مکتوب برلن

کالم نگار  |  جاوید صدیق

میں قارئین کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کے صحافیوں کو فرانس اور جرمنی نے مشترکہ طور پر مدعو کیا ہے فرانس اور جرمنی کے درمیان 1963 ء میں دوستی اور مفاہمت کا ایک سمجھوتہ ’’ایلسے ٹریٹی‘‘ ELYSEE  TREATY کے نام سے ہوا تھا جس کے انہوں نے ماضی کی تباہ کن جنگوں اور کشمکش کو ختم کرکے دوستی اور تعاون کا ایک نئے دور کا آغاز کیا تھا۔
فرانس اور جرمنی کی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ دنیا کے ایسے ملکوں جن میں مخاصمت ہے یا جن کے تعلقات کشیدہ ہیں انہیں قائل کریں وہ فرانس اور جرمنی کی طرح تلخ اور کشیدہ ماضی کو فراموش کرکے تعاون کے ایک نئے دور کا آغا کریں۔ فرانس اور جرمنی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی مراسم اچھے نہیں انہیں بھی باہمی چپقلش اور بداعتمادی ختم کرکے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا چاہیئے۔
پاکستان اور افغانستان کے صحافیوں کو پیرس سے ٹرین کے ذریعے فرانس اور جرمنی کے سرحدی علاقے سٹراس برگ لایا گیا، سٹراس برگ ایک چھوٹا سرحدی علاقہ ہے اس چھوٹے سے قصبے میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ کا سال میں ایک مرتبہ اجلاس بھی ہوتا ہے سٹراس برگ اس معروف دریا کے کنارے واقع ہے جو رائن ریور یعنی دریائے رائن کہلاتا ہے یہ دریا فرانس اور جرمنی کی سرحد بھی ہے اور اس دریا پر جنگوں کے درمیان پل تباہ کئے جاتے رہے صحافیوں کو سٹراس برگ کے علاقے میں واقع سرحدی پولیس کے ہیڈکواٹر لے جایا گیا جہاں ایک سینئر جرمن پولیس آفیسر نے صحافیوں کو بریفنگ دی اور بتایا کہ اب فرانس جرمن دوستی کے معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے شہری ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے فرانس اور جرمنی کی پولیس ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ بھی کرتی ہے۔
سٹراس برگ کے جس علاقے میں سرحدی پولیس کا یہ ہیڈ کواٹر موجود ہے وہ اس عمارت میں ہے جو پہلی جنگ عظیم کے دوران تعمیر کی گئی تھی بریفنگ کے بعد دونوں ملکوں کے صحافیوں کو یہاں کے قریبی ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا جہاں سے ایک چھوٹے طیارے میں جرمنی کے دارالحکومت برلن لایا گیا جرمن اتحاد کے بعد اب جرمن حکومت کے کئی اہم ادارے اور دفاتر ان علاقوں میں ہیں جو کبھی مغربی جرمنی کا حصہ ہے جہاں کمیونسٹ حکومت تھی۔
جرمن وزارت خارجہ اس عمارت میں واقع ہے جو دوسری جنگ سے پہلے جرمنی کا مرکزی بنک ہوا کرتا تھا۔ جرمنی کے اتحاد کے بعد اب وزارت خارجہ کو اس پرانی عمارت میں منتقل کر دیا گیا ہے جس کی لفٹس LIFTS بھی دوسری جنگ کے دوران کی ہیں۔
یہاں ایک جرمن سفارت کار نے صحافیوں کو بریفنگ دی یہ بریفنگ قریباً قریباً انہی باتوں کا اعادہ تھا جو ہم پہلے سن چکے تھے جرمنی اور فرانس کے درمیان دوستی کا سمجھوتہ ہونے کے بعد کس انداز میں تعاون ہو رہا ہے اس کی تفصیلات بتائی گئیں۔
جرمن سفارت کار نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ دونوں ملکوں نے اپنی تاریخ کی ایک مشترکہ کتاب بھی تصنیف کی ہے ماضی کی تاریخ کی کتاب میں بعض واقعات کو دونوں ملکوں نے مسخ کرکے پیش کیا تھا جن کی دونوں ملکوں کے سکالروں نے مشترکہ طور پر تصحیح کر دی ہے۔
 جرمن سفارت کار کا کہنا تھا کہ ہم جرمنی اور فرانس میں تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سول سوسائٹی کو بھی استعمال کر رہے ہیں ایک دوسرے کے شہروں کو سیاحت کیلئے متحرک کر رہے ہیں خاص طور پر نوجوانوں میں میل جول کو بڑھا رہے ہیں مشترکہ یونیورسٹیاں بھی بنا رہے ہیں۔
اس بریفنگ سے قبل جرمن وزارت خارجہ کے بالکل سامنے ایک ریسٹورنٹ جس کا نام فارن آفیئرز ریسٹورنٹ رکھا گیا ہے صحافیوں کو دوپہر کا کھانا کھلایا گیا جس کے دوران دو خواتین سفارت کار موجود تھیں۔
 ایک سفارت کار کا تعلق افغانستان سے تھا وہ نیدر لینڈ کی شہری ہیں اور جرمنی میں افغان ڈیسک پر کام کرتی ہیں محترمہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں انسانی حقوق کے معاملات کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جرمنی افغانستان میں خواتین سول سوسائٹی اور میڈیا کو فروغ دینے کے لئے فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ افغانستان میں میڈیا کو مؤثر بنایا جا رہا ہے افغان نژاد اور جرمن سفارت کار سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر کھل کر بات ہوئی‘ افغان صحافی اس خدشہ کا اظہار کر رہے تھے کہ پاکستان اور اس کی انٹیلی جنس کا ادارہ آئی ایس آئی افغانستان میں مداخلت کر رہا ہے۔
 افغان صحافی بے بنیاد مفروضوں کی بنیاد پر خدشات کا اظہار کر رہے تھے، اس کھانے میں جرمنی میں پاکستان ڈیسک کے انچارج سفارت کار نے بھی شرکت کرنا تھی لیکن صحافیوں کو بتایا گیا کہ پاکستان ڈیسک کے انچارج ٹریفک حادثہ میں زخمی ہونے کے باعث اس لنچ میں شریک نہیں ہو سکے۔ بہر حال جرمنی کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان کو ایک جدید جمہوری ملک بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے وہ بڑے پیمانے پر افغانستان میں فنڈز صرف کر رہا ہے وہ افغان میڈیا اور افغان خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔