قابل تقلید کاوش

ڈاکٹر علی اکبر الازہری ۔۔۔
گذشتہ دنوں رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں دو روزہ سیمینار منعقد ہوا۔ پانچ نشستوں پر مشتمل اس علمی ادبی سیمینار کا موضوع ’’برعظیم پاک و ہند کا صوفیانہ ادب اور عہد جدید پر اسکے اثرات‘‘ تھا۔ ملک کی چھوٹی بڑی جامعات میں سیمینار اور مجالس مذاکرہ وغیرہ تو آئے روز ہوتے رہتے ہیں مگر درج ذیل تین حوالوں سے یہ نشستیں قابلِ تقلید تھیں۔
اس سیمینار کی پہلی انفرادیت اس کا پرمغز موضوع تھا جس کا انتخاب حالات اور ضرورت کے عین مطابق کیا گیا تھا۔ عالم اسلام میں بالعموم اور برعظیم پاک و ہند میں بالخصوص صوفیاء کی تبلیغی دعوتی اور علمی و روحانی خدمات ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہیں۔ پہلی صدی ہجری میں ہندوستان کی سر زمین میں قدم رکھنے والے ساداتِ نبوی ؐ کے چشم و چراغ سید عبد اللہ شاہ غازی (کراچی)، پیر سید عبدالرحمن (جھنگ) اور عبداللہ شاہ صحابی (ٹھٹھہ) ہوں یا افغانستان کے راستے آنیوالے سید علی بن عثمان ہجویری، سید معین الدین چشتی اجمیری، خواجہ بہاو الدین زکریا ملتانی اور لعل شہباز قلندر ؒجیسے بیسیوں حضرات، جو ایک سے بڑھ کر ایک اسلام کے پیغام محبت و امن کی عملی تصویر تھے۔ جنہوں نے سلاطین اسلام کی تلواروں سے فتح ہونیوالے سروں کو ایمان کی چاشنی سے نواز کر ہمیشہ کیلئے خدا کے حضور جھکا دیا۔ جو فاتحین کے برعکس علاقوں کو نہیں دلوں کو فتح کرنے پر توجہ مرکوز رکھتے تھے‘ جن کے انسان دوستی سے گندھے ہوئے پاکیزہ کردار دیکھ کر یہاں کے راجاؤں اور جاٹوں نے اپنے ہزاروں سالہ دھرم دھتکار دئیے۔ جن کی روح پرور محافل اور علمی مجالس میں ہر ایک کو بیٹھنے کی اجازت تھی اور انکی نظر کرم ابر بہار کی صورت سب پر یکساں مہربان رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کفر و شرک سے لت پت وجود انکے روحانی شفا خانوں سے یوں اُجلے ہو کر نکلتے کہ دنوں اور مہینوں میں ان سے اسوۂ حسنۂ نبویؐ کی مہک آنے لگتی۔
مذکورہ بالا بزرگان دین سربکف مجاہدین اسلام تھے۔وطن مالوف رشتہ دار اور د نیوی مفادات تج کر انہوں نے دین کی نصرت فرمائی۔ انکی نظر قیادت و سیادت پر تھی اور نہ دنیوی جاہ و حشمت پر۔ ان کا مقصود حکومت تھی اور نہ مال و دولت کے انبار۔ وہ اول وآخر اللہ کے بے لوث اور بے خوف سپاہی تھے۔ انکے وصال کو صدیاں گزرگئیں لیکن انکے مزارات آج بھی انوارِ الٰہیہ کے مظہر ہیں۔ وہ ہمارے درمیان جسدًا موجود نہیں مگر ان کی تعلیمات ایسے روشن چراغ ہیں جو آج بھی ہماری تاریک زندگیوں میں جگمگا رہے ہیں۔ کردار کی برکت سے انکی مختصر بات میں بھی اثر تھا جبکہ ہماری تحریر و تقریر کے دفتر بھی تاثیر کی نعمت سے محروم ہیں۔ انکی تعلیمات انکے ملفوظات، مکتوبات تصنیفات اور منظوم کلام کی صورت میں آج بھی ترو تازہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلیمات کو عام کیا جائے، معاشی ترقی کی دوڑ نے انسان سے انسانیت چھین کر اسے احساس مروت کے بغیر ایک متحرک مشین بنا دیا ہے۔ اس لیے وہ عموماً مضطرب اور ڈپرس رہتا ہے۔ اسکی روح مادہ پرستی کی وجہ سے بے چین رہتی ہے۔ لہٰذا ہمیں آج ایک مرتبہ پھر انسانیت نواز اور روح پرور افکار کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت ’’صوفی کونسل‘‘ بنانے سے نہیں بلکہ حقیقی تصوف اپنانے سے پوری ہوسکتی ہے۔ اس کیلئے صوفیانہ لٹریچر سے آگہی ضروری ہے اور اسی ضرورت کے پیش نظر رابطہ ادب اسلامی والوں نے صوفیائے برعظیم کے علمی و ادبی کارناموں پر روشنی ڈالنے کیلئے اس خوبصورت سیمینار کا اہتمام کیا۔اس مجلس علمی کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ اسے پاکستان کی مایہ ناز مادر علمی جامعہ پنجاب میں منعقد کیا جا رہا تھا۔
آج اگر جامعہ پنجاب کی فضائیں اسلام کے ان حقیقی فرزندوں کے تذکروں سے معمور ہو رہی تھیں تو اس کامرانی کا سہرا منتظمین سیمینار کے علاوہ وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے سر ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کی لپیٹ سے نکالنے کیلئے اس نوعیت کے بامقصد اور تعمیری پروگرام آئندہ بھی ہوتے رہیں گے، بلکہ پاکستان کی بقیہ جامعات کو بھی اولیاء اللہ کی سنہری تعلیمات عام کرنے کی خاطر اسی طرح کے سیمینار اور مذاکروں کا انعقاد کروانا چاہیے۔
سیمینار کا تیسرا اور سب سے بڑھ کر قابل تحسین پہلو یہ تھا کہ اس میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ اہل علم کی بھر پور نمائندگی موجود تھی۔ لاہور کے علاوہ بہاولپور، ملتان، فیصل آباد اور اسلام آباد کی نجی و سرکاری جامعات سے مہمان مقررین نے مختلف موضوعات پر صوفیاء کرام کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ حتی کہ اہلحدیث مکتب فکر کو عام طور پر تصوف مخالف سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں وہ بھی صوفیانہ ادب کے دلدادہ دکھائی دیئے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر کے درمیان اختلافات کی دیواریں غیر ضروری حد تک بلند ہو چکی ہیں، حنفی فقہ کے ماننے والے یہ دونوں دھڑے معمولی اور فروعی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے سے بہت دور جا چکے ہیں۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات کی جامعیت اور انسانیت نوازی کا معجزہ دیکھیے کہ اس سیمینار میں اظہار خیال کرنیوالے ان دونوں مکتبہ ہائے فکر کے فاضل حضرات کے درمیان قطعاً کوئی دوری محسوس نہیں ہوئی۔ جامعہ اشرفیہ کے دیوبندی اگر خواجہ گیسو دراز، مجدد الف ثانی، سید علی ہجویری اور حضرت پیر مہر علی شاہ کی روحانی اور دینی خدمات کا کھل کا اعتراف کر رہے ہیں تو بریلوی حضرات کو عقائد کے باب میں ان سے مزید کون سی وضاحت چاہیے۔
اسی طرح اہل علم بریلوی حضرات حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا انور شاہ کاشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی کی علمی اور دینی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو اہل دیوبند کے ہاں بریلوی قابل گردن زدنی کیوں ہیں؟ یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے اس پر مزید غور و فکر ہونا چاہیے اور ملک و ملت کی سلامتی کیلئے اگر یہ دونوں اکثریتی دھڑے مشترک اعتقادات پر متفق ہو جائیں تو پاکستان کے نصف مسائل یہیں ختم ہو سکتے ہیں۔ بہرحال یہ کام مشکل اور صبر آزما ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں اور خاص طور پر اس سیمینار نے تو اسے خاصہ ممکن کر دکھایا ہے۔ ان ابتدائی کاوشوں میں کامیابی کا کریڈٹ بلاشبہ منتظمین سیمینار ڈاکٹر محمود الحسن عارف (صدر شعبہ اردو معارف اسلامیہ) اور ڈاکٹر خالق داد ملک (صدر شعبہ عربی) کو جاتا ہے۔