پاکستان میں جعلی ڈگریوں کا مسئلہ … (۲)

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

آج اس یونیورسٹی کو حکومت کا چارٹر مل چکا ہے تو اس نے گذشتہ دس سال سے جاری کردہ ہزاروں طالب علموں کی غیر قانونی ڈگریوں کا 50 ہزار سے لیکر 80 ہزار روپے کے عوض دوبارہ قانونی طور پر اجراء کیا۔ پاکستان کے اکثر بیورو کریٹس، غیر ملکی سفارت کار اس یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔
پاکستان میں نجی شعبوں میں قائم بہت ساری یونیورسٹیوں کے چارٹر کسی ایک صوبے کے نام پر ہیں مگر انہوں نے دوسرے صوبوں یا اسلام آباد میں اپنے غیرقانونی کیمپس قائم رکھے ہیں ایسی ہی ایک قائداعظم کے نام پر قائم کردہ پرائیویٹ یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر نے سینکڑوں ڈگریاں فروخت کیں تو اس یونیورسٹی کے مالکان نے اس ڈائریکٹر کو جیل یاترا کرا دی۔ سب سے پہلے پاکستان میں جعلی ڈگریوں کا کاروبار ایک زرخیز دماغ کے حامل فیصل آباد کے کسی محکمے کے کلرک کے ذہن میں آیا۔ وہ کئی دفعہ پکڑے گئے مگر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی باعزت بری ہو جاتے تھے۔
مرنے سے پہلے انکے دوستوں نے ان سے سوال کیا کہ اقبال صاحب آپ تمام عمر جعلی ڈگریوں کی فروخت کا کام کرتے رہے ہیں مگر آپ کا پولیس‘ ایف آئی اے حتیٰ کہ عدالتیں بھی بال بیکا نہیں کر سکیں تو انہوں نے جواب دیا کہ پولیس افسران بیورو کریسی حتیٰ کہ پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے اکثر جج صاحبان میرے شاگرد ہیں۔ وہ کیسے اپنے استاد کو جیل میں بھجوا سکتے ہیں۔
سندھ کے ایک سابق وزیر تعلیم غلام مصطفیٰ شاہ مرحوم کا یہ مؤقف تھا کہ پنجاب کے نوجوانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سندھ کے نوجوانوں کیلئے ہر حال میں ڈگریوں کا حصول ممکن بنایا جائے تاکہ وہ وفاق کی ملازمتیں حاصل کرنے کے اہل ہوں چنانچہ سندھ میں نقل کرکے امتحان پاس کرنے کو سندھ کے نوجوانوں کا استحقاق تسلیم کرلیا گیا چنانچہ پنجاب کے اکثر نوجوان جو محدود نقل کے باوجود پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس نہیں کر پاتے تھے وہ کھلی نقل کے ذریعے کراچی اور حیدرآباد کا رخ کرتے اور سندھ یونیورسٹی سے سرعام نقل کرکے ایل ایل بی کا امتحان پاس کرلیتے تھے۔
آج بھی پاکستان کے نامور وکلاء کی اکثریت بذریعہ نقل ایل ایل بی ڈگری حاصل کرکے پاکستان میں نمایاں عہدوں پر فائز ہے۔
پنجاب میں شہباز شریف کے پہلے دور حکومت میں سنٹروں میں نقل کرنے کیخلاف پولیس ایکشن کی وجہ سے نقل کے ذریعے یا کسی دوسرے شخص کو اپنی جگہ امتحان دلوانا بہت بڑا رسک بن چکا ہے۔ راولپنڈی کے حاجی پرویز کواپنی جگہ اپنے بھتیجے کو امتحان میں بٹھانے کی پاداش میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے آج اگر نغمانہ مشتاق اجمل آصف کو جعلی ڈگری ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے دوبارہ ٹکٹ دے کر غیر اصولی حرکت کی ہے‘ حاجی صاحب کا جرم ان دونوں سے چھوٹا ہے اور کسی بھی عدالت میں ثابت نہیں ہو سکتا تھا لہٰذا ملک شکیل اعوان کو استعفیٰ دلوا کر یہ نشست دوبارہ حاجی صاحب کو پیش کرنی چاہئے۔
قارئین جس ملک میں جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، جعلی خوراک جعلی دوائیاں ہر طرف وافر مقدار میں موجود ہوں وہاں اگر جعلی ڈگریوں کے حامل پارلیمنٹیرین بھی موجود ہیں تو کون سی اچنبھے کی بات ہے؟ تاہم ایک ان پڑھ ممبر اسمبلی قوم کیلئے اتنا نقصان دہ نہیں ہے۔ جتنا ایک جعلی ڈگری ہولڈر کالم نگار اینکرپرسن ڈاکٹر استاد یا یونیورسٹی کالج کا پرنسپل ہو سکتا ہے کیونکہ ایسے افراد براہ راست نئی نسل کی سوچ اور شعور کو متاثر کرتے ہیں۔
………………… (ختم شد)