پنجاب رضا کار کنونشن اور ہفتہ رضاکاریت کا افتتاح

لاہور میں 24 مئی 2010ءکو قصر ذوق میں قومی رضاکار تحریک کے زیر اہتمام پنجاب رضاکار کنونشن اور ہفتہ رضاکاریت کا افتتاح ہوا جس کی کارروائی مختلف انداز میں اس تحریک کے گوناگوں شعبوں کے آئندہ پروگرام کا جائزہ لینے کے لئے 28 مئی تک جاری رہے گی۔ آج اس تقریب میں نوجوان اور نوعمر طلبا و طالبات کی بھاری تعداد موجود تھی، پنجاب یونیورسٹی نے بھی بھرپور تعاون کیا تھا جس کا اندازہ اس یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کی تعداد سے لگایا جا سکتا تھا۔ وفاقی وزیر برائے امور نوجواناں اور قومی رضاکار تحریک کے چیئرمین شاہد حسین بھٹو مہمان خصوصی تھے۔ وفاقی وزیر شاہد حسین بھٹو کی آمد پر سوا گیارہ بجے شروع ہوئی مگر تلاوت قرآن مجید اور ہدیہ نعت کے بعد جب اعلان کیا گیا کہ اب قومی ترانہ ہو گا تو قومی ترانہ پیش کرنے کی بجائے دو نوجوانوں نے ایک ملی نغمہ ”اے وطن پیارے وطن“ سنایا اور اس کے بعد اس تحریک کے ڈائریکٹر جنرل نذر حسین نذر نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ رضاکار تحریک اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے کہ صوبائی اور علاقائی سطح پر رضاکاریت کو فروغ دینے کی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج وفاقی وزیر برائے نوجواناں شاہد حسین بھٹو اس کنونشن کا افتتاح کر رہے ہیں اور میں کنونشن کے شرکاءپر ایک بار پھر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ رضاکاریت کا مطلب اپنی ذاتی خواہشات کو محدود کر کے دیگر بنی نوع انسان کے کام آنا تصور کیا جاتا ہے۔ ہم نوجوانوں کے اندر وہ جذبہ پیدا کر دینے کے لئے کوشاں ہیں کہ ایک ایک فرد اپنے اندر رضاکاریت کی سرشاری پیدا کر کے پوری ملت کا درد محسوس کر لینے کی صلاحیت پیدا کر لے، جب دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی ایٹمی بموں سے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساقی کو تباہ کر کے جاپان میں زندگی کو مفلوج کر دیا گیا تو اسی جذبہ رضاکاریت سے قوم کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا گیا، وفاقی وزیر شاہد حسین بھٹو نے بھی رواں اردو میں ایک ایسی تقریر کی جو ان کے ایک پکا مسلمان ہونے کی جھلک بھی پیش کر رہی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ آج رضاکاریت کے فروغ کے باب میں جس ہفتے کا آغاز کیا جا رہا ہے اس میں آپ کی شرکت بڑی نتیجہ خیز اور اہم ثابت ہو گی، اس وقت پاکستان ایک اچھے وقت سے تو نہیں گزر رہا مگر اس کے باوجود دوسروں کے لئے کام کرنے کا جذبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ لہٰذا اس کنونشن میں نوجوانوں کی شرکت کو میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، ہمارا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اگر رضاکارانہ انداز میں کام کرنے کے لئے کچھ اور ادارے بھی میدان میں اترے ہوئے ہیں تو ہم ان کے ساتھ اپنی کوشش کو ہم آہنگ مربوط کر کے ایک ہی چھتری کے نیچے اس عظیم کام کے فروغ و ترقی کے لئے سرگرم ہو جائیں۔