اعتماد کا فقدان اور بدنیتی

صحافی  |  عطاء الرحمن

بھارت کے وزیراعظم سردار من موہن سنگھ نے غلط نہیں کہا پاکستان اور بھارت کے مابین خوشگوار تعلقات کی راہ میں اعتماد کا فقدان حائل ہے۔ اسی فقدان کی بنا پر اب تک دونوں ملکوں کے مابین تین باقاعدہ جنگیں اور چھوٹی بڑی ایک کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ دونوں جانب دفاعی اخراجات میں بے بہا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہر دو جانب غربت اور مہنگائی ہے کہ عوام کی بھاری تعداد کی جانوں پر عذاب بن کر مسلط ہے۔ سارک کی جنوبی ایشیائی تنظیم اپنے مشترکہ مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہ اعتماد کا فقدان ہے جس کی بنا پر بھارت میں پتا بھی حکمرانوں کی مرضی کے خلاف ہلے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دینے کی خواہش انگڑائیاں لینی شروع کر دیتی ہے۔ چنانچہ عدم اعتماد کی اس فضا نے پورے خطے کو عدم استحکام کی چادر میں لپیٹ رکھا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے۔ اعتماد کا فقدان تنازعہ کشمیر حل نہ ہو سکنے کی وجہ سے تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جس کے مہیب سائے سرحد کے دونوں جانب چھائے ہوئے ہیں۔ اسے جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک دیجئے۔ اعتماد کی فضا خود بخود جنم لینا شروع کر دے گی۔ یہ مسئلہ پاکستان نے پیدا نہیں کیا۔ بھارت نے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نافذ نہیں کیا۔ پنڈت نہرو نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر پوری دنیا کے سامنے گواہی دی تھی یہ تنازعہ حل طلب ہے۔ اسے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیا جائے گا۔ اس کی خاطر رائے شماری کرائی جائے گی جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو گی۔ اسی بنا پر 1948ءاور 1949ءمیں سلامتی کونسل کی قراردادیں منظور ہوئیں ان پر اپنے دستخط ثبت کرنے کے بعد پنڈت جی نئی دہلی واپس پہنچے۔ بھارتی دستور ساز اسمبلی میں کھڑے ہو کر ببانگ دہل اپنی اصول پسندی کا اعلان کیا کیا ہم کسی .... .... میں کشمیر کو ہڑپ نہیں کرنا چاہتے۔ اس پر فوجی قبضہ برقرار نہیں رکھنا چاہتے۔ افواج کو جلد از جلد واپس بلوانے کے متمنی ہیں۔ بس رائے شماری ہو جائے۔ کشمیری عوام اپنے فیصلے کا اظہار کر دیں۔ وہ بھارت کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ ان کی جانب سے جو بھی فیصلہ آئے گا ہم بہ دل و جان تسلیم کریں گے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی یہ ساری یقین دہانیاں ریکارڈ پر ہیں۔ ان کی کسی وقت بھی بھارتی حکومت کے اپنے ریکارڈ سے توثیق کی جا سکتی ہے۔ہمارے بھارتی سورماﺅں نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا۔ وجہ تلاش کر لیجئے اعتماد کے فقدان کا جس کا من موہن سنگھ رونا رو رہے ہیںسبب خود بخود معلوم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا کم از کم بھارتیوں کا ٹریک ریکارڈ اسی جانب اشارہ کرتا ہے لہٰذا وہ پورے کے پورے خطے کو جہنم زار بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کشمیر کسی خطہ زمین کا تنازعہ نہیں۔ یہ سوا کروڑ باشندوں کے حتمی مستقبل کا سوال ہے انہیں غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کا مطلب بھارت کو توڑنا بھی نہیں کیونکہ کشمیر کبھی آزاد بھارت کا حصہ نہ تھا۔ اتنی سی بات کا ادراک کر لیا جائے مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کی کئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ لیکن اہل بھارت اپنی شرائط پر سب کچھ طے کرنا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں لہٰذا عدم فقدان آسیب بن کر چھا چکا ہے۔ ممبئی بم دھماکوں نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا جبکہ بھارتی حکمرانوں کی اس واقعے نے نیندیں حرام کر دیں۔ اگر دونوں ملکوں کی حکومتیں مشترکہ تحقیقاتی کمشن بنا کر تفتیش کرتیں تو کسی نتیجے تک پہنچا جا سکتا تھا۔ بھارت کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔ اجمل قصاب کی سزا کا اعلان کر دیا گیا ہے حاصل کیا ہوا؟ افغانستان میں پاکستان کے ساتھ مقابلہ جاری ہے۔ کیا اس کی وجہ بھی اعتماد کا فقدان ہے یا پورے خطے پر چھا کر پاکستان کو سینڈوچ بنا دینے کی تمنا! بھارت نے 1971ءمیں مشرقی پاکستان کو علیحدہ کر لینے کے بعد یہ خیال کیا اب پورے جنوبی ایشیا میں ہمارے سامنے کوئی سر نہیں اٹھا سکے گا۔ تمام خطے کے مسائل اس طرح طے ہوں گے جیسے ہم چاہیں گے۔ کیا یہ خواب پورا ہو گیا۔ تب تک نکسل باڑی کے باغیوں کی تحریک مغربی پاکستان کے ایک حصے تک محدود تھی آج بھارت کی 28 میں سے 20 ریاستوں کے اندر اس کی دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ بھارتی فوج اور پولیس کی مشترکہ سٹرٹیجی انہیں روکنے میں ناکام ہے۔ وہ ایک چھاپہ مارتے ہیں کبھی 70 بھارتی فوجی اور کبھی 15 ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بھارتیوں کا المیہ ملاحظہ کیجئے کہ اس کا الزام خواہش رکھنے کے باوجود پاکستان پر عائد نہیں کر سکتے کہ ساری دنیا اسے ان کے منہ پر دے مارے۔