سندان عشق اور ٹرمپ کا دورہ

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
سندان عشق اور ٹرمپ کا دورہ

ٹرمپ اور سعودیہ میں رونما ہونے والے مناظر کے بعد تازہ ترین صورتحال میں پاکستان کو ملنے والی فوجی امداد قرضے میں بدلنے کی سفارش سامنے آئی ہے…سعودیہ میں دکھائی دئیے جانے والے پرجوش مناظر میں پاکستان کا نام تک نہ لینے پر کسی کو غصہ دکھانے کی ضرورت نہیں… سعودی عرب اپنے مفادات کے تحت چل رہا ہے اور ٹرمپ امریکی مفادات کے مطابق امریکہ کی گرتی ہویء اکانومی کو سہارا دینے کے لیے اسلحہ بیچ کر چلے گئے… جبکہ امریکہ کی خاتون اول نے کثیر رقم کی شکل میں چندہ جمع کیا… ہمارے ہاں کی ہر ’’خاتون اول‘‘ سیر سپاٹے اور شاپنگ کرکے گھروں کو لوٹ آتی ہیں۔ بقول مرتضے برلاس
اُسی نے لُوٹ لیا جس کو رہبری سونپی
پھر اعتماد بھی کس طرح پر یہاں عوام کریں
سعودیہ میں برپا جشن اور ٹرمپ کی پذیرائی دیکھ کر ایک طبقہ فکر یہ بھی سوچتا ہے کہ سعودی عرب ایک نئی جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھا ہے اوراب سعودیہ میں ’’کافروں‘‘ کے لیے مخصوص شاہراہوں کے نام تبدیل کر دئیے جائیں گے۔ اس روشن خیال سوچ میں سعودی بادشاہ کا امریکی خاتون اول سے ہاتھ ملانا اور خاتون اول کا پوپ کے سامنے سر کا ڈھانپنا اور مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر سر کا نہ ڈھانپنا شامل ہے… جبکہ ماضی میں دوسرے ممالک کی خواتین احترام کو ملحوظ خاطر رکھتی رہی ہیں… سعودیوں نے بھی اس مرتبہ وسیع تر مفادات کے لیے ان باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا… کچھ لوگ اگر اسے ’’دوغلاپن‘‘ کہیں تو انہیں ایک مثال دی جاسکتی ہے… مولانا عبدالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر کا ایک واقعہ ہے کہ دونوں کے سیاسی خیالات میں جب شدید اختلاف پیدا ہوگیا تو محمد علی جوہر نے پرانی حکمت عملی کے برعکس برطانوی حکومت ہند کی ایک تقریب میں شرکت کی … مولانا آزاد نے اپنے رسالے ’’الہلال‘‘ میں انہیں دوغلا ہونے کا الزام حافظ شیرازی کے ان اشعار سے لگایا …؎
معشوق مابہ شیوہ ہر کس موافق است
باما شراب خورد‘ وبہ زاہد نماز کرد
حافظا گر وصل خواہی صلح کن بہ خاص وعام
با مسلماں اللہ اللہ ‘ بابر ہمن رام رام
محمد علی جوہر نے اس کا شعری جواب یوں دیا کہ
برکف جام شریعت ‘ برکف سندان عشق
ہر ہوسنا کے نداند جام وسندان باختن
یعنی میرے ایک ہاتھ میں باطل پرستی کا جام ہے اور دوسرے ہاتھ میں حق پرستی کی سندان یعنی Anvil ہے… خواہشات کا ہر پجاری نازک جام اور سخت سندان کو ٹکرانے کی اہلیت نہیں رکھتا… یہ مشکل کام سمجھدار آدمی ہی کرسکتا ہے… سندان کا مطلب کالم پڑھنے والوں کو بتا دوں کہ اس پر گرم لوہے کو رکھ کر لوہار ہتھوڑے سے چوٹ لگا کر لوہے کو کسی خاص شکل میں ڈھا لیتے ہیں… اسی حوالے سے ایک محاورہ بھی ہے کہ گرم لوہے پر چوٹ لگانی چاہیے ورنہ لوہا ٹھنڈا ہو جائے تو مشکل پیش آتی ہے … ہماری مشکل یہ ہے کہ ہمیں ایک ہاتھ میں باطل پرستی کا جام تو اٹھانا پڑتا ہے اور حق پرستی بھی ہم چھوڑ نہیں سکتے… مگر ان کو ٹکرانے کا آرٹ ہمیں معلوم نہیں … سابق صدر پرویز مشرف کی امریکہ کے ساتھ فرنٹ لائن اتحادی بننے کے فیصلے کی مثال بھی دی جاسکتی ہے… اور اس طرح کے فیصلوں سے ہم اپنے ہاتھ ہی پکڑا ہوا جام کرچی کرچی کر لیتے ہیں اور یہ کام چونکہ کوئی سمجھدار آدمی ہی کرسکتا ہے لہذا ہمارے ہاں یہ کام کرنے والا کوئی ہے نہیں … حتی کہ لوہے کا کام کرنے والے بھی سعودیہ میں ناکام نظرآئے ہیں… جبکہ وزیراعظم ‘ وزیرخارجہ بھی ہیں… جبکہ سعودیہ نے اس مرتبہ ٹرمپ کو ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ رقص بھی کروایا اور ان کی گردن میں سونے کا تمغہ بھی ڈالا اور کامیاب خارجہ پالیسی اختیار کر کے اپنے مفادات کا خیال رکھا مگر اس ساری کارروائی میں سوال یہ ہے کہ ہم کہاں تھے ؟ اور اگر کہیں نہیں تھے تو کیا ہمیں یہ غیرت اب آ چکی ہے کہ ہمیں اپنے مفادات کا خیال آئے گا اور معاف کیجئے گا میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے مفادات اور تحفظ کی بات نہیں کر رہی وہ تو اب بھی مشکل میں پڑے تو سعودیہ ان کے لئے اپنے سارے وسائل بروئے کار لا کر انہیں تحفظ دے گا۔ میں ملکی و قومی مفادات کی کر رہی ہوں اور پھر وزیراعظم سعودیہ کے اتنے ممنون احسان ہیں کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے مگر یہ سچ ہے کہ اب یہ بات سوچنے کا وقت آ گیا ہے کہ حکمرانوں کی سوچ خالصتاً قومی مفادات کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہئے اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر وزیر خارجہ اور خارجہ امور کی پالیسی کو بہتر بنانے بارے سوچنا چاہئے کیونکہ امریکہ نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ ہمارا ملک دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے بھارت کا نام لیا ہے اور پھر ان سب حالات میں یہ تصور کرنا کہ سعودی عرب میں امریکہ کے صدر ٹرمپ کے خوش خیال اور خوش جمال دورے کے بعد مذہبی ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے اور دنیا میں سب اچھا ہونے جا رہا ہے تو یہ محض خام خیالی ہی ہے۔ کیونکہ مانچسٹر میں ہونے والے دھماکے میں داعش کے ملوث ہونے پر بات ہو رہی ہے اور بات یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی تنظیموں کو اسلحہ کون فراہم کر رہاہے اور اسلحہ کی بیوپاری میں اکانومی ہی کو کیسے ٹھیک کر لیا جاتا ہے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے اور اس سارے قصے میں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر بھی فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ آج سعودیہ نے اپنے دوست یعنی پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ برتی گئی بے اعتنائی کا نوٹس نہیں لیا تو ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ اپنی جگہ رکھنا چاہئے مگر سعودی عرب نے میزبان بن کر جس شاہانہ انداز میں مہمان نوازی کی تھی اس کا احسان اپنی جگہ پر شامل ہے۔ مجھے 1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس یاد آ رہی تھی جب ہر مسلم سربراہ سے ان کی کسی خاص ہدایت کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور اس سہولت کے تحت شاہ فیصل نے قطب نما آلہ کی فرمائش کی تھی تاکہ نماز ادا کرتے وقت وہ قبلے کی درست سمت کا خود اپنی آنکھوں سے تعین اور یقین کر سکیں۔ وہ کانفرنس ذوالفقار علی بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی کا حصہ تھی۔ وزیراعظم نواز شریف سے سعودیہ میں ان کی طرف سے کسی خاص ہدایت کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ قبلہ اب امریکہ کے پلڑے سے نکل کر ہی درست کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی ٹھیک کرنے والا ہے کیونکہ ٹرمپ نے امریکی فوجی امداد قرضے میں بدلنے کی تجویز دی ہے اور یہ تجویز بھارت اور اسرائیل کے لئے نہیں ہے۔ اپنا خیال رکھیئے گا۔