پاکستان اور عرب ممالک کے تعلقات

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
پاکستان اور عرب ممالک کے تعلقات

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے دو ٹوک انداز میں ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پاکستان کی افواج کو سعودی عرب یا بحرین بھیجا جا رہا ہے۔ انہوںنے اس حوالے سے پھیلائے گئے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے نہ کسی نے فوج مانگی ہے اور نہ ہم بھیج رہے ہیں۔ بحرین کے بادشاہ نے کئی سال بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے اور یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان جو معاہدے ہوئے وہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے سب کے سامنے آچکے ہیں‘ سعودی عرب‘ بحرین اور کویت سمیت دوست ممالک کی قیادت کے حالیہ دورے ان ممالک سے پاکستان کی دوستی کا واضح ثبوت ہیں۔ ان پر کسی کو قیاس آرائی اور افواہیں پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ادھر دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ ہمسایہ اور مسلم ممالک کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ ہم ان ممالک کے اختلافات میں فریق بننے کے بجائے مثبت انداز میں مفاہمت اور مصالحت کی کوشش کرتے رہیں گے۔ مسلم ممالک کے ساتھ امریکہ کی بے وفائی اور بگڑتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں جہاں انہیں آپس میں قریب آنے کی ضرورت کا احساس ہوا ہے‘ وہیں اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں تیز تر کر رہی ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ اور ولی عہد کے یکے بعد دیگرے دورہ پاکستان کے بعد بحرین کے شاہ حماد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ نے اپنے وزیر خارجہ خالد بن احمد اور وزیر مواصلات کمال احمد کے ساتھ اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس دوران سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کیلئے امداد یا قرضے کے بجائے ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ دیا گیا تو پاکستان دشمن عناصر میں صف ماتم بچھ گئی۔ پاکستان اور بحرین نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پرامن طریقے سے حل کرنے کے علاوہ دو طرفہ تعاون‘ تجارت‘ سرمایہ کاری اور دفاع کے شعبوں میں رابطوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بحرین نے شکوہ کیا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ امریکہ سے بعض معاملات طے پانے کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے آثار واضح ہیں‘ سعودی عرب سے اس کے ہمیشہ مسلکی و فرقہ وارانہ اختلافات رہے ہیں۔ یمن میں امریکہ سعودی مخالف جذبات کو ہوا دے رہا ہے۔ بحرین شیعہ اکثریت کا ملک ہے۔ ادھر شام میں صدر بشار الاسد سنی اکثریتی آبادی پر بے پناہ مظالم ڈھا رہا ہے۔ شامی حکومت اب تک لاکھوں افراد کو بموں اور میزائلوں سے شہید کر چکی ہے۔ حالات کو مزید خراب کرنے کیلئے امریکہ اور اس کی حلیف طاقتیں سعودی عرب پر دبا¶ بڑھا رہی ہیں۔ ادھر پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں‘ جنہیں دونوں فرقوں کے رہنما¶ں اور عوام نے اپنے اتحاد و اتفاق سے ہمیشہ ناکام بنا دیا ہے۔ امید ہے کہ ایران اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک حالات کی نزاکت کا اندازہ کرکے اتحاد بین المسلمین پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔
پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان‘ سیاسی‘ اقتصادی‘ ثقافتی اور تزویراتی تعلقات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ اتحاد عالم اسلام امریکہ اور اسرائیلی لابی کو ہضم نہیں ہو رہا۔ پاکستان کی عسکری طاقت اور مشرق وسطیٰ کے وسائل عالم اسلام کی محافظ قوت کا اثاثہ ہیں۔ مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا ذریعہ نہیں بننا چاہئے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور بحرین سے تعلقات کو شام کے بحران کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تیونس سے شروع ہونے والی آمریتوں کے خلاف عوامی لہر جیسے عرب بہار کا نام دیا گیا ہے شام تک پہنچ گئی ہے اور تین سال سے بشارالاسد کی اقلیتی حکومت شاہ ایران کی طرح اپنے ہی عوام کا قتل عام کر رہی ہے۔ شام کی حکومت پر امن عوامی تحریک سے کمزور ہو چکی تھی لیکن عالمی سیاست کاروں نے اپنے اپنے علاقائی اور تزویرانی مفادات کیلئے شام کی فوج اور حکومت کی مدد کی۔ اس مداخلت میں امریکہ بھی شامل ہوگیا جس نے عیارانہ طریقے سے عوامی تبدیلی کا راستہ روک دیا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ اس اصول پر اتفاق کر لیا جائے کہ کوئی بھی مسلمان ملک کسی بھی دوسرے مسلمان ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ہم ہر حکومت کو یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ وہ اپنے عوام اور شہریوں پر ظلم نہ کریں۔ مسلم ممالک کی نبیادی کمزوری یہ ہے کہ ہر حکومت اپنے عوام پر ظلم کرتی ہے اور عالمی طاقتوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ اب یہ پاکستان کے حکمرانوںکا امتحان ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود مسلمان ممالک کے ساتھ سیاسی‘ اقتصادی و سفارتی تعلقات میں توازن قائم رکھے۔