تحریک کشمیر کو زندہ کریں

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

اگر یہود و ہنود کی سازش سے امن آشا مہم زندہ کی جا سکتی ہے تو تحریک کشمیر کی مہم کو نیم مردہ حالت میں کیوں چھوڑا جا رہا ہے ہندو بنیا تحریک کشمیر کے زندہ ہونے سے مرتا ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم بھارت سے کھوکھلے مذاکرات پر مرتے ہیں اگر ہم پر مرنا چھوڑ دیں تو بنیے کی چتا میں آگ لگ سکتی ہے اور مقبوضہ کشمیر پر اس کا غاصبانہ قبضہ ختم ہو سکتا ہے۔ ایک ضعیف العمر حریت پسند لیڈر علی گیلانی تنہا کیا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں جذبہ حریت کشمیر رکھنے والوں کی کمی نہیں ہمارے ہاں ہر معاملے میں قیادت کا فقدان ہے اگر عمران خان جیسے لوگ اس ایک ایشو کو ہی پکڑ لیں اور اس کام کرنا شرع کر دیں تو لبھو رام کی ماں مر جائے گی۔ بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ کشمیری ہماری شہ رگ ہے اس لئے اس نے اس کو دبا رکھا ہے اور ہم آدھا سانس لے رہے ہیں۔ اگر ہمارا یہی حال رہا کہ کشمیر کو بے حال چھوڑ دیا تو خدانخواستہ ہمارا پورا سانس بھی بند ہو سکتا ہے بھارت جس تیزی کے ساتھ پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے کے مختلف طریقے اپنا رہا ہے اس کا جواب ہماری طرف سے خسرے کی تالی کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستانی افواج جس بے دریغ انداز سے امریکہ کے ساتھ مل کر نام نہاد دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہیں اگر ان کا رخ پوری طرح مغربی سرحدوں کی طرف کر دیا جائے تو مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف میں سے اٹو انگ منفی ہو سکتا ہے پانی کا مسئلہ بھی مسئلہ کشمیر کی پیداوار ہے ہم پانی پانی پکارنے کی بجائے کشمیر کشمیر پکاریں۔ اس لئے کہ ہمارے سارے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا کشمیر تو کجا ہمیں تو جونا گڑھ حیدر آباد دکن اور بنگال کا مسئلہ بھی اٹھانا چاہئے اگر ہم یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل
کرائے گا تو یہ دیوانے کا خواب ہے۔ ہمارے پاس دو ہی آپشن ہیں اپنے مسائل کے حل کےلئے ایک تو یہ کہ او آئی سی کی تشکیل نو کی جائے اس میں سے امریکی یہودی عنصر خارج کیا جائے اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ عالم اسلام کہ وہ تمام ممالک جو بنیادی اور عوامی طور امریکہ مخالف ہیں ان کا ایک بلاک بنایا جائے جو عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل کی ناصرف تشہیر کرے بلکہ ان کا حل ڈھونڈے مسلمان جب تک سائنسی بنیادوں پر اپنی عسکری قوتوں کو یکجا نہیں کریں گے یہ یہود و ہنود اور نصاریٰ انہیں نگل جائیں گے ہم یہ کہتے ہیں کہ حق کی فتح ہو گی اور بالآخر باطل کو شکست ہو گی مگر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم واقعتاً اہل حق ہیں ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا اور خود کو حق والے ثابت کرنا ہو گا ہم معافی کے ساتھ کہتے ہیں موجودہ مسلم امہ کی حالت تقریباً باطل جیسی ہی ہے تو ہم کس حق کے ساتھ باطل کو مٹائیں گے ہمارے اعمال و افعال اور اقوال باطلانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک جب تک پاکستان سے نہیں اٹھیں گی کشمیر آزاد نہیں ہو گا۔