غیرت کی رمق

رفیق غوری ۔۔۔
نبی اکرم حضرت محمد سے ہم گئے گزرے مسلمانوں کا جو کچھ بھی تعلق ہے جو بھی رابطہ ہے اس میں ذلت میں ڈوبے ہونے کے باوجود ہر کسی نے اظہار کردیا ہے اور بتا دیا ہے کہ ہم خوار ہیں، بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں جو بھی ہیں اسکے محبوب کی امت ہیں اس موقع پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اس پر بڑے سے بڑا منافق فرد ہی نہیں معاشرہ بھی محسوس کرنے لگا کہ ابھی تک اُمتیوں میں ایمان اور غیرت کی رمق باقی ہے! مگراس موقع پر بھی ماضی میں غیروں کے ایجنڈہ پر پاکستان میں بے حسی، بے غیرتی کا مظاہرہ کرنے والے جنرل پرویز مشرف نے فیس بُک کے بارے میں اپنے دِلی جذبات کے مطابق وہ بات کہہ دی جس سے پرویز مشرف کاخُبثِ باطن او ر موصوف کا مکروہ چہرہ ایک مرتبہ پھرنظروں کے سامنے گھومنے لگا پرویز مشرف نے جو کچھ کہا وہ بے شک کفر ہے مگر نقلِ کفر جونکہ کفر نہیں ہوتا اس لئے تھوڑا سا ذکر ان سطور میں کردیتے ہیں موصوف کہتے ہیں کہ”فیس بُک کے حق میں ہوں اس پر میرے دو لاکھ فیس ہیں، اُمید ہے مستقل پابندی عائد نہیں ہوگی“ جنرل پرویز مشرف نے جن حامیوں کا ذکر کیا ہے وہ یقینا اسلامیانِ پاکستان میں تو نہیں !ہوسکتا ہے وہاں ہوں جہاں یہ ذریت اب ٹھمری اور دوسرے پکے راگ الاپ رہی ہیں ویسے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ....ع
پہنچی وہیں پہ خاکِ جہاں کا خمیر تھا
گئے گزرے دور کے مسلمانوں میں ایسی حرکت کرنے والوں کو کوئی حامی نہیں مل رہا، پوری دنیا سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے مگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اس موقع پر بھی محض اس لئے کہ فیس بُک پر ان کے دو لاکھ حامی ہیں اپنی زبان سے ایسی بات نکال رہے ہیں جسکے بارے میں کوئی گیا گزرا مسلمان بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔پرویز مشرف اپنی کسی مبینہ پارٹی جس کا نام مسلم لیگ ہی ہوگا شاید مسلم لیگ(پ) کے بارے میں کوشاں ہیں اور پاکستان آنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں بشرطیکہ انتخابات کا وقت آجائے۔انتخابات کب ہوتے ہیں؟پرویز مشرف ان کے انتخابات کے موقع پر کہاں ہوسکتے ہیں اسکے بارے میں ابھی کچھ کہنا مناسب نہیں مگر میں سوچ رہا ہوں کہ فیس بُک والوں کو پورے عالمِ اسلام سے ایک ہمنوا پرویز مشرف میسر آہی گیا ہے پرویز مشرف نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے لئے جو جو کچھ کیا۔ جس جس کے ایجنڈے پر کام کیا اس داستانِ غم کا قصہ طویل ہے مثلاً صوبہ پختونخواہ( پی کے) کے طالب علموں نے جنہیں اس صوبہ میں صدیوں سے طالب کہا جاتا ہے وہی طالب اٹھ کھڑے ہوئے قلم کتاب کی جگہ ان کے ہاتھ میں کلاشنکوف کس نے تھمائی اسکے بارے میں جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ بابر ریکارڈ پر ہیں جنرل نصیر اللہ بار گلبدین حکمت یار اور ان کے اُستاد پروفیسر برہان الدین کے ساتھ مل کر کیا کرتے رہے اس پربھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر وہ طالب جو پہلے طالبان اور پھر ظالمان بنا دئیے گئے اس میں کس کا کیا دھرا ہے؟ کس کس قوت نے انہیں محرم سے مجرم بنایا اسکے بارے میں بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ابھی چند روز پہلے ہی لاہور کے کچھ حصہ میں کریکر (پٹاخے) چلائے گئے خوف اور ڈر کا سماءباندھنے کی کوشش کی گئی یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ایسا ہو نہیں سکا اور جب ایسا نہ ہوسکا تو پھر الزام ایک نظریاتی رُخ پر لگانے کی کوشش کی گئی قارئین نوائے وقت خوب جانتے ہیں کہ نظریہ اور نظریاتی لوگ کیا ہوتے ہیں؟ ان کی جگہ کون کون سے لوگ لینے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور یہ لوگ دو قومی نظریہ کی بجائے نظریہ ضرورت کے اسیر ہیں انہیں نظریاتی کہنے کی بجائے کچھ اور کہا جائے تو بات زیادہ اچھے طریقے سے آپ قارئین کی سمجھ میں آسکتی ہے اور نظریہ ضرورت کے اسیروں کے بارے میں تمام اہلِ پاکستان کو پوری طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ جو کریکر چلائے گئے ان سے مجھے کئی سال پہلے کریکر پاس رکھنے اور چلانے والوں کی کہانی بھی یاد آرہی ہے۔یہ 1977ءکے مارشل لاءسے پہلے کی بات ہے تب پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی شاید مرحوم کا نام سردار عبدالوکیل خاں ہوا کرتا تھا پنجاب یونیورسٹی کے طالب علموں کو نیچا دکھانے اور انہیں پکڑنے کے لئے کریکرز کا سہارا لیا کرتے تھے قارئین یہ کریکر پہلے مچھیرے مچھلیوں کو سطح آب پر لانے کے لئے چلایا کرتے تھے جنہیں ڈی آئی جی سپیشل برانچ کے شاطر دماغ نے طالب علموں کو یونیورسٹی میں جا کر تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو پھانسنے کے لئے استعمال کیا تھا اس طرح کے ظلم کا آغاز کہاں کہاں سے ہوا کس کس نے اس ظلم کی فراوانی کے لئے دن رات ایک کیے؟ طالب سے طالبان اور طالبان سے ظالمان بنانے والی قوتیں کونسی ہیں؟پیارے قارئین! یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے فلسفہ جہاد کی فساد کا نام دینے کی کوشش کی وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے القاعدہ اور طالبان کوپہلے پروموٹ کیا پھر بدنام کرنے کی کوشش کرنے لگے ہم پاکستانیوں کو توالقاعدہ کے دفاتر اسکے منشور سے جتنی بھی آگاہی ہوتی وہ غیر ملکی میڈیا کی دین ہی ہے اور اب یہ لوگ ہمارے نظریات ہماری بنیاد کے درپے نظر آتے ہیں یہ وہ سوال یا سوالات ہیں جن پر ہمیں توجہ دینی چاہیے غور و فکر کرناچاہیے۔