کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے عالمی اعزازات

کالم نگار  |  بیدار سرمدی
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے عالمی اعزازات

وحدت روڈ لاہور کے پہلو میں سی پی ایس کے ریجنل آفس کے نام سے ایک خوبصورت اور زندگی سے بھرپور بین الاقوامی معیار کی عمارت میں وہ منتخب سینئر ڈاکٹر بیٹھے تھے جو اس وقت کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے صدر پروفیسر ظفراللہ چودھری کی قیادت میں عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کرنے کے نئے ریکارڈز قائم کر رہے ہیں۔ صدر کیساتھ یہاں ڈائریکٹر ریذیڈنسی پروگرام پروفیسر محمود ایاز‘ پروفیسر عامر زمان خان‘ پروفیسر محمد طیب اور بہت سے فیلو اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینی آنکھوں میں اپنے قائدین کیلئے محبت کی چمک کیساتھ موجود تھے۔ میڈیا کے سینئر ارکان کے سامنے سی پی ایس پی کے منتخب سینئر نائب صدر‘ لاہور ریجن کے سربراہ ممتاز سرجن پروفیسر خالد مسعود گوندل انتہائی سلیقے سے پاکستان میں 90 فیصد اور مسلح افواج کے 100 فیصد سپیشلسٹ ڈاکٹر اور عالمی سطح کی سات ڈگریوں میں سے ایک ڈگری دینے والے ادارے سی پی ایس پی کی کامیابیوں کا اس طرح تذکرہ کرتے جاتے تھے کہ انکے ہر حملے کی گواہی پردہ سکرین پر متحرک ورلڈ بنک اور یورپی ممالک کی اہم شخصیات کی ویڈیو تقاریر کے کلپس سے ہوتی جاتی تھی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بلند کرنیوالے یہ مناظر ہر طرح کی سیاست سے پاک تھے۔ پردۂ سکرین پر 17 دسمبر 2015ء کو آکسفورڈ (UK) میں منعقد ہونیوالی وہ تقریب بلاشبہ قابل فخر تھی جس میں سائنس ٹیکنالوجی اور میڈیکل ایجوکیشن میں سی پی ایس پی کو بہترین ادارہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے میڈیکل اعلیٰ تعلیم کے اس ادارے اور اسکے صدر پروفیسر ظفر اللہ چودھری کو 2015ء کیلئے ’’لندن سقراط ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ بھی دکھایا گیا کہ کس طرح ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے سی پی ایس پی اور آئرلینڈ کے درمیان ڈاکٹروں کی اعلیٰ تعلیم کیلئے ٹریننگ کے منفرد طریقہ کار کے معاہدے کو دنیا بھر کیلئے رول ماڈل قرار دیکر انہیں اعزاز اور انعام کا مستحق قرار دیا۔ اس تقریب کے ویڈیو کلپس دنیا بھر کے میڈیا چینلز سے لئے گئے تھے اور ان میں پاکستان کے نوجوان ٹرینی ڈاکٹروں کو مذکورہ معاہدے کے تحت آئرلینڈ کے ہسپتالوں میں سی پی ایس پی کے نصاب اور تربیتی لائحہ عمل کی روشنی میں تربیت لیتے‘ تاثرات دیتے اور میزبان ملک کے متعلقہ سٹاف کو پاکستان کی تعریف کرتے دکھایا گیا تھا۔ اعلیٰ طبی تعلیم کیلئے میڈیکل تربیت کے اس معاہدہ کا خاکہ وریڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم پر برازیل میں 2013ء کی انٹرنیشنل کانفرنس کے موقع پر سامنے آیا۔ یہ معاہدہ ٹریننگ کیلئے عارضی مائیگریشن کے تصور پر مبنی تھا۔ تب سے اس تصور کو سی پی ایس پی اور ایچ ایس سی (ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ آف آئرلینڈ) کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان کے پوسٹ گریجویٹ ٹرینی اب دو سال کی مدت کیلئے آئرلینڈ کے ان ہسپتالوں میں جنہیں سی پی ایس پی کا الحاق حاصل ہے‘ ٹریننگ کے بعد لازماً پاکستان واپس آ کر ایف آر سی پی پارٹ II کا امتحان دیتے ہیں۔ عارضی مائیگریشن کے اس تصور کو برین ڈرین کی بجائے ’’برین گین‘‘ کا نام دیا گیا اور سی پی ایس پی کی موجودہ قیادت نے اس عارضی مائیگریشن کو صرف پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ سعودی عرب کے ساتھ ایسا معاہدہ بھی کیا گیا جسکے تحت سینئر فیلوز تین تین ماہ کیلئے اچھے معاوضے پر باہر جاتے ہیں۔ پروفیسر خالد مسعود گوندل نے اپنی پریذنٹیشن کے ذریعے سی پی ایس پی اور سعودی عرب‘ نیپال‘ امریکہ‘ چین‘ برطانیہ‘ آئرلینڈ اور دوسرے ممالک کے میڈیکل سے وابستہ حکام ڈاکٹروں اور ماہرین طب کیساتھ ملاقاتوں اور ایم او یوز کی ویڈیو کلپس اور سلائیڈوں کے ذریعے ایسا سماں باندھا کہ اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان میں اعلیٰ میڈیکل تعلیم کا ایک ادارہ ملکی وقار میں اضافے اور وطن کیلئے قیمتی زرمبادلہ کی فراہمی کے سلسلے میں جو بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ صرف عالمی اعزازات کی بات ہو تو 2013ء میں یورپین اسمبلی کے طرف سے سقراط بہترین کا ایوارڈ 2014ء میں سوئٹزرلینڈ کی تقریب میں فرائض کے ادارے DMAC کی طرف سے کوالٹی پریسٹیج کی بنیاد پر گولڈن یورپ ایوارڈ اور پھر 2015ء میں ایجوکیشن اور میڈیکل سائنسز میں سقراط ایوارڈ شامل ہیں۔ کالج کے ریجنل ڈائریکٹر اور سینئر نائب صدر پروفیسر گوندل کے بعد جب کالج ٹیم کے لیڈر اور صدر پروفیسر ظفر اللہ چودھری نے صحافیوں کو مکالمے کی دعوت دی تو میڈیکل ایجوکیشن سے پاکستان کے شعبہ صحت کو درپیش مسائل تک بحث کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ اسی پس منظر میں سی پی ایس پی نے عارضی ایکسٹرنل مائیگریشن کی طرح انٹرنل عارضی مائیگرین کی تجویز حکومت کو دی۔ جسکے تحت پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی تربیت کے آخری سال میں تین تین ماہ کیلئے اضافی وظیفہ کے ساتھ دیہی علاقوں کے طبی مراکز میں کام کرتے۔ مہینے میں ایک دن کیلئے اپنے اصل ٹریننگ انسٹی ٹیوشن میں واپس آ کر اپنے تجربات کو شیئر کرتے۔ انکی رہائش اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جاتا۔ فی الحال یہ کیا کم ہے کہ پاکستان کا ایک ادارہ ایسا ضرور ہے جو عالمی سطح پر ملک کی نیک نامی کا باعث بھی بن رہا ہے اور ملک کیلئے زر مبادلہ اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔