تلورکی نسل نایاب یا شاداب

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
تلورکی نسل نایاب یا شاداب

سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر پابندی لگائی تو اسے ایک حلقے نے سراہا گیااور دوسرے نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس فیصلے پر سپریم کورٹ نے نظرثانی کرتے ہوئے شکار کی اجازت دیدی تو پہلے فیصلے پر شادیانے بجانے والے ماتم کناں جبکہ مخالفت کرنیوالے شاداں و فرحاں دکھائی دیئے۔ تلور کے شکار پر پابندی لگانے کیلئے عدالت جانیوالوں کا موقف تھا کہ عرب شہزادے تلور کا شکار کر کے اسکی نسل کو ختم کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے پابندی لگا دی۔ نظرثانی کی درخواست پر سماعت کے دوران سکے کا دوسرا رخ سامنے آیا تو پابندی اُٹھا دی۔
تلور ہر سال سائبیریا سے شدید سردی میں معتدل موسم کے علاقوں کا رخ کرتا ہے۔ ان میں پاکستان، افغانستان، ایران، سری لنکا اور بھارت شامل ہیں۔ عرب شہزادے پاکستان آ کر اس کا شکار کرتے ہیں۔ مقامی شکاری بھی خیر نہیں کرتے۔پابندی کے دنوں میں تلور کی تجارت کرنیوالوں کے وارے نیاریتھے۔ یہ چوری چھپے شکار کر کے ایک ایک تلور 90 ہزار تک میں سمگل کرتے رہے۔ بھارت کی طرف سے ان شہزادوں کو اپنے ہاں بارہا شکار کی دعوت دی گئی۔ شاید تحفظ اور تحفظات کے باعث انہوں نے شکار کی غرض سے انڈیا میں ٹھکانے بنانے اور سرمایہ کاری کرنے کو مناسب نہیں سمجھا۔ بھارت پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے ہمیشہ سے کوشاں رہا ہے۔ پاکستان میں تلور کے شکار پر پابندی لگی جو عربوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے تو بھارت سے زیادہ کسی اورکو اطمینان اور خوشی کیاہوئی ہو گی۔ یہ پابندی عین اس وقت لگی جب وزیر اعظم نواز شریف نے جنگ یمن میں سعودی فرمانروا کو فون کر کے پاک فوج کے دستے بھجوانے کی خود پیشکش کی جبکہ مولانا فضل الرحمن کی انگیخت پر آصف زرداری نے ایک اے پی سی بلا کر حکومت کو معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے پر مجبور کردیا۔ پارلیمنٹ کے انکار پر پاک سعودیہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ دیگر عرب ریاستیں سعودی عرب کیساتھ تھیں۔ اس دوران تلور پر پابندی کا فیصلہ آ گیا تو کشیدگی کا سوا نیزے پر جانا فطری امر تھا۔ اس سے فوری فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے مودی عرب ممالک کے دورے کرکے ان کو اپنے دام الفت میں پھنسانے اور پاکستان کیخلاف بھڑکانے لگے۔ سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تو عرب ممالک کیساتھ کشیدگی میں کمی آنا شروع ہوگئی۔
کالا باغ ڈیم کی طرح انڈیا کی طرف سے تلور کے شکار پر بھی خبث پایا جاتا ہے۔ اس پر پابندی کیلئے اسکے پروردہ لوگ معاملہ سپریم کورٹ لے گئے۔ اسکے ساتھ ہی تلور کی معدوم ہوتی ہوئی نسل کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر میڈیا میں کئی خدائی خدمتگاروں نے طوفان اٹھا دیا جس کی گرد ابھی تک بیٹھ نہیں سکی۔
کسی نے بڑے پتے کی بات کی۔: آج امن و امان کے مخدوش حالات کی وجہ سے کوئی سرمایہ کار پاکستان آنے کیلئے تیار نہیں۔ سیاحوں کیلئے بھی پاکستان کے حالات سازگار نہیں۔کھیلنے کیلئے کوئی ٹیم پاکستان نہیں آتی۔ ان حالات میں بھی عرب لوگ پاکستان آکر شکار ہی کھیل لیتے ہیںتو اسے غنیمت جاننا چاہیے۔ انکے اس شوق سے پاکستان میں سالانہ اربوں روپے کا زر مبادلہ آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عربوں کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی اور معیشت کی مضبوطی کیلئے تلور کی نسل کو ختم ہونے دیا جائے؟ میرے نزدیک تو اس کا جواب نفی میں ہے مگر یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے۔: کیا واقعی تلور کی نسل شکار سے ناپید ہو رہی ہے؟ اس حوالے سے میں نے ریسرچ کرنے کی کوشش کی تو کرنل (ر) رانا کمال الدین سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے معلومات اور تفصیلات پر مبنی تحریری مواد، تصاویر اور ویڈیو کی ایک گٹھڑی کھول کر میرے سامنے رکھ دی۔
’’عرب حکمران خصوصی طور پر متحدہ عرب امارا ت کے شیخ تلور (ہوبارہ ) کا شکار ہی نہیں کرتے اسکی نسل کی افزائش بھی کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل فنڈ فار ہوبارہ کنزرویشن کے تحت ابوظہبی نے 1996ء میں بہت بڑی تعداد میں تلور کی افزائش کی ذمہ داری اٹھائی۔ اُس وقت سے لیکر اب تک مجموعی طور پر2لاکھ48 ہزار تلورکی افزائش کر کے آزادفضا میں چھوڑے گئے۔یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ہزار ہا ہوبارہ پھندے بازوں اور سمگلروں سے ضبط کر کے چھوڑا گیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، شکار سے تلور کی نسل ختم ہو رہی ہے یا افزائش کے عمل سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ہرن اور باز کی معدوم ہوتی ہوئی نسل کے تحفظ کیلئے بھی امارات حکومت اقدامات کررہی ہے۔ سمگلروں اور پھندہ بازوں کے قبضے سے ہزار ہاباز بازیاب کر کے ابوظہبی کی اینوائرنمنٹ ایجنسی نے شیخ زید فالکن ریلیز پروگرام کے تحت پاکستان کی فضائوں میں آزاد کیا گیا۔ شیخ زید بن سلطان النہیان کی ہدایت پر ہرنوں کی افزائش کا ایک ادارہ رحیم یا رخان کے قریب 1997ء میں ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ پر بنایا گیا اس میں اب چنکارہ ہرنوں کی پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہاں ابوظہبی کی طرف سے پاکستان میں شروع کیے گئے دیگرمنصوبوں کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں26 ہسپتال، ڈسپنسریاں، تشخیصی مراکز اور منشیات بحالی کے مراکز، 6 ایئر پورٹ اور ہوائی پٹیاں تعمیرکرکے پاکستان کے حوالے کی گئی ہیں۔ 100سے 150گھروں پر مشتمل کالونیوں کے 26 منصوبے مکمل کئے گئے۔عوام کی فلاح کیلئے 41 عدد ٹیوب ویل، پانی کے ذخائر اور ایک نہر تعمیر کی گئی۔ 43 مساجد اور مدارس بنائے گئے۔ 4 اسلامک کلچر سنٹر تعمیر کرکے انکے انتظامات ضلعی حکومتوں کو سونپ دیئے۔بجلی کی پیداوارکے پانچ منصوبے شروع کیے گئے۔ سینکڑوں مستحق طلباء کو سکالر شپ دی گئیں۔ 134 طلبہ ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کیلئے سپانسر کیا گیا۔ اسکے علاوہ اور بھی بہت سے منصوبے مکمل کر کے حکومت کے حوالے کئے گئے۔
تلور کا شکار کرنیوالے ممالک میں سے ایک ریاست کی پاکستان میں خدمات کا یہ اختصار کیساتھ لیا جانیوالا جائزہ ہے۔ سعودی عرب،دبئی،قطر، بحرین، کویت جیسے ممالک بھی پاکستان کی دل کھول کی اعانت کرتے ہیں۔بلا شبہ پاکستان میں انکے پراجیکٹس میں لاکھوں مقامی لوگوں کو روزگار حاصل ہوا ہے۔ ان ممالک میں موجود لاکھوں پاکستانی سالانہ کھربوں روپے کا زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔تلور کے شکار کیخلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرکے بھارت اور اسکے گماشتے دراصل پاکستان کی معیشت کو برباد اور اسے دنیا میں تنہا کرنے کی سازش کررہے ہیں جسے محب وطن پاکستانیوں کو سمجھنا چاہیے۔