساتھ ملا کر سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ الطاف حسین محب وطن اور آمریت دشمن ہیں وہ ضرور فضا کو صاف کر دیں گے۔