باراک اوباما اور دال قیمہ

کالم نگار  |  نعیم احمد

وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران امریکی صدر باراک اوباما اور میاں محمد نواز شریف کی باہمی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ باراک اوباما نے دوران گفتگو کہا کہ انہیں اب تک پاکستان میں 1981ء میں کھائے ہوئے دال قیمہ کا ذائقہ یاد ہے اور پاکستانی بڑے محبت کرنیوالے لوگ ہیں۔ بہت سے پاکستانی جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا کے اس طاقتور ترین شخص کی اس بات کا پس منظر کیا ہے۔ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انہیں امریکی صدر کی خودنوشت کے مطالعے کا موقع ملا ہے۔ باراک اوباما کے مطابق میں لاس اینجلس میں رہتا تھا اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے نیو یارک جانا چاہتا تھا۔ میری ایک ہم قوم عورت نیو یارک میں مقیم تھی جو قبل ازیں ہمارے ساتھ لاس اینجلس میں رہتی تھی۔ اس نے مجھے ٹیلی فون کیا کہ اب میں یہاں سے جا رہی ہوں اور اپنا اپارٹمنٹ چھوڑ رہی ہوں۔ تم جلد از جلد نیویارک پہنچ کر میرے اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کر لو کیونکہ یہاں اپارٹمنٹ کا حصول انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ میں جلدی سے نیو یارک پہنچا اور ڈھونڈتا ڈھونڈتا اس خاتون کے اپارٹمنٹ تک پہنچ گیا۔ میںنے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ اس خاتون نے دروازہ کھول کر باہر جھانکا اور پھر یکدم دروازہ بند کر کے غائب ہو گئی۔ میرے بار بار کھٹکھٹانے کے باوجود بھی اس نے دروازہ نہ کھولا۔ شام کا وقت تھا اور میرے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ کسی ہوٹل میں ٹھہر سکتا۔چنانچہ میں وہیں فٹ پاتھ پر اپنا بیگ سرہانے رکھ کر سو گیا۔ صبح جب میں اٹھا تو اچانک خیال آیا کہ لاس اینجلس میں ہمارے ساتھ رہنے والا ایک پاکستانی آج کل نیو یارک میں ہے‘ لہٰذا اس سے رابطہ کیا جائے۔ میں نے اسے فون کیا تو اس نے کہا کہ وہ ابھی ابھی ڈیوٹی سے واپس آیا ہے‘ اس لیے میں اس کا وہیں انتظار کروںوہ خود مجھے آ کر لے جائیگا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ شخص آ گیا اور مجھے ساتھ لے کر اپنے اپارٹمنٹ چلا گیا۔ اس وقت اس کے اپارٹمنٹ میں چونکہ صفائی ہو رہی تھی‘ اس لیے ہم سامنے واقع ایک ریستوران میں بیٹھ گئے۔وہاں میرے پاکستانی دوست نے مجھے ناشتہ کرایا اور خود بھی دو‘ دو انڈے منہ میں ڈال کر ناشتہ کیا۔ میں اسکے پاس کئی ماہ تک ٹھہرا لیکن اسکے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئی۔ آخر کار مجھے اپنا اپارٹمنٹ مل گیا تو میں وہاں منتقل ہو گیا۔ کبھی کبھی وہ پاکستانی دوست بھی میرے پاس آ کر ٹھہرا کرتا تھا۔پھر وہ پاکستان واپس چلا گیا۔ میں بھی اسے ایک مرتبہ ملنے کی خاطر پاکستان کے شہر کراچی گیا۔اس کا خاندان حیدر آباد میں مقیم تھا۔ چنانچہ کئی ہفتے انکے گھر حیدرآبادمیں بھی میرا قیام رہا۔ اس دوران اس کی والدہ نے مجھے دال قیمہ بنانا سکھایا۔
کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین کیمطابق باراک اوباما نے عہدۂ صدارت کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں صدر منتخب ہو گیا تو مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مدد فراہم کروں گا لیکن ہندو ایک انتہائی چالاک قوم ہے۔ اس نے پیش بندی کے طور پر تاج محل ہوٹل ممبئی پر دہشت گردوں کے حملے کا ڈرامہ رچایاجس کے دوران انتہا پسند ہندوئوں نے ممبئی کے پولیس کمشنر مسٹر کرکرے کو قتل کر دیا جو پولیس سٹیشن واپس جا چکا تھا۔ مسٹر کرکرے وہ شخص تھا جو بھارتی ریاست احمد آباد کے شہر گجرات میں مسلم کش فسادات کی تحقیقات کر رہا تھا اور اس نے ان کا ذمہ دار انتہا پسند ہندوئوں کو ٹھہرایا تھا۔ بھارت نے پہلے سے ہی ایک پاکستانی اجمل قصاب کو غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے پر گرفتار کر رکھا تھا۔ بھارت کے سکیورٹی اداروں نے اسے دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے ہوئے باراک اوباما کو یقین دلا دیا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے اور دراصل یہی یقین آج تک باراک اوباما کے دماغ میں بیٹھا ہوا ہے جو وہ پاکستان سے دہشتگردوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ تو پاکستان کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امریکی صدر اور دیگر غیر ملکی زعماء کے سامنے بھارت کی اصلیت کا پردہ چاک کریں لیکن افسوس کہ وہ ایسا کرنے میں ناکام ہیں۔