ڈار ڈرامہ

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ
ڈار ڈرامہ

آغا حشر کاشمیری برصغیر کے بہت بڑے ڈرامہ نگار رہے ہیں۔ آغا کی جی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اپنی تعریف خود ہی کر لیا کرتے تھے۔ کُسر نفسی کے لفظ کو اُنہوں نے اپنی لُغت سے ہمیشہ کیلئے خارج کر دیا تھا۔ اہل ہند کو یہ بات باور کرانے میں بھی خاص حد تک کامیاب رہے کہ وہ ہندوستان کے شیکسپیئر ہیں۔ آج وہ زندہ ہوتے تو یہ جان کر بڑے خوش ہوتے کہ ایک کشمیری بھائی نے اس روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ فن ڈرامہ نویسی کو سدرة المنتہیٰ تک پہنچا دیا ہے۔ اسے نئی نہج اور انوکھی سمت عطا کی ہے۔ حشر مرحوم تو محض ایک لکھاری تھے۔ یہ مہان اداکار بھی ہیں ان کا ڈرامائی لب ولہجہ کھیل میں جان ڈال دیتا ہے۔ آغا کے ڈراموں کو تو محدودے چند لوگ دیکھتے تھے۔ ڈار صاحب کے ناظرین بیس کروڑ عوام ہیں ڈرامے یا تو طربیہ ہوتے ہیں یا المیہ۔ ڈار صاحب کے ڈراموں میں ٹریجڈی اور کامیڈی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ انکی خداداد صلاحیتوں کا تو اُسی وقت پتہ چل گیا تھا جب ن لیگ کی پچھلی حکومت میں وزیر خزانہ تھے۔ لوگوں کو زیادہ سُود کا چکمہ دے کر اور بہلا پھسلا کر چھ ارب ڈالر بینکوں میں اکٹھے کئے۔ ایک دن لوگ صبح گہری نیند سے بیدار ہوئے تو انہیں یہ جان کر بڑی مسرت ہوئی کہ عوامی حکومت نے دو دھماکے کیے ہیں۔ ایک جوہری اور دوسرا معاشی۔ میاں نواز شریف نے ہندوستان کے تین ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ کر ڈالے اور ساتھ ہی بیک جنبش قلم بینکوں میں لوگوں کے پڑے ہوئے چھ ارب ڈالر بھی اڑنچھو ہو گئے۔ اُس وقت بھی ڈار صاحب نے دس فیصد کمی کرکے لوگوں کو پاکستانی کرنسی میں ادائیگی کی۔ آج بھی ڈالر کی اتنی ہی قیمت کم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ہر طرف واہ واہ ہو رہی ہے۔ داد وتحسین کے ڈونگرے برس رہے ہیں۔ انگشت حیرت منہ میں ڈالے لوگ سوچ رہے ہیں۔ یہ فنانس منسٹر ہے یا کوئی جادوگر! حکومت کے سب سے بڑے ناقد شیخ رشید کو بھی عجب مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ شیخ صاحب جوش تقریر میں کہہ بیٹھے تھے کہ روپیہ پرانی سطح پر آیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ اب جبکہ ایسا ہو گیا ہے تو شیخ کو اپنا بھرم قائم رکھنے میں خاصی دشواری پیش آ رہی ہے اور انہوں نے اگر مگر کی گردان شروع کر دی ہے۔ شیخ اور شرط دو متضاد چیزیں ہیں۔ ترنگ میں آ کر بسا اوقات ایسا ہو جاتا ہے۔ ڈار صاحب نے دوسرا کارنامہ اس وقت سرانجام دیا جب پیپلزپارٹی انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان دینے کی غلطی کر بیٹھی۔ انہوں نے منصب سنبھالتے ہی ملکی معیشت کی زبوں حالی کی ایسی دردناک تصویر کھینچی کہ دن کو بھی شب کی سیاہی کا گمان ہونے لگا۔ یہ تو بوریا بستر سمیٹ کر چلے گئے لیکن پانچ سال تک زرداری اینڈ کمپنی کے لبوں پر ایک ہی فغان رہی۔
”عمر بھر آپ کی اس بات نے سونے نہ دیا“
اب ماشاءاللہ حکومت کے مالیاتی جہاز کی کمانڈ ایک بار انہیں پھر سونپ دی گئی ہے۔ واقف حال لوگوں نے پہلے دن ہی حفاظتی بیلٹ باندھ لیے تھے۔ پہلے چند ماہ میں ہی ڈالر 98 روپے سے 110 تک پہنچ گیا۔ کافی دیر تک یہ منقار زیر پر رہے پھر ایک دن اچانک اُن لوگوں پر برس پڑے جن کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے روپیہ نیچے گرا تھا۔ ساتھ ہی پیشن گوئی کی کہ روپے کو اس سطح پر لایا جائے گا جہاں سے اس کا زوال شروع ہوا تھا تقریباً ایک سال کے بعد ملکی کرنسی بحال ہوئی ہے تو چار سو فتح کے شادیانے بجنا شروع ہو گئے ہیں۔ سرکاری بھوپنو، حواری، درباری، چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ڈار صاحب نے ”معجزہ“ کر ڈالا ہے۔ ایفائے عہد کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی۔ چار سو کاروانِ بہارِ فیم ان ہو گیا ہے۔ خوشحالی مستقل ڈیرے ڈالنے والی ہے۔ ہر گھر میں من وسلویٰ اترے گا نہیں بلکہ برسے گا!
کیا واقعی ایسا ہو گیا ہے یا ہو سکے گا؟ قرائین‘ شواہد اور کوائف سے ایسا لگتا نہیں ہے۔ اگر ایک سال بعد روپیہ وہیں کھڑا ہے جہاں پر پیپلزپارٹی کی نااہلی حکومت اُسے چھوڑ گئی تھی تو اس حکومت نے کونسا کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ اس عرصے میں جو مالیاتی نقصان ہوا ہے اُس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ کس قدر مدقوق منطق ہے۔ کہتے ہیں قرضوں میں سات سو ارب روپے کی کمی ہو گی۔ یہ جو ایک سال کے دوران سات سو ارب بڑھ گئے تھے وہ کس کھاتے میں جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند روز تک لاہور کے جادوگر نے دھوپ میں سیاحوں کو نچایا ہے۔ دو دن میں روپیہ پھر بری طرح گرا ہے۔ 14 مارچ کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 103 روپے کی سطح پر آ گیا تھا لیکن دستیاب نہیں تھا۔ تمام دنیا میں کرنسی کا اتار چڑھاﺅ ایک خاص میکنزم کے تحت ہوتا ہے۔ اس قسم کے STUNTS زیادہ دیر تک نہیں چلتے۔
یہ راز اب راز نہیں رہا کہ ایک ملک نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر دیئے ہیں انہیں مارکیٹ میں اتارنے سے روپے کی قدر میں وقتی طور پر استحکام آیا۔ کہتے ہیں (THERE ARE NO FREE LUNCHES) یہ رقم کس نے کن شرائط پر دی ہے؟ یہ ملک جو خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے کیا بیرونی کھیل میں شریک ہو کر اپنی انگلیاں ”سرشام“ جلا سکتا ہے؟
ایک عام آدمی کو اس بات سے سروکار نہیں کہ ڈالر اوپر جاتا ہے یا نیچے گرتا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم ہونی چاہئیں جو بدقسمتی سے نہیں ہوئیں۔ ایسا ہما ہمی میں بجلی کے نرخ مزید بڑھا دیئے گئے ہیں۔ اُدھار پر پٹرول ملنے کے باوصف نہ تو اس کی قیمت کم ہونی ہے اور نہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات ملی ہے۔ ایک عام محاورہ ہے کہ لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ ڈرو اس وقت سے جب انہیں چلتے ہوئے ٹرک کے آگے ڈال دیا جائے گا۔