کیا گلوکار تھا جو جدا ہو گیا

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
کیا گلوکار تھا جو جدا ہو گیا

سولہویں رمضان المبارک کی شام میں اپنے وکلالتی دفتر میں بیٹھا ہوا ایک مقدمے کی تیاری کر رہا تھا۔ رمضان کے مہینے میں دفتری اوقات ساڑھے تین سے پانچ بجے تک کر دیئے جاتے ہیں تاکہ افطاری سے قبل وکالتی کام نپٹا لیا جائے۔ میری نظریں اور توجہ ایک مقدمے کی فائل پر مرکوز تھی۔ اچانک ایک موٹر سائیکل نمودار ہوا۔ اسکے چہرے پر غمناک تاثرات بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے اسکی یہ حالت دیکھی تو پوچھا ’’خیرت تو ہے کیا کوئی حادثہ ہو گیا ہے‘‘۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ آپ نے بالکل درست اندازہ لگایا ہے۔ بہت برا حادثہ ہو گیا ہے۔ یہ سنتے ہی مجھے خیال آیا کہ نجانے اس بیچارے کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ہے اور میں اسکی کیا قانونی مدد کر سکتا ہوں۔ میرے سوال پر اس نے جو حادثہ سنایا اس نے میرے دل و دماغ میں زلزلاہٹ پیدا کر دی۔ اس نے بتایا کہ کچھ دیر قبل کراچی میں پاکستان کے مایہ ناز قوال امجد فرید صابری کو پانچ چھ گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ خود کار چلاتے ہوئے ایک ٹی وی سٹیشن جا رہے تھے کہ ایک انڈر پاس کے قریب رش کی وجہ سے انہوں نے کار کی رفتار کم کی۔ رفتار کم ہوتے ہی گاڑی کے ساتھ ایک موٹر سائیکل آگئی۔ اس پر دو اشخاص سوار تھے۔ عقب میں بیٹھے ہوئے سفاک شخص نے بیگ سے پستول نکالا اور امجد صابری پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ صابری کو چھ گولیاں لگیں اور وہ وہیں شہید ہو گئے۔ یہ سنتے ہی میری جذباتی کیفیت بھی میرے موئکل جیسی ہو گئی اور دل دھک دھک کرنے لگا۔ میں نے فوراً دفتر بند کر دیا اور دفتر کے ساتھ ہی اپنے گھر چلا گیا۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میرے تمام اہل خانہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہیں اور سب کی آنکھیں آنسوئوں سے بھری ہوئی ہیں۔ میں نے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر ٹی وی سکرین پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ امجد صابری کے گھر کے باہر بے شمار لوگ جمع ہیں اور گھر کی دوسری منزل سے امجد صابری کے دو بچے حیرت بھری نظروں سے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ انکے والد شہید ہو چکے ہیں۔ اس نایقینی کی وجہ سے شاید یہ تھی کہ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی وہ گلابی رنگ کی قمیض اور سفید شلوار پہن کر ٹی وی کے افطار پروگرام میں شرکت کیلئے خوش باش گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ وہ ٹی وی سٹیشن نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے ملک عدم کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر سوگواروں کے جم غفیر کیساتھ ساتھ امجد صابری کو بار بار زندہ سلامت نعتیں پڑھتے ہوئے بھی دکھایا جا رہا تھا۔ یہ مناظر دیکھ کر اچانک یاد آیا کہ اپنی زندگی کی آخری سحری کے وقت امجد صابری ایک ٹی وی پر معروف مذہبی سکالر بلال قطب کیساتھ جلوہ افروز تھے۔ انکے ساتھ تین چار اور نعت خوان اور دو علمائے کرام بھی محو گفتگو تھے۔ امجد صابری کے وجد رنگ ترنم اور نعت خوانی کے منفرد انداز کی بات ہو رہی تھی۔ اس حوالے سے یاد آیا کہ ایک مرتبہ امریکہ میں امجد صابری کو بطور مہمان بلایا گیا اور محفل قوالی آراستہ کی گئی۔ اس محفل کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں بیس منٹ کیلئے امریکہ کے سابق صدر کلنٹن نے بھی آنا تھا۔ جب موصوف تشریف لائے تو امجد صابری قوالی کا آغاز کیا اور اپنی تصوف رنگ آواز کا ایسا جادو جگایا کہ امریکی سابق صدر بیس منٹ کے بجائے ڈیڑھ گھنٹہ تک قوالی کے سحر میں کھوئے رہے۔ ایک ایسا امریکی صدر جو اردو نہیں جانتا تھا امجد صابری کے گلوکارانہ سحر کا گرویدہ ہو گیا۔ یہ اعزاز شاید ہی کسی اور گلوکار کے حصہ میں آیا ہو۔ امجد صابری کے گلوکارانہ جادو کا کمال یہ بھی تھا کہ انکی نعتیں سن کر بہت سے لوگ اپنا مذہب چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ کچھ عرصہ قبل ایک قوالی کی محفل میں سامعین میں سے ایک شخص اٹھا۔ اسکی آنکھیں نم ناک تھیں۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ اسکے قبول اسلام کے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک ہندو خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ بات کہاں سے کہاں نکلی جا رہی ہے۔ بات ہو رہی تھی سحری کے پروگرام کی جو ان کی زندگی کا آخری پروگرام تھا۔ امجد نے پرسوز آواز میں نعت پڑھنا شروع کی۔ نعت کے بول تھے…!
اے سبز گنبد والے منظو دعا کرنا
جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا
چند شعر پڑھنے کے بعد ان پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔ نعت خوانی کے دوران انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ انہیں روتا دیکھ کر خاتون میزبان، بلال قطب اور دوسرے مہمان بھی رونے لگے۔ میری اور میری بیگم کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ مجھے یقین ہے پاکستان بھر میں یہ پروگرام دیکھنے والے روزہ داروں کی آنکھیں بھی نم ناک ہو گئی ہوں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو کیا خبر تھی کہ امجد صابری اپنی زندگی کی آخری نعت پڑھ رہے ہیں اور انہیں اگلے ہی روز سبز گنبد کے مکین کا دیدار ہونیوالا ہے۔ عین ممکن ہے کہ امجد صابری کے وجدان پر اپنی موت کا راز آشکار ہو چکا ہو اور انہوں نے وقت نزع والی نعت کو اپنی زندگی کی آخری نعت کے طور پر پڑھا ہو۔ ٹی وی پر ان کے تاریخ ساز پرہجوم جنازے کے مناظر دیکھ کر میرے وجدان پر یہ شعر اترے آئے…؎
کیسے، سنگ دل لوگوں کی، بستی ہے یہ
سوچتا ہوں کہ یا ربّ، یہ کیا ہو گیا
ہرترنم میں اس کے، بھی حب نبیؐ
کیا گلوکار تھا، جو جدا ہو گیا