مذاکرات

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

9 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں کی قیادت نے حکومت کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عسکریت پسند گروہوںسے مذاکرات کا مکمل اختیار دیا۔ ہماری روایتی سیاست کے تناظر میں اس طرح کا اتفاق رائے نہ صرف ایک غیر معمولی پیشرفت ہے بلکہ کسی اچنبھے سے کم نہیں۔ وطن عزیز گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے جسکے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے افراد کے علاوہ ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے جانیں ضائع ہوئیں۔ اس ناقابل تلافی نقصان کے علاوہ بے پناہ معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ پاکستان کی بہادر فوج اور دوسرے سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کی اس جنگ کا بڑی بہادری سے سامنا کیا ہے اور کامیابی سے اسے ایک حد سے زیادہ اسے بڑھنے نہیں دیا۔پاک فوج کی یہ کامیابی نہ صرف بے مثال ہے بلکہ دوسروں کیلئے قابل تقلید بھی ہے۔ سوات آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کا صفایا آج کی جدید دنیا میں ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ کئی لحاظ سے منفرد ہے لحاظہ ہمارے دشمن کبھی بھی نہیں چاہیںگے کہ اس کا جلد خاتمہ ہو کیونکہ جو نقصان ہمیں وہ نہیں پہنچا سکے اس کا سامنا ہم اس اندرونی جنگ کی بدولت اٹھا رہے ہیں ایسے ماحول میں بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل ہی ایک ترجیحی حکمت عملی ہونی چاہیے۔
یہ مذاکرات انتہائی اہم اور حساس نوعیت کے ہیں جس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت بھی ایک بہت خوش آئند بات ہے۔ ایسے عناصر جو اس معاملے میں فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف کی باتیں کرتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اس طرح کے مذاکرات ایک انتہائی مشکل کام ہوتا ہے جس کیلئے وقت کی میعاد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں فی الحال شدت پسندوں کی طرف سے میڈیا کے ذریعے عائد کی گئی مختلف شرائط میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ انہی کے مختلف گروہ اس بارے میں متفق نہیں۔
کوئی مذاکرات کچھ لو اور دو کی بنیاد پر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ ملکی آئین اور قانون سے بالاتر ہو کر کوئی بات نہیں کی جا سکتی، جس کا برملا اظہار نہ صرف حکومت کر چکی ہے بلکہ پوری قوم کا بھی اس پر اتفاق رائے ہے لحاظ اس بارے میں کوئی بھی بحث لاحاصل ہے حکومت کی طرف سے مذاکرات کے فیصلے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں جس کی بنا پر مذاکرات کے فیصلے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان واقعات میں سے بہت سی کارروائیاں ایسے گروہوں کی جانب سے ہو سکتی ہیں جو دشمن کی پشت پناہی کے بل بوتے پر اس سارے عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔
 اس صورتحال میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے تاکہ مختلف تبصروں اور رپورٹس کے ذریعے بے یقینی پیدا کرنے کی بجائے عوام کو مثبت پہلوئوں سے آگاہ کیا جائے۔ تحمل اور برداشت کسی بھی ایسے عمل کی کامیابی کیلئے بنیادی عناصر ہیں۔ ابھی سے یہ کہنا کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے یہ وقت کا ضیاع ہیں اور حکومت دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے کسی صورت بھی ایک ذمہ دارانہ اور مثبت سوچ نہیں اب جبکہ ایک مکمل قومی اتفاق رائے کے بعد یہ عمل شروع ہو چکا ہے تو ہمیں اپنی اپنی حیثیت میں اس کی کامیابی کیلئے پراُمید رہنا چاہیے۔ طاقت کے استعمال کی آپشن بہرحال ہروقت موجود رہتی ہے جس کیلئے کسی خاص بصیرت کی ضرورت نہیں مگر اسکے ردعمل کی صورت میں دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کا احساس کرنا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے جس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے ہمیں حکومت اور فوج کی نیت پر شک کرنے کی بجائے ان پر یقین رکھنا چاہیے کہ وہ معروضی حالات کومدنظر رکھتے ہوئے ملکی سلامتی اور مفاد کو یقینی بنانے کیلئے ہرممکن کوشش کرینگے۔لیکن جس طرح آج تجزیے ہو رہے ہیں کہ مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں چاہئیں؟ تو اگر اس بات کی وضاحت میں جایا جائے تو یہ ایک منتشر سا معاملہ نظر آتا ہے کیونکہ مذاکرات کیلئے کوئی ایک پارٹی تو ہے نہیں بیسیوں گروہ ہیں، طالبان کے ایک گروہ سے مذاکرات کریں گے تو باقی اٹھارہ، انیس کا کیا ہو گا؟ کیا تمام گروہوں کے سربراہ ایک جگہ ایک نقطے پہ اتفاق رائے کا اظہار کرینگے؟ مذاکرات کا مقصد یہ تو نہیں کہ بات چیت سے پہلے ہم طالبان کیخلاف ہرطرح کی پیشرفت روک دیں اور ان کو کھلا میدان دے دیں کیونکہ انہوں نے تو دہشت گردی کے عمل کو بند نہیں کیا۔ کیا لازمی نہیں کہ وہ ملک میں لوگوں کو امن و حفاظت سے جینے کیلئے یہ بیہمانہ عمل تو روک دیں تاکہ پھر ہم اور ہماری حکومت یہ سوچ سکے کہ واقعی مذاکرات کی خواہش دونوں طرف پنپ رہی ہے، ورنہ انہی مذاکرات کے چکر میں کہیں یہ دہشت گرد اپنے آپ کو اور مضبوط نہ کر لیں۔ یہ حکومت اور سیاستدانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جس پر سوچ و بچار کرنا ازحد ضروری ہے۔