اب اور چراغ بجھنے نہ پائیں

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی
اب اور چراغ بجھنے نہ پائیں

بڑے لوگ بنائے نہیں جاتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ بڑے لوگوں کی بڑائی عیاں ہو جاتی ہے لیکن کچھ حالات کے ستائے مخفی رہ جاتے ہیں مگر بدقسمتی یہ کہ بہت سے بڑے لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں اس دنیا نے اپنے ظلم و جوار سے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ دیکھا جائے تو دور حاضر میں راحت، اطمینان، سکون و تحفظ بالکل ناپید ہو چکا ہے۔ ہر نفس، ہر لمحے کسی نہ کسی دھڑکے میں رہتا ہے۔ جس بنی نوع انسان کی دنیا میں انسان بستے ہیں آج اس دنیا کا ہر انسان اپنے جیسے دوسرے انسان سے خوف محسوس کر رہا ہے۔ کیونکہ جب ہر سوچ، ہر فکر خود غرضی اور ذاتی مفاد کے تابع ہو گی تو ہر کسی کا مفاد خطرے میں ہو گا چنانچہ آج ہر فکر قاتل ہے، ہر انسان خائف ہے۔ احساس و خلوص سے خالی انسانی دل… کالا اور کٹھور ہو چکا ہے۔ دلوں کے کھوٹ نے لو لحاظ، ہمدردی و قربانی اور الفت و معصومیت کے معطر گلاب جذبوں کو کملا دیا ہے… وہ پکار رہا تھا… فریاد کناں تھا… اپنی زندگی کو بھول کر وہ تو اپنے بچوں کے بے آسرا ہو جانے کے خوف سے چلا رہا تھا۔ بچوں کے یتیم ہو جانے کے ڈر سے بلک رہا تھا… وہ کہہ رہا تھا ’’مجھے کیوں ما رہے ہو، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘‘۔ ہاں… بچوں کی معصوم صورتیں اس کی آنکھوں کے سامنے آئیں ہوں گی۔ اس نے بچوں کا غم محسوس کیا ہو گا اسے اپنے کسی ناکردہ گناہ پر حیرانگی ہوئی ہو گی۔ بے وقت موت سامنے دیکھ کر جو خواب اپنے بچوں کے ساتھ گزارنے کیلئے ان کے مستقبل بنانے کے دیکھیں ہوں گے اس نے ان خوابوں کو چکنا چور ہوتے محسوس کیا ہو گا۔ اسے اپنے بچے یاد آئے تھے… وہ بہت تڑپا تھا مگر جن کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ جو ناحق خون بہانے کی نیت کر کے آئے تھے وہ بھیڑئیے تو بہرے ہو گئے ہوں گے ناں… کہتے ہیں کہ غلام فرید صابری کے چشم و چراغ نعتیہ ثناء خواں مصطفیٰﷺ کے آخری وارث صابری خاندان امجد صابری کے جسم میں چھ گولیاں پیوست ہوئیں اور رمضان کے مہینے میں شہادت مل گئی۔ امجد صابری کے خاندان کو جو نقصان ہوا، اس کی تلافی ناممکن ہے… امجد صابری کو بھی شہادت مل گئی لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ قاتلوں کا حساب اللہ کرے گا… کیونکہ ہمارا تجربہ و مشاہدہ بتا رہا ہے یہاں اس ملک پاک میں مجرموں کا حساب شاید نہیں ہوتا۔ جو ڈاکو ہیں وہ ڈاکے مار ہی لیتے ہیں، جو جواری ہیں، نشے کے عادی ہیں، تقدیس نسواں حوا کے لٹیرے ہیں، رشوت خور ہیں، بدعنوان ہیں، کاذب و خائن ہیں، والدین کے نافرمان ہیں، بیوی کے حقوق کے غاصب ہیں، حاسدین، مفسدین سب چل رہا ہے عدالتیں، پولیس فورسز، لا انفورسمنٹ انجینئر، احتساب بیوروز سب انسانوں ہی کے شکنجے میں ہیں۔ بادشاہ و شہنشاہ، وزیر و مشیر سب انسان ہیں اور ہر انسان دوسرے انسان سے خوفزدہ ہے کہ انسانیت ناپید ہو چکی ہے۔ کب؟ کہیں، کسی موڑ پر نہ جانے کون سامنے آ جائے اور فائر کھول دے… کہ یہ کراچی ہے… میرے وطن کا سب سے بڑا اور دنیا کا تیسرے نمبر پر بڑا تجارتی مرکز… یہ کراچی ہے۔ یہاں پر ہر ضرورت زندگی کی قیمت ہے لیکن زندگی بے قیمت ہے۔ حکیم محمد سعید، مولانا ترابی و مرتضی بھٹو جیسے بیسیوں بڑے لوگ اس کراچی کی پررونق سڑکوں پر گولیوں کی گھن گرج میں ہمیشہ کیلئے چپ ہو گئے۔ امجد صابری عالمی افق پر طلوع ہونے والا چاند کی مانند تھا۔ وہ تو میرے ملک کی پہچان بن چکا تھا۔ ملک پاک کا سافٹ امیج ابھارنے کا کام بے حد معتبر انداز میں کر رہا تھا۔ میں چونکہ حمد باری تعالیٰ و نعت رسولؐ بڑے ذوق و شوق سے سننے کی رغبت رکھتی ہوں… مجھے بھی امجد صابری کی نعتیہ قوالیاں سننے کا شغف رہتا ہے۔ امجد صابری جب حبیب اقدسؐ کا نام مبارک اپنی نعتیہ قوالیوں میں لیتے ہیں تو دل ڈوبنے لگتا ہے مجھ جیسے عاشقان رسولؐ پر وجد طاری ہونے لگتا ہے۔
تاجدار حرم ہو نگاہ کرم
ہم غریبوں کے دن بھی بدل جائیں گے
کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں
الہٰی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں
دلوں میں عشق نبیؐ رکھنے والوں کیلئے امجد صابری کی نعتیہ قوالی سحر ثابت ہوئی ہیں۔ کیا بات ہے کہ میں نے امجد صابری کی حمد و نعت کی قوالی میں وجدانی کیفیت دیکھی ہے میں نے امجد صابری کی قوالی کی نغمگی میں آقاؐ سے محبت کی سچائی دیکھی ہے۔ امجد صابری کی آواز کو نعتیں پڑھتے ہوئے آقاؐ کی محبت سے گلوگیر ہوتا محسوس کیا ہے۔ ایسے شخص کو مارنا نہیں چاہیے تھا۔ ایسی آواز کو دبانا نہیں چاہیے تھا۔ لیکن یہ جو ’’چاہیے‘‘ وہی تو میرے دیش میں نشانے پر ہے اور جو نہیں ہونا چاہیے اسے کے حمایتی بہت ہیں۔ واللہ کہاں نکل گئے ہیں ہم؟ حکمرانوں کی نا اہلی و کج روی کی بات ہو رہی جو کہ قدرتی امر ہے… امجد صابری کے بھائی ثروت صابری کی سنیے کہتے ہیں ’’حکمرانوں نے اپنے عوام کو بجلی نہیں دی گیس نہیں دی… زندگی کا تحفظ تو دے دو‘‘
ثروت صابری کا کہنا ہے کہ ملک کی امید راحیل شریف ہیں۔ اگر ہماری سول حکومتوں کے اعمال سے انارکی و بدامنی ہے تو جناب فوجی کو ہم خود ہی تو سول کردار اپنا لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر ہم ہی کہتے ہیں ’’فوج سیاست سے دور رہے‘‘۔
خیبر پی کے اور بلوچستان میں ضرب عضب سے نہایت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اگر صرف سندھ میں صورت حال کنٹرول میں نہیں آ رہی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ کو کنٹرول کرنے کیلئے اپنے ملکی اثاثوں کو بچانے کیلئے کراچی کی بقاء و سالمیت کیلئے آرمی چیف کو کوئی حتمی اقدام کرنا پڑے۔ حکومت سندھ ابھی بھی ہوش کے ناخن لیکر صوبے کو بیرونی و اندرونی سازشوں سے پاک کرنے کی طرف توجہ دے مگر یہ کیسے ہو کہ ضرورت ہے حب الوطنی کی؟؟؟