شاتمانِ نبوّت

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ

علامہ اقبال نے کہا تھا
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
یہ شرار کبھی زہر کا پیالہ بن کر سقراط کے لبوں سے جا ٹکرایا تو کبھی نارِ نمرود کی صورت میں حضرت ابراہیم کے درپے ہوا تو کبھی ابرہہ کی شکل میں خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کر بیٹھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سقراط زہر پی کر امر ہوگیا۔ نمرود کی آگ گلزار بن گئی اور ابرہہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ نیکی اور بدی کی قوتیں ازل سے برسرِ پیکار رہیں لیکن بالآخر فتح ہمیشہ حق کی ہوئی۔ آخری پیغام حق، آخری الہامی کتاب اور خاتم النبین کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، مخالفت اور ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا گیا۔ طاغوتی قوتوں نے منطق اور دلیل کا سہارا بھی لیا لیکن دین مبین اور پیغام حق لانے والے کے سامنے ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ فسق و فجور کی لہریں خاک پہ جبین گھستے ہوئے بھاپ بن کر تحلیل ہوگئیں۔ جو لوگ معجزوں کی تلاش میں رہتے ہیں یا انبیاءسے تقاضائے اعجاز کرتے ہیں انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ کلام اللہ جو وحی کی شکل میں آنحضور پر نازل ہوا زمانے کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ یہ کتاب اس شخص نے پیش کی جو بظاہر امی تھا۔ چودہ سو سال میں اس کا ایک لفظ یا زیر زبر بدلا نہیں جا سکا جس میں گرائمر کی کوئی غلطی نہیں ہے۔جو فقروں میں کوئی CONSTRUCTIONAL ERROR نہیں ہے۔ جس کے متعلق عکاز کے میلے میں تمام عرب شعراءنے بیک زبان کہا تھا ” یہ بشر کا کلام نہیں ہے جتنا مبارک یہ کلام ہے اس کے لانے والے کا اتنا ہی معتبر ہونا لازمی ہے۔ وہ کیسا انسان کامل تھا جس نے قلوب کو منور کیا۔ اذہان کو جلا بخشی، فکر کو آزاد کیا۔ بتان رنگ و خوں کو پاش پاش کیا۔ زندہ رہنے کا سلیقہ سکھایا، مرنے کے آداب بتائے، آدمیت کو معراج بخشی، ثبوت حق بھی پیش کیا اور پیغام حق بھی ذہن نشین کرایا۔ وہ جو کاروان انبیا کا قافلہ سالار تھا وہ جو افواج دین کا شہسوار تھا۔ وہ جو علم و حکمت کا خزانہ تھا وہ جو مجسمم جرات و شجاعت تھا۔ پیکر جودو سخا، مرکز صدق و صفا کتاب اللہ کی زندہ تفسیر، آسمان رسالت کے بدر منیر، چودہ سو برس بیت گئے، چودہ لاکھ برس بیت جائیں گے، اتباع رسول میں کمی نہیں آئے گی۔ عجز و عقیدت کے چشمے کبھی خشک نہیں ہوں گے۔ کروڑوں اربوں انسان اپنی صبح کا آغاز ذات باری تعالیٰ کے بعد اس کے نام سے کریں گے۔ اپنی شامیں اس کے پاک نام سے مشکبار ہونگی۔ ایک لاکھ احادیث امام بخاری کو زبانی یاد تھیں جو انہوں نے کیا، جو دیکھا اور ’محسوس کیا‘ جس فعل پر خوش ہوئے، جس کام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ماکولات، مشروبات، معمولاتِ زندگی.... اگر دو دندان مبارک شہید ہوتے ہیں تو لوگ اپنے جبڑے توڑ دیتے ہیں۔ اگر خون کا ایک قطرہ گرتا ہے تو لاکھوں اشک پیازی ہو جاتے ہیں۔ موئے مبارک مرجع خلائق بن جاتا ہے۔ پاپوش تخت نشین چومتے ہیں۔ دریدہ کالی کملی جو عقیدت کا استعارہ بن گئی۔ مدینہ جو جذبوں کا نگینہ ہوگیا.... آدم سے لیکر ابن دم ایک لاکھ چوبیس لاکھ پیغمبر گزرے۔ شاہانِ پُر غرور دارا و سکندر آئے اور پیوندِ خاک ہوگئے.... لاکھوں سالوں میں، اربوں انسانوں کے بیج کیا کوئی ایسا انسان پیدا ہوا ہے؟ چشم فلک حیراں ہے۔ دھرتی نازاں، ملائیکہ انگشت بدنداں، ماورائے فہم و ادراک، شہنشاہِ لولاک، درِ یتیم امی جو مدینتہ العلم تھا، سراسر مسلم تھا۔ ماہر فن حرب تھا۔ سید المرسلین آں امام اولین و آخریں!.... ایک نامور یہودی مورخ فلپ کے حٹی رسالت مآب کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔\\\" WITH IN THE BRIEF SPAN OF HIS MORTAL LIFE MUHAMMAD (PBUH) CALLED FORHT OUT OF UNPROMISING MATERIAL, A NATION NEVER UNITED BEFORE, INTO A COUNTRY WHICH WAS HITHER TO BUT A GEOGRAPHICAL EXPRESSION..AND LAID THE FOUNDATIONS OF AN EMPIRE WHICH WAS SOON TO EMBRACE WITH IN ITS FARFLUNG BOUNDARIES THE FAIRES PROVINCES OF THE WORLD HIMSELF AN UNSCHOOLED PERSON, HE WAS NEVERTHELESS RESPONSIBLE FOR THE INTRODUCTION OF A BOOK, WHICH IS STILL CONSIDERED BY ONE EIGHT OF MANKIND AS EMBOSIMENT OF ALL SCIENCE, WISDOM AND THEOLOGYوہ لوگ جنہوں نے رسالت مآب کی رحلت کے بعد پیغمبری کے جھوٹے دعوے کئے وہ بھی شاتمانِ حضور تھے۔ وہ جنہوں نے اپنی تحریروں سے خبثِ باطنہ کا مظاہرہ کیا، یا جنہوں نے اپنی تقریروں میں دریدہ دینی کی ان کا شمار بھی انہی بدبخت اور بدطنیت لوگوں میں ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی آگ میں خس و خاشاک ہوگئے۔اہلِ مغرب جس آزادی اظہار و گفتار کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں، وہ وہاں پر ختم ہو جاتی ہے جہاں سے ان کے مفادات شروع ہوتے ہیں۔ عقل حیران ہوتی ہے کہ HOLOCAUST کے متعلق کچھ لکھنا یا کہنا تو سنگین جرم ہے لیکن محسن انسانیت کے خلاف ہرزہ سرائی کو یہ معمول کی بات سمجھتے ہیں۔ اگر یہ منافقت نہیں تو کیا ہے؟ ایسا ان کروڑوں انسانوں کے جذبات کا احساس بھی نہیں ہے جو اس قسم کی حرکات قبیح سے مجروح ہوتے ہیں۔ خاکوں کی اشاعت محض ایک اتفاق نہیں ہے اس کے پیچھے بہت بڑی بین الاقوامی سازش ہے جس کے ڈانڈے بالآخر ہنوز و یہود سے جا ملتے ہیں۔ یہ حرکات ایک تسلسل اور تواتر سے ہو رہی ہیں۔ یہ حولیاں جولیاں اور اس قسم کے ”حشرات الارض“ تو محض کٹھ پتلیاں ہیں۔ ان کی ڈوریں ہلانے والے اور ان کو نجانے والے کوئی اور ہیں۔ ہمیں اس میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ اس کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں ہمارے ایٹمی پروگرام تک جا پہنچتے ہیں۔ویسے ہمیں اپنے PSEUDE INTELLECTUALS پر بھی افسوس ہوتا ہے جو صبر کی تلقین کرتے ہوئے آنحضرت کی مثال دیتے ہیں جنہوں نے اپنے دشمنوں کو معاف کر دیا تھا۔ رسول اللہ کا کردار مثالی تھا۔ غلامان محمد عربی کے جذبات الگ ہیں یہ انسان ہیں اور احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ اگر ان خود ساختہ فلسفیوں کا بس چلتا تو شاید غازی علم دین شہید کا ہاتھ بھی پکڑ لیتے۔