تجدید عزم‘ مجید نظامی اور فکر اقبال

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
تجدید عزم‘ مجید نظامی اور فکر اقبال

23 مارچ 1940ءوہ تاریخی دن ہے جب ہندوستان کے مسلمانوں نے قائداعظم کی قیادت میں علیحدہ وطن کے حصول کی قرارداد منظور کی تھی۔ صحافتی دنیا میں بھی یہ دن اس لحاظ سے تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ مسلم لیگ کے پیغام کو عام کرنے کیلئے تحریک پاکستان کے نامور کارکن حمید نظامی نے روزنامہ نوائے وقت کی اشاعت کا آغاز کیا جو آج تک قیام پاکستان کے مقاصد کا پرچم سربلند رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ باون برس جناب مجید نظامی اس صحافتی پرچم تلے کلمہ حق کہنے اور قیام پاکستان کے مقاصد کو زندہ پائندہ رکھنے کیلئے مجاہدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہندو¶ں کی اکثریت والے ہندوستان ہندو¶ں کے مہاتما گاندھی نے ہندوستان کی تقسیم کو گﺅ ماتا کے ٹکڑے کرنے کے مترادف قرار دیا تھا جبکہ کانگریسی مولانا ابوالکلام نے کہا تھا کہ وہ پاک اور پلید زمین کے نظریہ پر ہندوستان کی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہندو رہنما¶ں کے ان فریب آلود نظریات کو باطل ثابت کرنے کی جدوجہد میں نوائے وقت نے تاریخی کردار ادا کیا۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے صرف سات سال بعد 14 اگست 1947ءکو ہندوستان تقسیم ہو گیا اور دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ممالک عالمی نقشوں پر جگمگانے لگا۔ یہ پس منظر ہمیں ”عزم تجدید عہد“ کے زیر عنوان اس خصوصی اعلانیہ اشتہار کو پڑھ کر یاد آیا جو اس سال 23 مارچ کے دن نوائے وقت اور دی نیشن میں شائع ہوا۔ جناب مجید نظامی نے تجدید عزم کا چراغ روشن کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ....”ہمارا ایمان اور ہماری منزل قائداعظم اور علامہ اقبال کے نظریات اور تصورات کی روشنی میں اس مملکت خداداد کی تعمیر و ترقی ہے۔ ہم دو قومی نظریئے کو اس ملک کی بنیاد اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کے لئے پیہم جدوجہد کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں اس لئے ہم روز اول سے قائداعظم کے فرمان ایمان اتحاد تنظیم کی صدا دیتے آرہے ہیں....“
تجدید عزم کے آخر میں جناب مجید نظامی نے لکھا ہے کہ انہیں نوائے وقت کی ادارتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے 52 سال ہو چکے ہیں اور اس دوران میں نے ہمیشہ اپنے قلم کے ذریعے ارض پاک کا قرض اتارنے کی کوشش کی ہے جناب مجید نظامی کا انکسار اپنی جگہ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قلم کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے دلیرانہ عمل سے پاکستانی نظریے کا پرچم سربلند رکھا ہے اور ذاتی یا مالی مفادات کے پیش نظر کبھی کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں کیا جو نظریہ پاکستان کو مجروح کرنے والا ہو۔ پیرانہ سالی کے باوجود پاکستان سے انکی بے مثال محبت دیکھ کر دل سے بے ساختہ یہ دعا نکلتی ہے۔
خدا دراز کرے عمر اس مجاہد کی
تجدید عزم کے حوالے سے ان حالات پر نگاہ ڈالیں جن کا سامنا آج مملکت خداداد کر رہی ہے تو دھیان بانیان پاکستان کے فکر و فلسفہ کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کے آئینہ افکار میں پاکستان ایک جدید اسلامی ملک کی صورت اجاگر ہوا تھا۔ پاکستانی آئین اور قوانین میں مسلک پرست ملا¶ں کی قدامت پرستی ان دونوں رہنما¶ں کے آئینہ ادراک کا حصہ نہیں تھی ورنہ ہی مفاد پرست‘ پیداگیر اور سیاست کو وراثت سمجھنے سیاست دانوں کی کوئی گنجائش تھی۔ اس وقت پاکستان جن لہو رنگ مسائل اور معاشی عدم مساوات کا شکار ہے۔ اسکی واحد وجہ یہی دو طبقات ہیں۔ مذہبی دستاروں تلے مفادی اور سیاسی چوغوں والے ”علمائ“ اور بے اندازہ ناجائز دولت پیدا کرنے کے جنون میں مبتلا سیاستدان خود یا انکی اولادیں ایک عرصہ سے ہمارے قانون ساز اداروں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ غریب اور نچلے درجے کے پاکستانیوں کے مسائل سے ناآشنا ہیں اور جدید زمانے کے نت بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق قرآنی روح کی روشنی میں قانون سازی کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں کسی بھی باصلاحیت شہری کو سیاسی یا مسلکی تعلق استعمال کئے بغیر سرکاری اداروں میں شان شایان جگہ نہیں ملتی اور کسی قابل لیکن عام شہری کا کسی قانون ساز ادارے میں پہنچنا تو ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ مفکر پاکستان اور قانون دان علامہ اقبال نے آج سے تقریباً ایک صدی قبل اس بیماری کا شافی علاج تجویز کر دیا تھا۔ سچے مسلمان اقبال کا عقیدہ تھا کہ اسلام اور قرآن تاقیامت ہر زمانے کے حالات کے مطابق ہدایات کا سرچشمہ ہے۔ اس لئے وہ اسلامی قانون کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے ہر زمانے کے بدلتے ہوئے معاشرتی حالات کے مطابق اسلام کو موثر اور متحرک رکھنے کا نسخہ اجتہاد کو سمجھتے تھے۔ وہ موجودہ ارکان اسمبلی جیسے لوگوں کو مطلوبہ قانون سازی کیلئے موزوں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عام آدمی کے روزمرہ مسائل سے آگاہ جدید اقتصادیات‘ اجتماعیات‘ بین الاقوامی اور اسلامی قوانین کے ایسے ماہرین جو قانون محمدی کے اصولوں پر پوری طرح حاوی ہوں‘ انہیں قانون سازی کا اختیار دینا چاہتے تھے۔ یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جو پاکستان لاحق مسلکی‘ فرقہ وارانہ مساوات دشمن اور مفاد پرستانہ بیماریاں ختم کر سکتا ہے اور نظریہ پاکستان کو دنیا میں سرفراز بنا سکتا ہے۔ تجدید عزم کرنے والے سچے پاکستانی جناب مجید نظامی سے درخواست ہے کہ اسمبلیوں کے انتخابی عمل کو فکر اقبال کی روشنی میں انقلاب آشنا کرنے کی تحریک چلائیں۔ انشاءاللہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی کیونکہ بقول اقبال ....
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی