یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی!

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی!

برطانیہ نے 43سال بعد یورپی اتحاد کی سب سے بڑی اور اہم تنظیم یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔اس تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا ۔برطانوی عوام نے اس فیصلے کے ذریعے بین الااقوامی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اور دانشوروں کے تمام تجزیوں کو غلط ثابت کر دیا۔ عمومی طور پر یہ خیال پایا جاتا تھا کہ برطانوی عوام یورپی یونین میں رہنے کو ہی ترجیح دینگے۔ امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت یورپی یونین کے سبھی ممبر ممالک کے قائدین کا خیال تھا کہ برطانوی عوام یورپی یونین کے حق میں ووٹ دینگے۔
برطانوی ریفرینڈم میں ڈالے جانیوالے ووٹوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ لندن، سکاٹ لینڈ اور شمالی ائر لینڈ کے لوگوں نے یونین کے حق میں جبکہ مشرقی انگلینڈ،ویلز اور مڈ لینڈ کے لوگوں نے یونین سے علیحدگی کیلئے ووٹ دیا۔ برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کی اکثریت نے یونین کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ برطانیہ کی 18 سے 24 سال کی عمر تک کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی نے اس ریفرینڈم میں برطانیہ کی یورپی یونین ہی میں رہنے کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ باقی ماندہ 27 ارکان متحد رہنے کیلئے پر عزم ہیں۔یورپی یونین کی مخالف تنظیموں نے فرانس، نیدر لینڈ اور اٹلی میں بھی ریفرینڈم کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے قیام کا پس منظر انتہائی دلچسپ اور اہم ہے۔یورپی یونین براعظم یورپ کے 28ملکوں کا اتحاد ہے۔اسکے قیام کے اقتصادی و سیاسی مقاصد تھے۔ 28 میں سے 18 رکن ممالک واحد کرنسی "یورو" استعمال کرتے ہیں۔یورپی ممالک کے سیاسی و اقتصادی طور پر متحد ہونے کی اہم ترین وجوہات میں یورپ کو کسی تیسری عالمی جنگ سے بچانا اورریاست ہائے متحدہ امریکہ کے برابر اقتصادی قوت بننے کیلئے مشترکہ اقتصادی قوت تخلیق کرنا ہے۔ 1952ء میں مغربی جرمنی، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ نے کوئلے اور سٹیل کی واحد یورپی کمیونٹی تشکیل دی۔1957ء میں اسکے رکن ممالک نے اطالوی دارالحکومت روم میں ایک اور معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے یورپی اقتصادی کمیونٹی تشکیل دی ۔1992ء میں اس کا نام یورپی یونین رکھا گیا۔ شینجن معاہدے کے تحت 13 رکن ممالک نے اپنی سرحدیں ایک دوسرے کیلئے کھول دیں اور اب انکے باشندے بغیر کسی پاسپورٹ یا ویزے کے ان ممالک کے درمیان سفر کرسکتے ہیں۔ 2002ء میں 12 رکن ممالک نے اپنی قومی کرنسیوں کی جگہ یورو کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ 2004ء میں 10 اور 2007ء میں 2 نئے ممالک نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔ 2014ء میں کروشیا نے شمولیت اختیار کیا۔یورپی یونین کے رکن ممالک کا کوئی بھی باشندہ تنظیم کے کسی بھی رکن ملک میں رہائش اختیار کرنے کے علاوہ ملازمت، کاروبار اور سیاحت کرسکتا ہے اور اس کیلئے کسی پاسپورٹ، ویزا یا دیگر دستاویزات کی کوئی ضرورت نہیں۔ بالکل اسی طرح کسی ایک ملک کی مصنوعات بھی دوسرے ملک میں کسی خاص اجازت یا اضافی محصولات کے بغیرفروخت کی جاسکتی ہیں۔
یورپی یونین سے علیحدگی کے نتیجے میں برطانیہ اور یونین کے 27ممالک کے شہریوں کو امیگریشن، روزگار اور آمدرفت کے حوالے سے کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔یورپی یونین کے ممبر ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے ملک میں آزادانہ آ اور جا سکتی تھی اب اسے امیگریشن اور ویزے کی پابندی کرنا ہو گی۔ایک اندازے کیمطابق برطانیہ میں 20لاکھ سے زائد یورپی باشندے مقیم ہیں ان کا مستقبل بھی اب گومگو کا شکار ہو گا۔ یورپین پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد رکن سجاد کریم کا خیال ہے کہ برطانیہ کے اس فیصلے سے یورپ میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے زیر اثر کئی اور ممبر ممالک بھی یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے میں متحرک ہو جائینگے۔
عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایک طرف تو برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رحجان دیکھا گیا۔برطانوی کرنسی پونڈ کی قدر میں بھی بڑی کمی آئی ، فیصلہ آنے سے پہلے پاکستانی مارکیٹ میں پونڈ 155روپے کا تھا لیکن فیصلے کے فوری بعد اس کی قدر گھٹ کر 142روپے تک آ گئی۔ اسی طرح جرمن اور کئی دوسری یورپی کرنسیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔تاہم اس فیصلے کے بعد سونے کی قیمت دو سال کی بلند ترین سطح پر آ گئی۔ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈی نے برطانوی عوام کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ کو کم کرتے ہوئے ’منفی‘ کر دیا ہے۔موڈیز کے مطابق اس ریفرینڈم کے نتیجے میں ’ملک کے درمیانی مدت کے ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ اور اس نے برطانیہ کے طویل مدتی فراہم کنندہ اور قرض کی ریٹنگ کو ’مستحکم‘ سے ’منفی‘ کر دیا ہے۔یورپی پونین سے برطانیہ کی علیحدگی کا مکمل عمل دو سال میں پورا ہو گا ۔اس عرصے کے دوران یونین کے باقی امور،یورپی شہریوں کے مستقبل اور Assetsکی تقسیم کے معاملات بھی طے کرنے ہوں گے۔ برطانیہ یورپی یونین کے بجٹ میں سب سے زیادہ رقم دینے والا ملک ہے۔ برطانیہ ہر سال 12ارب ڈالر یورپی یونین کو دیتا تھا۔ اب یہ رقم وہ اپنے شہریوںپر صرف کر سکے گا۔یہ سب معاملات اپنی جگہ یقینا اہمیت کے حامل ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ کے اس فیصلے سے یورپ کے اتحاداور مستقبل کی سیاسی اور سیکورٹی حدبندی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔