بچّے کا سوال

امیر محمد خان (جدہ).............
ایک ننھا بچہ جو شائد آٹھویں کلاس کا طالب علم ہوگا ، سوال لے کر پریشان حال ہمارے دوست اور اپنے والد کے پاس آکرشکائت کی ، کہ باباجی ! آپ تو صرف پاکستان کی بات کرتے ہیں ، ہمیں قائد کے قصے سناتے ہیں جبکہ ” پاکستان کا مقدمہ “ تو اب تک لڑا جارہا ہے ۔ ہمیں بچے کی بات سے تجسس ہوا ہم پوچھے بناءنہ رہ سکے کہ بیٹا ! کون لڑرہا ہے مقدمہ بچے نے جواب دیا ایک اچھے سے انکل ہیں ، ایک ٹی وی چینل پر احادیث اور اسلامی باتیں بتاتے ہیں ، پہلے ذرا بڑی داڑھی تھی اب کچھ کم کرلی ہے ، وہ کہہ رہے ہیں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہ وہ پچیس (۵۲) مئی کو پاکستان کا مقدمہ لڑنے جارہے ہیں ، ساتھ ہی بچے نے سوال کردیا کہ کیا یہ مقدمہ ہندوستان میں لڑا جارہا ہے ، ہمیں حمائت کرنی چاہئے ہم اپنی ہنسی نہ روک سکے ۔ اس بات چیت کے دوران سیاست سے بے پناہ لگاﺅ رکھنے والے ہمارے مشترکہ دوست جو تمام ہی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے سخت مایوس ہیں بھی شامل محفل ہوئے اور اسی بچے کی کہانی کو کچھ اسطرح بیان کرنے لگے ، لاحول واللہ قوة ، کیا بکواس ہے ، ہم نے کہا کہ کچھ بولو بھی کیا ہوا ، فرمانے لگے کہ بھائی کئی مقدمات میں ملوث ہمارے وزیر قانون باربر اعوان ، ( ہم نے تصیح کی ، بھائی باربر نہیں بابر اعوان باربر کا مطلب کچھ ہوتا ہے )ایک جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ میں ۵۲ مئی کو پاکستان کا مقدمہ لڑنے جارہاہوں ،موصوف سپریم کورٹ میں جارہے اور اسے کہہ رہے ہیں پاکستان کا مقدمہ ، یہ ایک اعلی عدالت کا مذاق اڑانا ہی ہوا۔ ساتھ ہی انہوںنے بتانا شروع کردیا کہ کہ موصوف ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد خوشی میں مٹھائی تقسیم کررہے تھے ، شہید بھٹو کی شہزادی بیٹی بے نظیر پر حملہ ہوا تو موقع پر موجود اِسی انہیں بابر اعوان نے دھماکہ سن کر وہ دوڑ لگائی کہ ذرداری ہاﺅس پہنچ کر سانس لی ، یہ بھی نہ پوچھا کہ ” میری رہنماءخیریت سے ہے کہ نہیں ؟؟“وہ تمام لوگ جو پی پی پی کے ڈرامے کے کردارکبھی نہ رہے ، انہوںنے کردار سنبھال لئے ، سامنے آتے ہی رشوت وصول کی ، اور بات مارکیٹ میں آنے پر انعام کے طور پر وزیر قانون بنادئے گئے ۔ ہم سب اس سیاسی جماعتوں سے مایوس شخص کی داستان سنتے رہے جو وہ کسی رکاوٹ کے اسطرح بول رہا تھا کہ اسکے دل میں ایک لاوا ہے جو ابل رہا ہے ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ کہنے لگے سب ہی رلے ملے ہیں جی ، نام نہاد حزب اختلاف کے نام پر میاں صاحب کی پالیسی نہائت ہی عجیب ہے ، ایک دن بیان دیتے ہیں ، دوسرے دن وزیر اعظم یا صدر فون کرتے ہیں ، یا میاں صاحب کھانے پر چلے جاتے ہیں ، آج سپریم کورٹ یا آزاد عدلیہ کے متعلق انکا کائی واضح موقف نہیں رہا۔ بتائے اس سے بڑی بے شرمی کیا ہوگی ، جعلی ڈگریا ںرکھنے والے اعلی عدالتوںکے ججز کو منتخب کرینگے ۔ کس ڈھٹائی سے جعلی ڈگریاں والے کہہ رہے ہیں کہ عوام کی عدالت میں سرخ رو ہیں ، باقی عدالتیں ہمارا کیا کرلینگی ؟؟ پھر کہتے ہیں کہ ہمارا عدلیہ سے کوئی ٹکراو نہیں ،عوام بجلی کی ناپیدی، روزگار کی عدم موجودگی ، تعلیم کے انحطات کا شکار ہیں ، مہنگائی نے خاندانوں کو خودکشی ، بھیک مانگنے ،نوجوان لڑکیوںکو بے راہ روی کی طرف راغب کردیا ہے ، ملک کی سرحدیں غیروںکے کے پاس گروی رکھی ہیں ،جسکے عوض چند ڈالر مل جاتے ہیں ، ڈالر دینے والے جسطرح ہمیں بھیک دیتے ہیں اس سے زیادہ عزت و احترم سے وہ اپنے پالتو جانوروں کو غذا ءدیتے ہیں، جناب کوئی حد نہیں رہی ۔ ہم نے سیاسی لوگوںسے بے زار اپنے دوست کو کہا کہ چلیں چھوڑیں چند دن کیلئے یہ باتیں ہمارے ایٹم بم کے دھماکے کی سالگرہ ۸۲ مئی کو آرہی ہے ایک بہادر قوم کی طرح اسے جوش خروش سے منائیں ، اسپر تو ہمارے دوست مچل گئے کہنے لگے کہ بھائی یہ تو بڑی مشکل ہے ، بادل ناخواستہ اسوقت کے وزیر اعظم میاں صاحب نے دھماکہ کرہی دیا ، جسے وہ آج تک بھگت رہے ہیں ، انکی خواہش ہوتی ہے کہ اغیار اس بات کو بھول جایں کہ دھماکہ انہوںنے کیا تھا تاکہ انکے متعلق گوروںمیں غلط فہمیاں دور ہوں اور انکا ”’ نمبر “‘ بھی لگے ، مگر یہ ۸۲ مئی پھر آجاتا ہے ، معصوم عوام ذکر تو کرتے ہیں کہ دھماکہ ’ کس بہادر ‘ نے کیا تھا یہ ذکر دھماکہ کرنے والوںکو پھر پیچھے کی طرف لیجاتا ہے ۔ہم نے کہا بس کریں یار آپ تو بہت زیادہ ہی جلے بھنے ہیں ۔ اتنی دیر میں ہم نے دیکھا کہ ہمارے دوست کے بچے کی آنکھوںسے آنسو بہہ رہے ہیں، ہمارے دوست نے پوچھا بیٹا کیا ہوا ؟ بچے نے معصومیت سے جواب دیا بابا ! کیا مجھے کوئی میرا مسقبل بتا سکتاہے ؟؟؟؟؟