کابل میں بھارتی ڈیفنس اتاشی کا غیر اخلاقی رویہ

کالم نگار  |  سلطان محمود حالی
کابل میں بھارتی ڈیفنس اتاشی کا غیر اخلاقی رویہ

کابل میں بھارتی سفارت خانے میں تعینات ڈیفنس اتاشی بریگیڈئیرایس کے نرائن کو نا پسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ واقعات کچھ یوں رونما ہوئے کہ حال ہی میں کابل میں بھارتی سفارت خانے نے اخبارات میں اشتہار کے ذریعے افغانی طلباء اور طالبات کو دہلی میں تعلیم کے مواقع اور اسکالر شپ حاصل کرنے کے مواقع کیلئے انٹرویو کی دعوت دی گئی۔ بظاہر یہ بھارتی خفیہ ایجنسی راٗ کیلئے نئے افغان رنگروٹ بھرتی کرنے کیلئے جال تھا کیو نکہ امیدواروں کے انٹرویو کے موقع پر تعلیمی میدان سے ماہرین کے علاوہ بھارتی سفارت خانے کے ڈیفنس اتاشی اور سفارت خانے میں تعینات ’’رائ‘‘ کے خفیہ ایجنٹ بھی موجود تھے جنگ سے تباہ حال افغانستان کے نوجوان اور لڑکیوں کیلئے پر کشش موقع تھا اور سینکڑوں امیدوار انٹرویو کیلئے بھارتی سفارت خانے پہنچے۔ ان میں سے ایک لڑکی بریگیڈئیر ایس کے نرائن کو بھا گئی اور بھارتی افسر نے حیلے بہانے سے اسے اپنے جال میں پھنسا لیا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اغلب ہے کہ اور لڑکیاں بھی اس راکھشش کے جال میں گرفتار ہوئی ہوں کیوں کہ جس لڑکی نے بالآخر افغان پولیس سے رابطہ کیا اور ٹیلی فون ریکارڈنگ اور تصاویر سے بریگیڈئیر ایس کے نرائن کا جرم ثابت کیا اس نے متعدد بار اس لڑکی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا یا تھا ۔ افغان پولیس اور انٹیلی جنس نے تحقیق کی کیونکہ کسی بھی ملک کے سفارتی افسران پہ ہاتھ ڈالنا اور اس قسم کی حساس نوعیت کا الزام لگانا سنگین فعل ہے۔ٹھوس شواہد کی موجودگی میں بریگیڈئیر ایس کے نرائن کو افغانستان سے ملک بدر کردیا گیا لیکن بھارت نے افغان حکومت پہ دبائو ڈال کر اس معاملے کو دبا دیا اور میڈیا کو اس کی بھنک نہیں لگنے دی ۔ پاکستان میں بھی ما سوائے ایک ٹی وی چینل اور ایک اخبار کے کسی نے ا س خبر کو ہاتھ تک لگانا گوارا نہیں کیا۔
افسوس یہ ہے کہ بھارتی فوجی افسر اورجوان اس گھنائونے فعل میں عرصے سے ملوث ہیں۔ 2007 میں بھارتی فوج کے میجر جنرل اے کے لعل کا کورٹ مارشل کیا گیا کیو نکہ انہوںنے اپنی ماتحت افسر کیپٹن نہار اوت کیساتھ زیادتی کی تھی۔ایک اور سنگین واقعہ امریکہ کے شہر نیو یارک میں پیش آیا جب بھارتی فوج کے کرنل منوج تیواری جو اب بطور بریگیڈئیر آرمی وار کالج میں بطور استاد تعینات ہیں نے بھارتی نژاد امریکی شہری ڈاکٹر انوریتا کپور کیساتھ جنسی زیادتی کی۔ ڈاکٹر انورریتا کی تحریری شکایت کیمطابق26جنوری 2012 کو بھارت کے قومی دن کی تقریبات کے موقع پر کرنل منوج تیواری جو اقوام متحدہ میں بطور ملٹری اتاشی تعینات تھے، نے انوریتا سے دوستی کی پینگیں بڑھائیں۔ وہ بعد میں بھی انو ریتا کا پیچھا کرتے رہے اور انہیں یہ لارا دیا کہ وہ ان سے شادی کے خواہش مند ہیں۔کرنل منوج تیواری کو جب دال گلتی نظر نہیں آئی تو انہوںنے بہانے سے ڈاکٹر انوریتا کو اپنے دفتر آنے کی دعوت دی اور تمام اسٹاف کو چھٹی دیدی۔ ڈاکٹر انوریتا کی چائے میں کرنل منوج تیواری نے نشہ آور شے ملا دی اور جب وہ بے ہوش ہو گئیں تو انکی عصمت دری کی۔ اس واقعے کے فوراً بعد کرنل منوج تیواری وطن لوٹ گئے۔ جہاں انہیں ترقی دیدی گئی اور اب وہ آرمی اسٹاف کالج میں اپنے شاگردوں کو شائد یہی گر سکھا رہے ہوںگے کہ معصوم لڑکیوں کو اپنے جال میںکیسے پھانسا جاتا ہے۔ ڈاکٹر انوریتا کی شکایت پہ بھارتی فوج نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بھارتی فو ج کے ایک اور بد فعلی کے کیس میں لیفٹیننٹ کرنل دلیپ سنگھ شیخاوت کو پولیس نے ایک خاتون لیفٹیننٹ کرنل کیساتھ جنسی تشدد کرنے پہ گرفتار کر لیا ہے۔ اپریل 2012 میں کرنل شیخاوت نے دہردون میں بھارتی میڈیکل کور کی ایک لیفٹیننٹ کرنل کو جھانسہ دیکر انکی عصمت دری کی تھی۔ پولیس نے کرنل شیخاوت کو اسکی شکار کی باقاعدہ شکایت کے بعد انکے آبائی گائوں جھنجھوجو راجھستان میں واقع ہے سے گرفتار کر کے دہرہ دون پہنچا دیا ہے جہاں ان کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ معروف بھارتی روز نامے’’ انڈین ایکسپریس‘‘ کے مطابق جنوبی افریقہ کی ایک عورت نے تین بھارتی فوجیوں پہ اسکے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ تینوں جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے ساتھ تعینات ہیں اور چھٹیاں گزارنے جنوبی افریقہ گئے تھے۔ جنوبی افریقہ کی پولیس نے تینوں بھارتی فوج کے افسروں کو حراست میں لے لیا۔ بھارتی فوج کے افسر و جوان جو مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے دوسرے شورش زدہ علاقوں میں تعینات ہیں انتہائی ڈھٹائی سے مقامی خواتین کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں اورکالے قوانین کی آڑ میں عدالتی کاروائی سے بچ جاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری خواتین بھارتی فوج کے درندوںکی ہوس کا نشانہ بن چکی ہیں۔ حال ہی میں آسام میں کربی انگلونگ کے مقام پر ایک بھارتی رجمنٹ کے فوجی ایک گائوں میںداخل ہو گئے اور ایک پندرہ سالہ لڑکی کو گھسیٹ کر جنگل میں لے گئے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ لڑکی کی والدہ اور گائوں کی دوسری خواتین اسے بچانے پہنچیں تو جوانوں نے ان کو بھی زدو کوب کیا اور انکے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ اخلاقی پستی پوری بھارتی قوم کا وطیرہ ہے لہذا صرف فوج کو کیا کہا جائے۔ ممبئی کو دنیا کا ’’ریب کیپیٹل ‘‘ یعنی عصمت دری کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ دہلی میں اتنی خواتین کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے کہ انہوں نے خوف سے اکیلے گھر سے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ قارئین کو شائد وہ واقعہ یا د ہو جب دسمبر 2012میںایک طالبہ کیساتھ بس میں اجتماعی زیادتی کی گئی تھی۔ بعد میں سنگا پور کے ایک ہسپتال میں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔ اس پہ دہلی میں احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئی تھیں۔ ان تما م اطلاعات کے باجود امریکہ کی کوشش ہے کہ اسکی فوجو ں کے افغانستان سے مکمل انخلاء کے بعد بھارتی فوجی وہاں اسکی جگہ سکیورٹی اور ٹریننگ کے فرائض سنبھالیں۔ افغانستان حکومت کی بھی تنگ نظری ملاحظہ ہو کہ پاکستان جوان کا حقیقی دوست ہے اور جس کے عوام اور فوج کو افغان لڑکیوں کی عزت اور ناموس کا خیال ہے کو وہ گالیاں دیتے ہیں اور بھارت کو گلے لگانے کیلئے تیار ہیں۔ 1979میں جب سوویت یونین نے افغانستان پہ حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا تو پاکستان نہ نے صرف اخوت اور بھائی چارے کے جذبے کے تحت 50لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی اور 30لاکھ اب بھی یہاں موجو د ہیں۔ پاکستانی شہری جہاد افغانستان میں شریک ہوئے اور جام شہادت نوش فرمایا۔ اسکے بر عکس بھارت جو روس کا حلیف تھا نے افغانستان کی حمایت میں ایک لفظ نہیںکہا۔ وہی بھارت جس کے فوجی افغان دو شیزائوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا رہے۔ ہیں وہ افغانستان کو پاکستان کی نسبت زیادہ عزیز ہیں تو افغانستان کو بھارتی وحشی درندے مبارک ہوں