سبزہ زار پر اتری کہکشاں

کالم نگار  |  محمد ناصر اقبال خان
سبزہ زار پر اتری کہکشاں

باغ جناح ؒ کے بزرگ پیٹروں کے لہراتے اور جھومتے پتوں ، کیاریوں میں خوشبو بکھیرتے رنگارنگ پھولوں کی نازک پتیوں سے سرگوشیاں کرتی شام دھیرے دھیرے زمین پر اتررہی تھی، مدھم مدھم روشنی میں حدنگاہ تک قطاردرقطار کھڑے خاموش شجر انسانی نگاہوں کو سیراب کررہے تھے۔ ان پیڑوں نے کئی عہد دیکھے اوریہ کئی اہم واقعات کے شاہد اور آپس میں باتیں کرتے ہیں مگر انکی بولی کو ہر انسان نہیں سمجھتا۔ انسانوں اور حیوانوں کو چلچلاتی دھوپ سے بچاتے درخت میرے محبوب ہیں اور ان سے محبت میرا اثاثہ ہے۔ مختلف پرندوں کی مدھر آوازوں سے ماحول مزید رومانوی ہورہا تھا۔ سبزہ زار پر بیٹھے انسان بھی سرسبزوشاد ماں ہو جاتے ہیں، ہریالی میں خوشحالی ہے۔ قدرت کے ہر ایک انمول منظر اور مظہر میں ہم انسا نوں کیلئے راحت ِجاں کا سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر باہر اور ہر طرف ہے، دعا ہے ہمارا شمار اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور اور اس کا شکر ادا کرنیوالے افراد میں ہو۔ راقم کی دعوت پر کاسمو پولیٹن کلب باغ جناح ؒ کے سبزہ زار میں سینئر کالم نگاروں کی کہکشاں اتر آئی تھی، ان اساتذہ کی تحریروں کی روشنی سے اپنا راستہ روشن کرنیوالے متعدد طلبہ بھی تقریب میں شریک تھے۔ راقم نے پاکستان کے ممتاز اور مایہ ناز سینئر کالم نگاروں، صحافیوں، سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں پروقار افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔ اہل علم اور اہل قلم کی تشریف آوری نے تقریب سعید کو چار چاند لگا دیے، اس تقریب میں ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، سیّد ارشاداحمد عارف، حافظ شفیق الرحمن اور سعیدآسی سے قابل قدر اور قابل فخر اساتذہ بھی تھے اور مجھ سے طالبعلم میں تھے۔ دبنگ اور درویش کالم نگار ڈاکٹر محمد اجمل نیازی جو بزرگوں میں بزرگ اور جوانوں میں جوان لگتے ہیں، انکی تحریروں سے انکی بے نیازی اور بیقراری صاف جھلکتی بلکہ چھلکتی ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کی دوستی اوردشمنی میں کوئی ابہام نہیں، ہم دونوں کے درمیان محبت اور عقیدت کارشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، انکی آمد سے ورلڈ کالمسٹ کلب اور مجھے بہت تقویت ملی۔ سیّدارشاد احمد عارف جو اپنے ہرکالم میں قلم کی کاٹ سے جھوٹ اور جبرو استبداد کا سر قلم کرتے ہیں، قلم قبیلے کیلئے ان کا دم غنیمت ہے۔ نظریاتی صحافت کے سرخیل مجیدنظامی مرحوم کے پیروکار سعیدآسی اثرانگیز اور سحرانگیز تحریریں تخلیق کرتے ہیں، ان کاقلم امید اگلتا ہے جس سے معاشرے میں جابجا پھیلی مایوسیاں نابود ہوجاتی ہیں۔ قیوم نظامی کی سیاست کی طرح انکی صحافت بھی ہرقسم کی مصلحت سے بے نیاز ہے، قیوم نظامی کے کالم سے ان کا تجربہ اورجذبہ صاف عیاں ہوتا ہے۔ رائو منظر حیات بھی قومی اور عالمی منظر ناموں پرحقیقت سے نزدیک تر تجزیے سپرد قرطاس کرتے ہیں۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے شفیق ومہربان چیئرمین حافظ شفیق الرحمن ایک استاد ہونے کی حیثیت سے صحافت اور سیاست کے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان پائیدار اورہموار پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں بھی نوابزداہ نصراللہ خان مرحوم کی طرح مختلف الخیال افرادکو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ اگر شہر لاہور کے درودیوار سے دریافت کیا جائے تووہ دوٹوک انداز میں حافظ شفیق الرحمن کی اسلامیت، پاکستانیت اور انسانیت کیلئے خدمات کی شہادت ضرور دینگے۔ رابعہ رحمن اپنے کالم میں روشنائی سے روشنی بکھیرتی ہیں، انکے معاشی، سماجی اور معاشرتی موضوعات پر لکھے جانیوالے ہر کالم میں دم ہوتا ہے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کا قیام راقم کا ایک دیرینہ خواب تھا اور اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے حافظ شفیق الرحمن، فارو ق حارث العباسی، ڈاکٹر سجاد اعوان، ذوالفقار احمد راحت، ذبیح اللہ صدیق بلگن، محمد فاروق چوہان، خواجہ جمشیدامام، ناصف اعوان، حافظ یوسف سراج، عبدالستار اعوان، ریاض احمد احسان اور آصف عنایت بٹ کی تعمیری تدبیر نے بھرپور کردار ادا کیا اور ماشاء اللہ آج یہ کالم نگاروں کاتیزی سے ابھرتا ہوا نمائندہ پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی آرگنائزر جبار مرزا نے اسلام آباد میں ورلڈ کالمسٹ کلب کو متحرک اور منظم کرنے میں اپنا انتہائی تعمیری اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، ڈبلیو سی سی اسلام آباد کے صدر ملک فدا الرحمن، جنرل سیکرٹری بیگ راج اور سینئر نائب صدر نسیم سحر نے عید سعید کے بعد اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ورلڈ کالمسٹ کلب کے دفتر کا افتتاح کرنے کی نوید سنائی ہے۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کی باضابطہ ممبر شپ کیلئے سنجیدہ امیدواروں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ عنقریب اوورسیز میں مقیم کالم نگاروں کی نامزدگی بھی شروع کی جائیگی ۔میانوالی کے غیور اور نڈر سپوت انعام اللہ خان نیازی کی سیاست سودوزیاں سے بے نیاز ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر تعلیم اورعلم دوست ریاض فتیانہ ایک خوددار، باقار اور بے داغ سیاستدان ہیں۔ ریاض فتیانہ کو کئی بار قومی وصوبائی اسمبلی جبکہ انکی اہلیہ جوصوبائی وزیر بھی رہی ہیں اور انکے ہونہار فرزند احسن ریاض فتیانہ کو آزاد حیثیت میں صوبائی سمبلی کا ممبر منتخب ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ ہم بھی انکی کامیابی کیلئے دست دعادرازکرتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین حافظ شفیق الرحمن نے پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی صحت وسلامتی، ترقی وخوشحالی، دنیا بھر میں امن وآشتی اور مجیدنظامی مرحوم کے بلندی درجات کیلئے خصوصی دعا کرائی۔ کالم نگاروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد اور متحرک کرنے کی ضرورت واہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کا قیام خوش آئند ہے امید ہے سنجیدہ کالم نگار اس تنظیم کے استحکام کیلئے اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے ۔