اگلی امید ۔۔ عمران خان؟

امیر نواز نیازی ۔۔۔
دھان بان کے وجود کا ایک شرمیلا کم گو اور کیوٹ سا نوجوان دنیائے کرکٹ میں وارد ہوا تو لوگوں نے اسے عظیم کرکٹر ماجد خان کا کزن ہونے کے ناطے سے جانا بلکہ اس کے اپنے کزن اسے اس لئے نظرانداز کرتے رہے کہ عمران خان میں ایک بڑا کرکٹر بننے کی صلاحیتیں انہیں کم نظر آئیں لیکن ایک دنیا نے دیکھا کہ عمران خان نے تھوڑے ہی عرصہ میں ”وہ آیا۔ اس نے دیکھا اور سب کچھ فتح کر لیا ہے۔ کے مصداق اپنی اعلیٰ ادا کارکردگی سے کرکٹ لورز کے دل موہ لئے اور ہر طرف عمران خان‘ عمران خان ہونے لگا۔ اس کے راستے میں بے شمار مشکلات اور رکاوٹیں بھی آئیں لیکن کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے‘ ایک بہادر شخص کی طرح اس نے پھر مشکل اور رکاوٹ کو زیر کیا اور آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا‘ تو کمال جی داری سے کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو اوج کمال تک پہنچانے کی منزل کی طرف مسلسل رواں دواں رہا اور پھر وہ دن بھی آیا‘ جب اس کی کپتانی میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ورلڈکپ جیت کر ملک و قوم کا نام سربلند کیا۔ ہر طرف عمران خان کا ڈنکا بجنے لگا اور عمران خان ہر پاکستانی کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ وہ جہاں بھی گیا ملک کے اندر یا باہر لوگ اس کی راہ میں آنکھیں بچھاتے چلے گئے۔ اور یوں دنیا بھر میں جہاں ایک عظیم کرکٹر کے طور پر جانا پہچانا گیا وہ بہادر ”سپہ سالار“ کے طور پر ایک عالم اس کی قائدانہ صلاحیتوں کا معترف ہوا اور پھر جب اپنی مقبولیت کی معراج اس پر کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تو پوری قوم افسردہ ہو کر رہ گئی کہ ”بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“ کے مصداق انکے خیال میں کسی اور عمران خان اب یہاں پیدا ہونا مشکل ہو گا۔ لوگوں کی ان محبتوں کے اصرار پر ایک دو دفعہ تو عمران خان کو اس اعلان کو واپس لینا پڑا۔ لیکن ایک دن تو آخر ایسا آنا ہی تھا۔ وہ دن آیا تو عمران خان نے اس ریٹائرمنٹ کو بھی اپنی اگلی منزل کا نقطہ آغاز بنا لیا۔ تو اس نے سوشل سیکٹر میں ایک بڑا کارنامہ انجام دینے کیلئے اپنی والدہ کے نام پر ایک اعلیٰ درجے کا کینسر ہسپتال بنانے کے عزم کا اظہار کیا تو لوگوں نے ایک بار پھر اسے دیوانے کی بڑ قرار دیا کہ انکے خیال میں عمران خان جیسا ”پلے بوائے“ اتنا بڑا کٹھن کام تن تنہا کیسے سرانجام دے سکتا ہے جبکہ اس کے ہاتھ میں نہ اتنا زیادہ پیسہ ہے نہ تجربہ سمندر کی جھاگ کی طرح جلد بیٹھ جائے گا لیکن یہاں ایس ہی ہوا۔ جیسا عمران خان نے چاہا۔ بہت سی مشکلات اور ناممکنات سامنے تھیں‘ جو قدم قدم پر سدِرا ہیں لیکن تندی باد مخالف سے نہ گھبرانے والا یہ پرعزم عقاب اونچے سے اونچا اڑتا چلا گیا اور آخرکار اس نے اس دھن اور مصمم ارادوں سے سرزمین لاہور پر ایک عظیم الشان‘ اعلیٰ ترین درجہ کا شوکت خانم کے نام سے کینسر کا ہسپتال کھڑا کر دکھایا۔ جو آج پاکستان بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس ”ماونٹ ایورسٹ“ کو سر کرنے کے بعد اس کے سر میں قوم کی اعلیٰ سطح پر خدمت بجا لانے کیلئے سیاست میں حصہ لینے کا سودا سمایا۔ تو کچھ لوگوں نے پھر اس کا تمسخر اڑایا اور کہا کہ عمران خان اور سیاست دو مختلف اجناس کا نام ہے۔ کچھ دوستوں نے بھی پاکستان کی سیاست کی اس وادی پُرخار میں قدم نہ رکھنے کا مشورہ دیا لیکن اپنی دھن کے پکے اس خان نے ہر سود وزیاں کو بالائے طاق رکھ کر اس چیلنج کو بھی قبول کر لیا تو پہلے پہل تو اس وادی پُرخار میں اسے آبلہ پانی کے سوا کچھ نہ ملا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے سچ اور سچائی کے پرچار میں لگا رہا ہے تو آج وہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے۔ جہاں ہر پاکستانی اسے ایک محب وطن دیانت دار سچا اور کھرا سیاسی لیڈر تسلیم کر لیا ہے اور اس کی مخالفت صرف وہی لوگ کرتے ہیں یا کر رہے ہیں جن کے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ یا سیاسی طور پر جن کو عمران خان سے خطرہ ہو سکتا ہے یا پھر کچھ ملک دشمن عناصر جو پاکستان کو کمزور ملک دیکھنا چاہتے ہیں اس کی قیادت کو پاکستان سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹی وی کے ہر چینل پر جہاں آج کل سیاست دانوں کا ہر وقت یہ جو اتوار بازار لگا رہتا ہے۔ وہاں سب سے زیادہ عمران خان کی مانگ رہتی ہے کہ ایک سچے اور کھرے لیڈر کو وہ سننا پسند کرتے ہیں اور سیاست میں عمران خان کو یہ بھی انفرادیت حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست کا شاید واحد سیاست دان ہے۔ جو نہ کسی مارشل کی نرسری میں اگا نہ پروانہ چڑھایا گیا حالانکہ ضیاءالحق کے زمانے میں انکی حکومت میں کئی دلکش عہدوں کی پیشکش ہوئی لیکن اس نے صاف انکار کر دیا اور پھر پرویز مشرف کے عہد میں تو اسے پاکستان کا وزیراعظم بنانے کی پیشکش بھی ہوئی لیکن اس نے قبول نہ کی اور نہ ہی وہ پاکستان کی سیاست کے مطابق کسی موروثی خاندانی سیاست کا پیداوار ہے۔ کچھ لوگ اسے یوسف بے کارواں کا طعنہ بھی دیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اسے اپنی پارٹی میں اپنے جیسے اپ رائٹ (up right) افراد درکار ہیں جو بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت کم پائے جاتے ہیں اور جیساکہ ہمارے ملک کی سیاست کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ چلے چلو ادھر کو جہاں کو ہوا چلے۔ یعنی لوٹا ازم ہی ہماری سیاست کا محور اور مقصد رہا ہے ہمارے ہاں شاید ہی ایسا کوئی سیاست دان ہو گا جس نے اقتدار یا ذاتی مفادات کے تعاقب میں پارٹی پہ پارٹی نہ بدلی ہو۔ آج عمران خان اقتدار میں آجائے یا آتا نظر آئے اور وہ چاہے تو ہمیں یقین ہے اس کے پیچھے ان لوٹوں کی قطار لگ جائے بلکہ اس کا باتھ روم ان بے پیندے کے لوٹوں سے بھر جائے گا۔