امریکی ڈرون حملہ

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
امریکی ڈرون حملہ

پاکستان خارجی محاذ پر ایک بار پھر غیر واضح ہے اور کائونٹر سٹریٹجی تو کبھی ہماری ہوتی ہی نہیں۔ ہم ہمیشہ انتظار کرتے ہیں کہ دوسرے ملک ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ پھر کئی روز خا موش مذمتوں کے بعد جی حضوری سے کام چلا لیتے ہیں۔ اس حکومت کی خارجہ پالیسی ہو بھی کیا سکتی ہے۔ جس ملک کے پاس وزیر خارجہ تک نہ ہو اور جس ملک کا وزیراعظم ملک کی سلامتی کے خلاف ایکشن کا بیان کسی دوسرے ملک میں میڈیا سے بات چیت میں دے رہا ہو۔ المیہ یہ ہو کہ ملک کے وزیر داخلہ کو یہ نہ پتہ ہو کہ افغانستان کو انگور اڈا کیوں دیا گیا ہے۔ انگور اڈا جو اس وقت پاکستان نے افغانستان کے حوالے کیا ہے۔ اس ایریا میں ایک چیک پوسٹ افغانستان کی تھی اور ایک پاکستان کی تھی مگر افغانستان میں جاری جنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے افغان فورسز وہاں سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ جس پر بعد میں پاکستان فورسز نے انتظامات کئے۔ تب سے وہ چیک پوسٹ پاکستان کے پاس تھی۔ اب افغانستان کے واپس مانگنے پر انہیں مثبت پیغام کے طور پر واپس کی گئی۔ یہ بات وزیر داخلہ کو خبروں سے بھی پتہ نہیں چلی۔ آخر وزیراعظم کو خط لکھ دیا۔

پاکستان جو اس وقت افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کر رہا تھا اور ایک بڑا فریق بھی ہے۔ اس کی اپنی سلامتی کو امریکہ کی جانب سے ڈرون حملہ کر کے چیلنج کیا گیا ہے۔ امریکہ نے بلوچستان کے علاقے نوشکی کے قریب ڈرون حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ ملا اختر منصور ایران سے پاکستان میں داخل ہوا اور ملا اختر منصو ر جعلی پاکستانی پاسپورٹ پر مگر اصلی ایرانی ویزے پر ایران گیا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ملا اختر منصور ایران بیس افغان طالبان سے مستقبل کے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے گیا تھا۔ مگر نیو یارک ٹائمز میں رپورٹ ہوا ہے کہ ملا اختر منصور میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئے گیا تھا اور ملا اختر کے ایران آنے جانے کو ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیز واچ کرتی رہیں اور جب وہ ایران سے افغانستان جا رہا تھا اور تفتان سے پاکستان داخل ہوا۔ عین اس وقت اس کی گاڑی جو کہ اس نے ایران سے کرائے پر لی تھی اس پر ڈرون حملہ کر دیا گیا۔ ایران ایک بار پھر گریٹ گیم کا حصہ بن چکا ہے۔ اور اس سے پہلے بھارتی ایجنٹ بھوشن یادیو بھی ایران سے پاکستان داخل ہوتا تھا۔ ایران نے ملا منصو ر کی ریکی کی اطلاع دیرپا مفاد کیلئے دی ہے۔ اس سے ایران نے تین پلیئر کو خوش کردیا ہے اور ان کا اعتماد بھی حاصل کرلیا ہے۔ ایران امریکہ کا اعتماد حاصل کرنا چا ہتا تھا تاکہ وہ مستقبل کیلئے مزید دو طرفہ تعاون کیلئے آگے بڑھ سکیں۔ اور دوسرا افغان حکومت کی سر درد افغان طالبان کے خلاف اتنی بڑی کارروائی سے افغان حکومت کا اعتماد حاصل کرسکے۔ اور تیسرا پاکستان کی سرزمین پر ایسی کارروائی سے انڈیا کو بھی خوش کر سکے۔ مگر امریکی ڈرون حملے اور ملا اختر منصور کی ہلاکت میں پاکستان کیلئے دو بڑے الارمنگ پیغام ہیں۔
ایک امریکی صدر بارک اوبامہ نے کہا ہے کہ جب بھی خطرہ ہوا پاکستان میں کارروائیاں کرینگے۔ دوسرا بلوچستان میں جنداللہ ایران مخالف گروپ موجود ہے جس کے خلاف ایران پاکستان کو pressureizeکر سکتا ہے ۔
بلوچستان میں سی پیک منصوبہ جو کہ دشمنوں کے حلق میں اٹکا ہوا ہے۔ اس کو ناکام بنانے کا ایک قدم ہے کیونکہ اب دنیا کو بتایا جائیگا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے سیف ہیون ہیں لہٰذا یہاں مزید کورس آف ایکشن ہونا چاہیے۔ اوباما پہلے ہی انتباہ کر چکے ہیں اس کا اندازہ پاکستان مخالف اور سی پیک مخالف اتحاد جسے''چاہ بہار معاہدہ ''کہتے سے لگایا جاسکتا ہے ۔ یہ معاہدہ انڈیا ایران اور افغانستان کے درمیان طے پایا ہے۔ یہ بھی پاک چائنہ اقتصادی راہداری طرز کا منصوبہ ہے پاکستان کو تنہا کرنے کی ایک اور سازش بھی کی جا رہی ہے۔
افغانستان بھی اس نئی محاذ آرائی کا کہیں نہ کہیں حصہ ہے ۔ وال سٹریٹ جنرل کی سٹوری کے مطابق افغان طالبان کو افغان حکومت ملٹری اور فنانشل سپورٹ کر رہی ہے ۔ جبکہ حکومت پاکستان نے امریکی ڈرون حملے پر نہ صرف تحفظات کا اظہا ر کیا ہے بلکہ اسکو پاکستان کی سلامتی کے خلاف قرار دیاہے ۔آرمی چیف نے امریکی سفیر کو بلاکر اہم پیغام دیا ہے کہ ڈرون حملے پاک امریکہ تعلقات کو متا ثر کر سکتے ہیں۔امریکہ جو کہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف ایکشن کو نہ صرف سپورٹ کر رہا تھا بلکہ تعریف کر رہا تھا اچانک سے امریکی رویے میں تبدیلی آئی ہے اور سب سے پہلے F-16 د ینے کے فیصلے کو مشرو ط کیا اور بعد میں پاکستان کو ملنے والی امداد بھی حقانی نیٹ ورک اور شکیل آفریدی کی رہا ئی سے مشروط کر دی۔اس کے پیچھے انڈین لابی جو امریکہ میں پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اس کا بھی اہم کردار ہے مگر پاکستان کو اب ڈو مور پر عمل کی بجائے امریکہ کو واضح پیغام دینا ہو گا۔اور خارجہ پالیسی کو مضبوط کرنا ہو گا،ورنہ یہ چیلنجز بڑھتے جائیں گے۔