جناب حمید نظامی کی حق گوئی و بے باکی

کالم نگار  |  تنویر ظہور
جناب حمید نظامی کی حق گوئی و بے باکی

ابصار عبدالعلی صاحب نے بدھ کو فون پر مجھے ”دور حاضر کے میڈیا پر حمید نظامی کی بے باک اور نظریاتی صحافت کے اثرات“ کے موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی۔ پہلی مرتبہ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے تحت منعقدہ سیمینار میں مجھے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا ہے‘ میں امید کرتا ہوں یہ آخر نہیں ہو گا۔ سوچنے اور لکھنے کا میرے پاس صرف ایک دن تھا یعنی جمعرات کا دن جناب حمید نظامی پر بے شمار مضامین لکھے گئے اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں میں نے سوچا‘ کوئی نئی بات ہونی چاہئےے۔ جناب حمید نظامی کی شخصیت‘ بے باک اور نظریاتی صحافت پر ایسی باتیں جو بہت کم یا نہ کی گئی ہوں۔
جناب حمید نظامی کا جب انتقال ہوا اس وقت میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا ‘ لہذا میری ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ البتہ حمید نظامی صاحب سے تین چیزوں کی میری سانجھ ہے۔ پہلی سانجھ یہ کہ قبرستان میانی صاحب میں جناب حمید نظامی کی تربت کے قریب میری والدہ کی تربت ہے۔ جب میں اپنی والدہ کی تربت پر جاتا ہوں تو پہلے جناب حمید نظامی کی تربت پر کھڑا ہو کر فاتحہ خوانی کرتا ہوں ۔جناب حمید نظامی کے مرقد پر جو پتھر نصب ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے ”حمید نظامی مدیر و بانی نوائے وقت۔ تاریخ پیدائش 3جنوری 1915ءتاریخ وفات 25فروری 1962ءرمضان المبارک۔ عقیدہ و تعلیم: جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔ جناب حمید نظامی سے دوسری سانجھ اسلامیہ کالج ہے انہوں نے 1932ءمیں اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ٹھیک 32برسوں بعد اسی کالج میں میں نے فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا۔ جناب حمید نظامی کالج میگزین ”کریسنٹ“ کے مدیر رہے اور 1965ءمیں ”کریسنٹ“ کے مدیر ہونے کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہوا۔ بیدار ملک صاحب کی کتاب ”یاد ان مکتب“ 1986ءمیں شائع ہوئی۔ ملک صاحب کا اصل نام محمد قدیر ہے۔ ان سے حمید نظامی صاحب کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے جناب حمید نظامی پر بھی مضمون شائع کیا۔ اپنے مضمون میں ملک صاحب نے جناب حمید نظامی کی جمہوریت پسندی‘ بے باکی اور جرا¿ت اظہار کے بارے میں لکھا۔ وہ لکھتے ہیں ”جناب حمید نظامی جمہوریت پسند اور جمہوری اقدار کے سخت پابند تھے ۔ نظامی صاحب نے اردو اخبارات کو برسر اقتدار اصحاب کیلئے میزان احتساب بنا دیا۔ انہوں نے جو کچھ ”لکھا“ اللہ کے خوف اور وطن کی محبت میں لکھا۔ قومی معاملات میں وہ اپنے خیالات کو بے روک ٹوک بیان کرنے کے عادی تھے۔ وہ مارشل لاءکو ملک و قوم کی ذہنی آب و ہوا کے منافی سمجھتے تھے۔جناب حمید نظامی سے تیسری سانجھ پنجابی زبان و ادب سے ان کی محبت ہے۔ آپ کو علم ہی ہے کہ میرا زیادہ حوالہ پنجابی زبان و ادب ہے۔ اور میں جناب حمید نظامی کی پنجابی زبان و ادب سے محبت کا ذکر کروں گا۔ جب میں بی اے کا سٹوڈنٹ تھا ان دنوں بابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ ڈاکٹر محمد باقر نے پنجابی ادبی اکیڈمی بنائی۔ مگر اکیڈمی کے انتظامی، علمی اور ادبی امور کی ذمے داری ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی تھی ۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر صاحب‘ جناب حمید نظامی کا اکثر ذکر کرتے اور فرماتے کہ میں نے حمید نظامی صاحب کو پنجابی میں لکھنے کیلئے کہا اور ان کے چند مضامین اپنے رسالے ماہنامہ ”پنجابی“ میں شائع کئے۔ ڈاکٹر فقیر صاحب نے اگست 1952ءکا ماہنامہ پنجابی مجھے عنایت کیا جو سالنامہ تھا۔ اس میں ایک مضمون بعنوان ”جمہوری ملک“ چھپا تھا۔ لکھاری کے نام تھا ”مولانا حمید نظامی ایم اے ایڈیٹر نوائے وقت“ ٹائٹل کے اندرونی صفحے پر چار تصویریں شائع کی گئیں‘ جس میں گلابی سیاہی استعمال ہوئی۔ یہ چار تصویریں ان شخصیات کی تھیں۔ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر ‘ مولانا عبدالمجید سالک‘ نواب مہدی علی خاں اور حمید نظامی ۔ رسالے کی قیمت 12آنے تھی۔ اس مضمون میں جناب حمید نظامی نے قائد اعظم کا ایک تاریخی واقعہ درج کیا۔ وہ لکھتے ہیں ” 1941ءیا 1942ءدلی دے عربک کالج دے ہال آل انڈیا مسلم لےگ کونسل دا جلسہ سی۔ ایس وچ ایہہ قرار داد پیش ہوئی کہ خاکساراں نوں مسلم لےگ وچوں کڈھ دتا جائے۔ میں کلا ممبر ساں‘ جنے ایس تجویز دے خلاف تقریر کیتی۔ میرے بعد کئی ممبراں نے ایس قرار داد دے حق وچ تقریراں کیتیاں تے صدر نے وی اپنے خیالاں دا اظہار کیتا۔ اوہناں دی رائے وی ایہوں سی کہ خاکساراں نوں لیگ وچوں کڈھن دی تجویز منظور کر لینی چاہیدی اے۔ جدوں ایہہ تقریراں ہو چکیاں تے میں صاحب صدر کولوں یعنی قائد اعظم کولوں اجازت منگی کہ مینوں چند منٹ وقت دتا جائے۔ اوہناں نے اجازت دے دتی۔ جس ویلے میں سٹیج تے آیا تے نواب اسماعیل خان صاحب نے مینوں اکہیا۔ ”قائد اعظم وی اپنی رائے اظہار کر چکے نہیں توں ہن کیہہ آکھنا چاہنا ایں۔ جا اپنی تھاں تے بہہ جاں۔ ایہہ گل قائد اعظم نے سن لئی تے نواب صاحب نوں ڈانٹ کے آکھیا‘ اپنے خیالاں دا اظہار کرن دا اینوں پورا حق اے۔ توسی اینوں روکن والے کون ہوندے او تے مینوں کہیا۔ برخوردار! جو کجھ توں کہنا ایں ‘ شوق نال کہو اتفاق ایسا سی کہ اک تاں لوک خاکساراں کولوں انج ای ناراض سن‘ دوجے قائد اعظم وی اپنی رائے اوہناں دے خلاف ظاہر کر چکے سن میں تقریر شروع کیتی تے کجھ جو شیلیاں نے کھپ پادتی قائد اعظم نے کرسی توں اٹھ کے اوہنا نوں ڈانٹیا تے آکھیا۔ جے تسیں اپنی رائے نال اختلاف رکھن والے اپنے ای بھرا دی گل سنن دا حوصلہ نہیں رکھدے تے غیراں کولوں کس منہ نال آزادی منگدے او؟ ایہہ جھاڑ سن کے سارے چپ ہو گئے تے میں تقریر کیتی“۔ وہ اقبالؒ کے قلندر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کے اس شعر پر عمل پیرا رہے ۔وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے۔
آئین جو اں مرداں‘ حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی