دورہ امریکہ۔ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے بعد باہر آئے تو امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور تجزیوں کے مطابق ان کا چہرہ ہارے ہوئے کھلاڑی اور جواری کی طرح اترا ہوا تھا۔ قبل ازیں وہ میڈیا اور قوم کو مسئلہ کشمیر اور ڈرون حملوں کے خاتمے کا معاملہ اوباما کے سامنے سے بھرپور طریقے سے اٹھانے کا یقین دلا چکے تھے۔ ان دو معاملات پر سرے سے اوباما کے ساتھ ملاقات کے دوران بات ہی نہیں ہوئی۔ قبل ازیں امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن اور وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران میاں نوازشریف نے یہ معاملات ضرور اٹھائے تھے۔ اس پر پاکستانی وزیر اعظم کو کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ گومیاں نوازشریف نے اوباما کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے ڈرون حملوں ،مسئلہ کشمیر اور عافیہ صدیقی کے بارے میں اوباما سے بات کی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ روز زور دے کر کہا ہے کہ اوباما نوازملاقات میں عافیہ صدیقی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ ملاقات پاکستانی وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان ہو رہی تھی۔ اس میں دونوں ممالک کے متعلق معاملات ہی زیر بحث کرنے چاہئیں تھے۔ امریکہ کی عالمی سطح پر ایک ساکھ کے مطابق پاکستان بجا طور پر مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکی مداخلت کی توقع رکھتا ہے۔ امریکیوں نے مسئلہ کشمیر پر میاں نوازشریف کی بات کو تو کوئی اہمیت نہ دی البتہ اس کے برعکس بھارت کی وکالت کرتے ہوئے ممبئی حملوں کے ملزم بھارت کے حوالے کرنے پر زور دیا۔ حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ پر پابندی لگانے کی بات کی۔ یہ مطالبات تو بھارت کے جو امریکہ نے پاکستانی وزیراعظم کے سامنے رکھے۔ جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید امریکہ کو کسی معاملے مطلوب ہیں نہ ہی ان پر اس دہشتگردی میں ملوث ہونے کا کوئی الزام ہے جس دہشتگردی کے خلاف امریکہ جنگ لڑ رہا ہے۔حافظ سعید اور ان کی جماعت الدعوۃ پر بھارت کو تحفظات ہو سکتے ہیں ۔ امریکہ کی طرف سے بھارت کی شکایت پر وزیراعظم نوازشریف پر دبائو ڈالنے سفارتی آداب کے خلاف اور پاکستان کو حقیر سمجھنے کے مترادف ہے۔ ویسے امریکہ خود کو چودھری اور پاکستان کمی سمجھنے میں حق بجانب بھی ہے۔ کمی کا مرتبہ ہم نے خود اپنے لیے چنا ہے۔ ہمارے حکمران ہر ملک کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنے کے دعوے تو کرتے ہیں عمل اس کے الٹ ہوتا ہے۔ اگر اوباما پاکستان آئے تو کیا ان کی پاکستانی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات تین روز بعد ہوتی اور اس کا استقبال گریڈ 20کا افسر کرتا اور پھر امریکی حکام خصوصی طور پر اوباما نے جو ملاقات کے دوران جو تحکمانہ لب و لہجہ استعمال کیا اور ڈرون پر بات سننے ہی سے انکار کر دیا وہ پوری پاکستانی قوم کی توہین ہے۔ میاں نوازشریف کچھ زیادہ ہی دبائو میں دکھائی دیئے۔ اس قبل ذوالفقار علی بھٹو ،جنرل ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف بے شک فوجی آمر تھے لیکن وہ امریکی صدور کے ساتھ ایک وقار اور جرأت کے ساتھ ملاقاتیں اور بات چیت کرتے تھے۔ اوباما کا مشترکہ کانفرنس کے دوران اپنا بیان پڑھ کر چلے جانا بھی تکبر کی ایک علامت تھی۔ بہتر تھا کہ وزیراعظم نوازشریف بھی چلے جاتے۔ وہ وہاں یہ کہتے رہے کہ ڈرون حملوں پر بات چیت ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو مشترکہ اعلامیہ میں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔وزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں کہ انہوںنے اوباما سمیت امریکی قیادت کو باور کرایا کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے حالانکہ وہ امریکہ کی پاکستان کے لیے فوجی اور اقتصادی امداد کے روکے گئے 1.6بلین ڈالر قبول کر چکے تھے۔ اوباما نے 300ملین ڈالر کی فوجی امداد بحال کرنے کی کانگریس کو تاکید کی ہے۔ یہ رقم بھی پاکستان کو جلد مل جائے گی۔ ان دونوں مدوں میں دی جانے والی امداد تو وزیراعظم صاحب نے قبول کر لیا۔ ان کے نزدیک ایڈ کا نہ جانے کیا مفہوم ہے جس کی وہ اپنے پیشروئوں کی طرح نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایڈ نہیں ٹریڈ۔
حکومتی سطح پر دورے کی کامیابی کے جتنے بھی دعوے کئے جائیں درحقیقت یہ دورہ مکمل طور پر ناکام رہا جس کی سب سے بڑی گواہی امریکہ سے لندن پہنچنے پر وزیراعظم نوازشریف کی پریس کانفر نس کی باڈی لینگوئج تھی۔ اس موقع پر میاں نوازشریف کے چہرے پر مایوسی کی پرچھائیں بالکل واضح تھیں۔۔ میاں نوازشریف اوباما سے ملاقات سے قبل اور ملاقات کے بعد ڈرون حملوں کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف قرار دیتے رہے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ ڈرون حملے پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔ جہاں پاکستان اور امریکہ کا موقف متضاد تھا اور پذیرائی اسی کے موقف کو ملتی ہے جو طاقتور اور زورآور ہو۔
دورے سے قبل جو تاثر دیا گیا اس کو مدنظر رکھا جائے تو بلاشبہ دورہ فلاپ ہوا اور اگر حکمران خیرات کی نیت سے گئے تھے جو ان کے نزدیک یہ توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہوا ہے۔ اس کی تصدیق اوباما نواز ملاقات کے بعد امریکی امور خارجہ کمیٹی کے رکن ایلیٹ اینجل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہہ کر دی کہ وزیراعظم کے دورے کا مرکزی خیال معیشت ہے۔ بلاشبہ ملکی معیشت مضبوط ہونی چاہیے لیکن وہ ضمیر فروشی اور بے عزتی کی حد تک لیٹنے کی قیمت پر نہیں۔
وزیراعظم کی ملکی وقارکے منافی اس بیان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہمار اپنا گھر درست نہیں۔ امریکہ میں جا کر ایسا اعتراف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اپنے گھر کو خود آپ نے درست کرنا ہے امریکہ نے نہیں۔ اس کو خود درست کریں۔ حکمرانوں کی بھکاری صفت فطرت اور بزدلی ہی ہماری سلامتی، سالمیت اور وقار کے لیے خطرہ ہے۔ جس میں نئے آنے والے حکمرانوں نے اضافہ ہی کیا ہے۔ موجودہ حکمران تو حدیں ہی کراس کر گئے ہیں او ران کو وٹ دینے والے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹ رہے ہیں۔ ہم تو ان کو یہ بھی کہہ سکتے کہ ہور چوپو، آخر انسان خطا کا پتلا ہے ۔ البتہ آئندہ دھوکے میں نہ آئیں اور اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کریں۔