امت مسلمہ کی دل آزاری کیوں اور کس لئے؟

ریاض احمد چودھری................
میڈیا میں توہین آمیز خاکوں کی نمائش اور فیس بک پر مقابلہ مسلم دنیا کی دل آزاری کا ایسا واقعہ ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی لاہور ہائی کورٹ نے فوری طور پر فیس بک پر پابندی عائد کر کے اچھا اقدام اٹھایا۔ مغرب کی منافقت اور خیانت کا پردہ چاک ہو گیا ہے کہ اسلام دشمنی میں یہود و نصاریٰ آپس میں متحد اور معاون مددگار ہیں مغرب کی ہر چیز بدل چکی ہے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے طور طریقے بدل چکے ہیں ان کے رویے اور اقدار بدل چکے ہیں من پسند خیالات مذہب میں شامل ہو چکے ہیں اخلاقی اقدار کا ملیامیٹ کر دیا گیا ہے طرز زندگی اور سوچ بچار کے تمام زاویے بدل چکے ہیں لیکن مغرب کی اسلام دشمنی میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا ہے۔ وطن عزیز کے مذہبی رہنماوں اور دانشوروں کا یہ موقف حقیقت پر مبنی ہے کہ ان خاکوں کی اشاعت کا مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا ان کے جذبات کو بھڑکانا ہے تا کہ اس ردعمل کے طور پر مغربی حلقوں کی مسلمانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دینے کا بہانہ ہاتھ آ سکے اور اس کی آڑ میں مغربی طاقتیں امت مسلمہ کے خلاف صلیبی جنگ کے نئے محاذ کھول کر اپنے مذموم مقاصد پورے کر سکیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی حرکت ہے آخر صرف مسلمانوں کے خلاف ہی ایسی مذموم حرکات کا ارتکاب کیوں کیا جاتا ہے؟حضرت محمد مصطفیﷺ کی مقدس ہستی جس نے بنی نوع انسان کو جینے کا سلیقہ دیا معاشرے سے نسلی امتیاز کا خاتمہ کیا انسان کو ذلت اور پستی کی گہرائیوں سے نکالا جس نے ظلمت کا پردہ چاک کیا باطل پرستی کو ٹھکرا کر جھوٹے خداوں سے اس دنیا کو پاک کیا عورت کو اس کا حقیقی مقام دیا دلوایا انسان کی علم و فکر کے نئے راستے دکھائے‘ کامیابی اور کامرانی کی نئی راہیں کھولیں عالمگیر بھائی چارہ‘ مساوات اور باہمی تعاون کی بنیاد رکھی اس کائنات کی سب سے افضل اور عظیم ہستی جس کے لئے اس کائنات کو تخلیق کیا گیا جو معلم انسانیت ہیں‘ جنہیں تمام جہانوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ کافر اسلام دشمنوں نے ایک بار پھر اس پاک پیغمبر کے نازیبا خاکے شائع کرنے کی ناپاک جسارت کرکے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا ہے۔ مسلمان خواہ کتنا ہی بد عمل کیوں نہ ہو لیکن ناموس رسالت کے لئے جان دینا یا لینا سعادت سمجھتا ہے اس وجہ سے مسلمان چاہے وہ دنیا کے جس حصے میں بھی رہتا ہو تشویش میں مبتلا ہے تمام اسلامی ممالک میں ان خاکوں کی اشاعت پر عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے جس کا وہ برملا اظہار بھی کر رہے ہیں چند اسلامی ممالک نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے سفارتخانے سے باز پرس بھی کی ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اس ہستی کی توہین کی جو ہمیں اپنے ماں باپ‘ مال و دولت‘ عزت و آبرو سب سے زیادہ عزیز ہے۔ اگر تم کو تمہارے سامنے ماں بہن کی گالی دی جائے تو تم کیا کرو گے بے شک دینے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اگر آپ غیرت مند اور غیور ہیں تو آپ کا خون کھول اٹھے گا اور مرنے مارنے پر تیار ہو جائیں گے جبکہ وہ ہستی تو ہمیں ماں باپ اور سب سے زیادہ عزیز ہے۔ یہود و نصاریٰ تاریخ سے سبق حاصل کر کے کائنات کے آخری پیغمبر یا دوسرے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے سے باز رہیں اس روش کو تبدیل کرو دوغلی پالیسیاں بدل ڈالو‘ تہذیبی جنگ (صلیبی) بھڑکانے سے باز آ جاو ورنہ پھر لشکر ایوبی سے جنگ کےلئے تیار ہو جاو یاد رکھو مسلمان زندگی سے زیادہ موت سے محبت کرتا ہے پھر چاہے اسے قدامت پسند کہنا یا دہشت گرد اسے کوئی کوئی فرق نہیں پڑےگا کیونکہ مسلمان کو جان و مال‘ عزت سے زیادہ عزیز رسول اللہﷺ کی حرمت ہے۔ یاد رکھو کافرو اگر تم باز نہ آئے تو پھر مسلمان بھی اپنے پیروں کی اس خاک میں خون کا رنگ بھرنے کو تیار ہیں ہر مسلمان نبی کی ناموس پر کٹ مٹنے کا تیار ہے۔ نہ للکارو مسلمانوں کی غیرت کو بار رہو توہین رسالت سے‘ ڈرو اس وقت سے جب تم کو اپنے گھروں میں بھی پناہ نہیں ملے گی۔