”وہ“ خود نہیں ”انکے“ فیصلے بولتے ہیں

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں اور اس سے بھی انکار محال ہے کہ دنیا بھر میں اس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کا چند مسائی قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن کارخانہ کائنات کے بنیادی اصول اور حیات انسانی کی بعض قدریں اپنی اپنی جگہ پر پہاڑ کی طرح اٹل قائم و دائم ہے ان میں دنیا بھر کے مختلف ممالک اور معاشروں میں ایک قدر مشترک شہریوں کو انصاف مہیا کرنا ہے۔ ایک دوسری قدر مشترک جو کسی بھی حکومت کے سر فرائض میں شامل ہے وہ ریاست کے ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت ہے آج کے ”قندیل“ کی فوری محرک وہ شہہ سرخیاں ہیں جو تمام قومی اخبارات عدلیہ کی اعلیٰ ترین شخصیات سے منسوب کرتے ہوئے انگریزی اور اردو اخبارات کے صفحہ اول پر شائع کی ہیں۔ وقائع نگار خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک ایجنسیوں کے حومالے سے فاضل چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ ”انصاف کیا جائے گا چاہے قیامت ہی کیوں نہ برپا ہو جائے“ انگریزی اخباروں نے یوں رپورٹ کیا ہے کہ ”دی چیف جسٹس آف پاکستان \\\"The chief Justice of Pakistan has said that justice will be delivered at all costs even if the sky may fall down\\\" ”اسی طرح اٹک سے مانیٹرنگ نیوز وقت اور اے پی پی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے یہ بیان منسوب کیا ہے کہ حکومتیں عدالتی فیصلوں پر سرِتسلیم خم کریں اگر کسی نے عدلیہ پر شب خون مارا تو وکلاءپہلے کی طرح تیار ہیں اور سپہ سالار ایک ہی ہوتا ہے اور یہ چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے گا“ یہ خاکسار ان اخباری بیانات پر جو فاضل چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے چیمبر میں وکلاءکے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اظہار خیال فرمایا اور فاضل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں کئی دیگر جج صاحبان اور راولپنڈی ڈویژن کے بار کے صدر اور وکلاءبھی موجود تھے کسی قسم کا تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں مبادہ کسی ناکردہ جرم یا ارادہ جرم کی گرفت میں نہ آ جاو¿ں اس لئے آج کل کے موجودہ حالات میں حتیٰ المقدور احتیاط لازم ہے علاوہ ازیں ہر سطح کی عدلیہ کا احترام میرے ایمان کا حصہ ہے جس کی میری طویل صحافتی زندگی کا ریکارڈ شاید ہے۔ یہ عرض کر چکنے کے بعد نہایت ادب سے فاضل عدلیہ کے تمام ارکان بشمول سپہ سالار عدلیہ (اگرچہ اصطلاع کم از کم اس خاکسار کے لئے نئی ہے اور ہر حکومتی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حکومت میں بہت سے سپہ سالار پیدا ہو جانے سے مزید کنفیوژن پیدا ہو سکتا ہے) خاکسار یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہے کہ صدیوں پرانے اور جدید دور میں عدلیہ کے ضابطوں میں ایک قدر مشترک کی سختی سے پابندی کی جا رہی ہے جو یہ ہے کہ فاضل جج صاحبان اپنے فرائض کی ادائیگی اور مظلوموں کی داد رسی کے بعد انصاف کی فراہمی اپنے سامنے درپیش مقدمات کے فیصلوں کے ذریعے کرتے ہوئے ان معاملات پر مختلف نوعیت کی نجی اور سماجی تقاریب میں کم سے کم لب کشا ہوتے ہیں۔ یہ خاکسار اپنی زندگی کے سات دہائی سے اوپر ذاتی تجربہ کی بناءپر جبکہ میں 1939ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تھا ہندوستان پاکستان، برطانیہ اور امریکہ کے اعلیٰ عدلیہ کے ارکان کے کردار کا مطالعہ کرنے کے بعد صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ ان تمام ممالک کے عوام کی اکثریت اپنے چیف جسٹس کے نام سے بھی ناواقف ہوتی ہے اور خاکسار نے شاذو نادر ہی اخبارات میں ان کے نام یا تصاویر کا مشاہدہ کیا ہے۔ دوسری بات جو نہایت ادب سے عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خاکسار نے بیرونی اخبارات میں کبھی بھی عدلیہ کے سامنے مقدمات کے بارے میں جج صاحبان کے درمیان کسی بھی چھوٹے یا بڑے بینچ یا فل بنچ کے ممبران کے درمیان صلاح مشوروں کا ذکر اس انداز میں جو پاکستان کا پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا پیش کرتا ہے نہ کبھی سنا نہ پڑھا اور جس انداز میں .... مقدمات کے بارے میں رائے زنی تبصرے بلکہ فیصلہ سے پہلے حتمی فیصلے اخباروں اور ٹیلی ویژن چینلز پر سنائے جاتے ہیں خاکسار کے لئے مقام حیرت ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ نے اس کا کبھی نوٹس نہیں لیا۔ اس حقیر فقیر کی رائے میں عدلیہ کی آزادی کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہر وکیل اور ہر بار کونسل نہ صرف عدلیہ بلکہ حکومت کے فرائض بھی سرانجام دینا اپنا فرض سمجھ کر وہ رول ادا کرے جو اب ماد پدر آزادی کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ آخر میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ماتحت عدلیہ کے معزز جج صاحبان نے مختلف نجی اور سماجی تقاریب میں انصاف کے بول بالا کی شمع روشن کرنے کے لئے سینئر عدلیہ کے سالاروں کے نقشِ قدم پر بیانات جاری کرنے کی رسم کو زیادہ ہوا نہیں دی اور ماتحت عدلیہ اپنی پرانی روش پر قائم ہے کہ جج صاحبان صرف اور صرف اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں۔