کہاں گیا وہ سکون قلب؟

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

تمامتر حکومتی دعوے اور بڑھکوں کے باوجود گزشتہ اتوار ایک سخت اور طویل لوڈ شیڈنگ کا دن تھا . مزید بد قسمتی یہ کہ موسم سخت گرم رہا۔ لوڈ شیڈنگ اتنی طویل کہ UPSجیسے بجلی کے عارضی سہارے بھی جواب دے گئے۔ ہمارے جیسے بوڑھے بیمار لوگوں اور بچوں کیلئے ایسا موسم یقینا کسی عذاب سے کم نہیںہوتا جو ہمیں بہرحال برداشت کرنا ہے۔ اس گرم موسم میں چند مہمان بھی تشریف لائے جن کی گرم پانی سے تواضع کرنے کے علاوہ چارہ نہ تھا۔گرمی سے مجبور اور پسینے میں شرابورمیزبانوں اور مہمانوں نے ملکر حکمرانوں کو کوسنا شروع کر دیا۔ بات لوڈ شیڈنگ سے ہوتی ہوئی مہنگائی کی طرف چل نکلی۔ مختلف اشیاء کی قیمتیں سن کر ہی ذہن مائوف ہونے لگا ۔ لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کیخلاف ہم جتنی بد دعائیں کر سکتے تھے‘ کیں لیکن بد دعائوں سے مسئلہ حل ہونا تھا نہ ہوا اور نہ حل ہونے کی امید ہے۔ بددعائیں سن کر مجھے زندگی کا وہ سنہری دور یاد آیا جب1963-64 میں پشاور یونیورسٹی میں ایم اے کا طالب علم تھا‘ ہمارا ہوسٹل کا کل خرچ مبلغ 19/- روپے ماہانہ ہوتا تھا‘ کپڑے‘ کتابیں اور باقی سارا خرچہ ملا کر کل چالیس یا پچاس روپے سے زیادہ کبھی نہ تھا۔
ہمارے دور سے ذرا اور پیچھے جائیں تو اس دور میں انگریز فوج کے سپاہی کی تنخواہ5/-روپے ماہانہ تھی اور پھر سات روپے ہوئی ۔ کشمیر کا مشہور مہاراجہ گلاب سنگھ اپنی نو عمری میں ’’گلابو‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اوروہ اڑھائی روپے ماہانہ پر سکھ فوج میں ملازم ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ہر چیز سستی ہوتی تھی۔ شاید ضروریات زندگی بھی بہت محدود تھیں۔ بھارت کے مشہور جرنیل پر تاب نارائن نے اپنی سوانح عمری \\\"From Subedar to Field Marshal\\\" میں لکھا ہے کہ 1936میں اُسے50/- روپے ماہانہ الائونس ملا تو وہ بہت خوش ہوا۔ دفتر سے گھر واپس جاتے ہوئے راستے میں اُس کی گاڑی خراب ہوگئی جسے اُس نے مستری کے پاس چھوڑا اور خود بنگلور کے سب سے مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے چلا گیا۔ وہاں اس نے ’’تھالی لنچ‘‘ کا آرڈر دیا۔ یاد رہے کہ ہندو ’’تھالی کھانا‘‘ ہی پسند کرتے ہیں۔ یہ تھالی لنچ چھ ڈشز پر مشتمل تھا۔ اس میں چاولوں پر ڈالنے کیلئے دیسی گھی کا بھرا ایک پیالہ بھی تھا۔ کھانے کے بعد اِس Lavish کھانے کا کل بل صرف چھ پیسے تھا۔
Gates of India by Col. Sir Thomas Holdichمیں ایک1830کا واقعہ کچھ اس طرح درج ہے کہ میسن Massonنامی امریکن سیاح ہندوستان آیا ۔ یہ شخص راجستھان سے سندھ میں داخل ہوا اور بعد میں سندھ ،پنجاب ، بلوچستان ، افغانستان اور روسی ترکستان تک گیا ۔ اس کا سفر چونکہ پیدل تھا اس لیے اسکے مشاہدات دلچسپ بھی ہیں اور بعض اوقات خاص کر موجودہ دور کے تناظر میں باعث تعجب بھی۔ جب یہ شخص سندھ میں داخل ہوا تواس نے بھیس بدل کر اپنے آپ کو منگول ظاہر کیا کیونکہ اُس وقت علاقے میں منگول تھے اور کسی نے اس پر شک نہ کیا۔ اُس وقت تک سندھ میں بعض مقامات پر عرب بستیاں بھی موجود تھیں اور ان کا طرزِ رہائش ، لباس اور زبان تک مقامی لوگوں سے قدرے مختلف تھی۔ یہ لوگ تاحال مقامی آبادی میں پوری طرح مدغم نہیں ہوئے تھے ۔ میسن سندھ میں سیاحت کرتا کرتا ریاست بہاولپور میں داخل ہوا ۔
بہاولپور میں گھوم پھر کریہ شخص فاضل پور نامی ایک گائوں میں پہنچا ۔ یہاں اس کی ملاقات رحمت خان نامی ایک چھوٹے سے زمیندار سے ہوئی۔ رحمت خان بڑا خوش باش اور کھلے دل کا مہمان نواز قسم کا شخص تھا ۔ لہٰذا میسن کو اُس نے اپنا مہمان بنایا اور خوب خدمت کی ۔میسن کو روزانہ دھلے دھلائے کپڑے ملتے، اچھا کھانا ملتا، سونے کیلئے آرام دہ بستر ، موسم قابل برداشت ، ارد گرد ہریالی تو میسن کو یہ جگہ بڑی پسند آئی۔ وہ ویسے بھی پیدل چل چل کر تنگ آ چکا تھا ۔ غیر مناسب اور غیر متوازن خوراک ، دریا کا پانی ، ظالم موسم کی وجہ سے بے حال تھا۔ یہاں اُسے آرام ملا اور اچھی میزبانی بھی تووہ یہاں ایک ماہ رکا رہا۔ اس دوران وہ جسمانی طور پر کافی حد تک سنبھل گیا تو اُس نے لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔ روانگی سے پہلے رحمت خان نے اپنے مہمان کی شاندار ضیافت کی اور کھانے کے بعد رات کو ناچ والی لڑکیاں بلائیں ۔ ماحول ایک بڑی تقریب میں بدل گیا۔ اس ساری تقریب پر ایک روپیہ خرچ ہوا۔
روانگی سے پہلے رحمت خان نے اپنے مہمان کی مدد کرنا چاہی لیکن اُس کے پاس نقدی نہ تھی ۔ اُس نے ایک ہندو بنئیے سے دو روپے اُدھار لیے اور صبح بوقت روانگی اپنے مہمان کو پیش کیے ۔ میسن فاضل پور سے چل کر ایک ہفتے میں ملتان پہنچا۔ یہاں سے وہ دریائے راوی کے ساتھ ساتھ لاہور روانہ ہوا۔ فاضل پور سے لاہور تک تقریباً 360میل کا راستہ اُس نے ساڑھے تین ماہ میں طے کیا۔ اُس کے پاس ان دو روپوں کے علاوہ کوئی نقدی نہ تھی۔ راستے میں کھانے پینے ، رہائش اور باقی اخراجات کو نکال کر جب وہ لاہور پہنچا تو اُس کے پاس 8آنے یعنی آدھا روپیہ باقی تھا۔
آجکل کے دور میں یہ سب کچھ کسی معجزے سے کم نظر نہیں آتا کیونکہ مہنگائی نے لوگوں کی سوچ ہی مفلوج کردی ہے۔ آج وہ زمانہ ہے کہ 2روپے فقیر بھی بھیک کے طور پر قبول نہیں کرتا لیکن اُس دور میں 2روپے ایک خطیر رقم تھی ۔
تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے اسے مختلف نام دئیے گئے ہیں مثلاً پتھر کا زمانہ، دھات کا زمانہ وغیرہ تو موجودہ دور کو ’’سہولتوں اور مہنگائی کا زمانہ‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ دور کے انسان کو جو سہولتیں آج حاصل ہیں انکا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھالیکن ان سہولتوں کے پردے میں مہنگائی، پریشانیاں اور ٹینشن بھی ہمارے اسی دور کا خاصہ ہے جسکا اس دور میں ادراک نہ تھا۔ اس دور میں پیسہ واقعی نہ تھا لیکن زندگی بہت پر سکون تھی ۔ آج ہم تمامتر سہولتوں ،عیاشیوں اور بے پناہ دولت کے باوجود اس سکون قلب سے محروم ہیں جو ہمارے آبائو اجداد کو میسر تھا۔