امن کی آشا کے گیت

خالد ایچ لودھی ۔۔۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کو ٹیلی فون پر یہ بتانا کہ حکومت ملکی عدالتوں کا احترام کرتی ہے اور پھر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا جواب میں یہ کہنا کہ ’’اب انصا ف ہو گا خواہ آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے‘‘ اسکے علاوہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ بھی کہا کہ آزاد عدلیہ ملکی ترقی کیلئے ضروری ہے اور ٹیکس ملے گا تو ریاست چلے گی۔ دونوں بڑوں کی یہ اہم بات چیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اب اس نازک موڑ پر حکومت نے اپنی اہم اننگ کا بھی آغاز کر دیا جس پچ پر حکومت اس وقت کھیل رہی ہے یہ تمام کی تمام کرپشن اور پھر کرپشن ہی کی پردہ داری کی پچ ہے۔ جعلی ڈگریوں پر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو کر سیاسی دکان چمکانے والی شخصیات کو وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی نے خود تحفظ فراہم کر کے اپنے اعلیٰ عہدے کی توہین کی ہے ماشاء اللہ خود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صحافت میں خالص ڈگری ہولڈر ہیں یعنی ایم اے جرنلزم ہیں اس ڈگری کے ناطے خود وزیراعظم صحافت کے رموز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس ضمن میں تحقیقاتی جرنلزم بھی خاص حد تک فروغ پا چکی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس کی بناء پر مملکت خداداد پاکستان کے کلیدی عہدوں پر فائز شخصیات کی کرپشن اور لوٹ مار کے ثبوت پوری قوم کے سامنے ہیں اور اب یہ امر بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان شخصیات کو آخر کار ملک کی آزاد عدلیہ ہی کے سامنے پیش ہو کر حساب دینا ہو گا۔ اب ایک بار پھر حکومت اور عدلیہ کے مابین محاذ آرائی کی صورتحال بننے جا رہی ہے۔ حکومتی ادارے اب اپنے دفاع میں سرکاری اداروں کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعض گروپس بھی اس کی لپیٹ میں آئے ہوئے نظر آ رہے ہیں یہاں یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ صحافت کے شعبے میں بعض میڈیا گروپس کو خود اس قدر طاقتور کر دیا گیا ہے کہ وہ بعض خفیہ اشاروں پر کسی بھی حکومتی ستون کیخلاف زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے ادارے کو ’’کنگ میکر‘‘ کا درجہ دے کر پورے ملک میں اپنی حکمرانی کا حق تصور کرتے ہیں، جہاں حکومتی اداروں میں کرپشن زہر قاتل کی طرح سرایت کر چکی ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ اب بعض صحافتی گروپس بھی ایک مافیا کی شکل میں ابھر کر سامنے آرہے ہیں جو کہ پورے ملک کیلئے خطرناک ہیں۔ عوام کی نچلی سطح پر تعلیم عام نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں ایک عجیب کیفیت پائی جاتی ہے‘ اب عوام تفریحی پروگراموں سے ہٹ کر زیادہ تر اب ٹی وی ٹاک شوز میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ ان ٹاک شوز میں جو کچھ زیر بحث ہوتا ہے اور اینکر حضرات جو کچھ کہتے ہیں عوام اسے حتمی رائے تصور کر کے اس پر مکمل طور پر یقین کر لیتے ہیں اور اس طرح عوام میں بے چینی اور غیر یقینی کی صورت حال جنم لیتی ہے۔ جیسا کہ اب پاکستان کا ایک اہم صحافتی گروپ بھارت کے ساتھ دوستی کا نہ صرف خواہش مند نظر آتا ہے بلکہ عملی طور پر دن رات بھارت کی دوستی کے گیت الاپ رہا ہے اب اس طرح کی پالیسی وہ بھی پاکستان کا ایک انتہائی ذمہ دار اور اہم صحافتی گروپ اپنائے گا تو پھر یقیناً عوام میں اس کا ردِ عمل بھی ہو گا اور اسکے اثرات بھی مرتب ہونگے بھارت کے پاکستان کیخلاف خفیہ عزائم اور پاکستان کو بنجر کرنے کی خوفناک سازش اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے آخر کیا وجہ ہے کہ یہ صحافتی گروپ پاکستان کے ازلی دشمن اور آزادی کشمیر کے مخالف بھارت کیلئے اس قدر نرم گوشہ رکھتا ہے اور دوستانہ تعلقات کی خاطر آئے دن نت نئے گیتوں پر مبنی کلپس دکھا کر اور سنا کر پوری قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔
ایک جانب اب پورے ملک میں کرپشن کو کرپشن کہنا ہی مذاق بن چکا ہے تو دوسری جانب بھارت کے ساتھ دوستی اور امن کی پینگیں بڑھانے کی مہم بڑے زور وشور سے جاری ہے اب اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہا تو پھر یقین کریں کہ وہ دن دور نہیں ہے کہ یہی صحافتی گروپ پاکستان کے ایٹم بم کو بھی ناکارہ ثابت کرنے اور اسکی اہمیت کو مکمل طور پر ختم کرنے میں پیش پیش ہونگے‘ لگ ایسا رہا ہے کہ اب امریکی پالیسیاں اور ایجنڈا ملک کے ان صحافتی گروپس میں شامل کروایا جا چکا ہے اور اس ضمن میں جو مصدقہ خبریں یہاں مغربی تھینک ٹینک میں گردش کر رہی ہیں ان کے مطابق پاکستان میں صحافتی ستون کو بھی امریکی پالیسیوں اور مشاورتی گروپس نے آ گھیرا ہے اور آہستہ آہستہ ان گروپس میں امریکی غلبہ بڑھ رہا ہے، امریکی عزائم اور ایجنڈا اب سب کے سامنے ہے۔
بھارت کے ساتھ دوستی کرنا ہی مقصود ہے تو پھر کشمیر کو آزاد کروانے کا روڈ میپ بھی ہونا چاہیے اور پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی روانی بھی یقینی ہونی چاہیے‘ ورنہ بھارت کیساتھ دوستی اور بھائی چارے کی مہم چلانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ بھارت اس دوستی کی آڑ میں پاکستان کیخلاف اپنے ایجنڈے کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر تک لانے میں کامیاب ہو رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین سے ایک منظم بھارتی نیٹ ورک اس ضمن میں اپنا دائرہ وسیع کر چکا ہے اور ہم ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کی آشا کے گیت گا رہے ہیں۔ بھارتی کلچر کی بھرماراب آہستہ آہستہ ہمارے ٹی وی چینلز اور بھارتی فلموں کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو جس راستے پر لے جا رہی ہے یہ ہی وہ حکمت عملی ہے جو کہ بھارت نے منظم سازش کے ذریعے اپنائی ہے اب بھی وقت ہے کہ دہشتگردی، مہنگائی، بیروزگاری، ناانصافی اور کرپشن کیخلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہو کر ڈٹ جائے اور دوسری جانب بھارتی اور امریکی پالیسیوں کا مقابلہ بھی ملکی سالمیت کو مدِنظر رکھ کر کیا جائے اور خاص طور پر اس ضمن میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔