دلعزیز دوست کا تحفہ

صحافی  |  امیر محمد خان
دلعزیز دوست کا تحفہ

مسلم امہ کی رہنماءحیثیت رکھنے والے سعودی عرب نے صرف آج ہی نہیں بلکہ ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ، نائب خادم الحرمین الشریفین شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے حالیہ دور ہ پاکستان میں پاکستان سے خیر سگالی و محبت کا اظہارکرتے ہوئے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم کا خطیر تحفہ دیا، یہ رقم ملنی تھی کہ تمام پاکستان کے ©© ” نام نہاد “ محب وطنوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گیا ۔ان کے سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ سعودی عرب نے ڈیٹرھ ارب ڈالر ضرور کسی کام کیلئے ہی دیئے ہیں ،انکی اپنی یادداشتیں یا تو کمزور ہیں یا یہ بے چارے لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں ہر دفعہ یہ لوگ نئے چہرے لیکر سامنے آجاتے ہیں اور پرانے کارناموںپر پردہ ڈالتے ہیں، سعودی عرب کی پاکستان سے محبت شائد انہیں یاد نہیں جب میاں نواز شریف نے ہی ایٹمی دھماکہ کیاتھا ، پاکستان بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں تھا ، سعود ی عرب نے تیل کی فراہمی پاکستان کو محبت اور پیار سے دی کہ پاکستان کو ڈھارس بندھی کہ دنیامیں اسکے دوست بھی ہیں۔ دراصل پاکستان میں ایک لابی جو پڑوسیوں کا کھیل رہی ہے انہیں پاکستان کی معشیت کی مضبوطی میں سعودی عرب کے کردارکا کردار اچھا نہیں لگتا ، وہ صرف ’بھیک مانگتا پاکستان ‘ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے کشادہ دل حکمراں خاندان نے سیلاب اور زلزلہ میں تو وہ کام کیا جسکا کوئی ثانی نہیں ، سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی دفعہ خودخادم الحرمین الشریفین عبداللہ بن عبدالعزیز نے میڈیا میں آکر اپنی عوام سے اپیل کرتے ہوئے پاکستان کی مشکلات کا ذکر کیا ، اور سعودی عوام نے پاکستانی مصیبت ذدہ بھائیوں کیلئے اپنے سربراہ کے کہنے پر ایک لاجواب امداد کی ، ہاں یہ ضرور ہوا کہ وہ امداد سرکاری اداروں کی دئے جانے کے بجائے پاکستان میں سعودی سفیر نے از خود اپنی نگرانی میں سعودی عرب سے آئی ہوئی خصوصی ٹیم کے ہمراہ مشکل راستوں میں جاکر وہ امداد تقسیم کی، اسکی وجہ سب کی سمجھ میں آتی ہے کہ سابقہ حکومت یا ہمارے ادارے کسطرح امداد لوگوں تک پہنچاتے ہیں سالوں گزر جانے کے باجود حکومتی امداد کا لوگ آج تک انتظار کررہے ہیں، یہ وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال ( سابقہ دور حکومت میں سیلاب ذدگان ، زلزلہ ذدگان حکومتی امداد تا وقت منتطر ہیں ) انہیں جو امدا د ملی وہ نجی لوگوں سے ملی ، یا دوست ملک سعودی عرب کے حکم پر جو تعمیرات یا امداد ہوئی بذریعہ انکے سفارت خانے یا انکی اپنی بھیجی ہوئی امدادی ٹیموں ۔ سعود ی عرب کی پاکستان سے لازوال دوستی کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھنے والوں نے سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی وطن واپسی کو بھی مسئلہ بنایا ، خادم الحرمین الشریفین نے چھ ماہ کا عرصہ نہ صرف پاکستانیوں بلکہ یہاں رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو دیا کہ وہ سعودی لیبر قوانین کی رو سے اصلاح احوال کرالیں، ان سے کہا گیا کہ اس دوران ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی ۔ نیز ضروری کاغذات وغیرہ نہ ہونے کو بھی معاف کیا ، جس سے یہاں موجود لاکھوں غیرملکیوں نے استفادہ حاصل کیا اس میں پاکستان بھی شامل ہے ، پاکستان انتخابات میں مصروف تھا تارکین وطن کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا ، ہمارے سفارت کاروں نے اسوقت اپنے تعلقات کا بھر پور استعمال کیا اور زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کے یہاں کے قوانین کے مطابق دستاویزی اور ملازمتوں کے سلسلے میں مدد کی ۔ اگر کوئی ان تمام سہولیات کے باوجود بھی یہاں غیر قانونی رہنے کی خواہش رکھے تو یہ زیادتی ہو گی۔ گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں رہنے والے ہمارے لیڈروں پر دوست ملک سعودی عرب کو اعتماد نہ تھا جبکہ سعودی عرب پاکستان سے ہمیشہ سے مخلص تھا اور مخلص ہے بات اعتماد کی ہے‘ میاں نواز شریف کی جو پذیرائی سعودی عرب اور شاہی خاندان کرتا ہے وہ دیگر رہنماﺅں کے نصیب میں نہیں وجہ پھر اعتماد کی ہے۔