کریزی سکیم آف لوکل گورنمنٹ … (۱)

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی17؍جون کی ایک رپورٹ کیمطابق پاکستان میں کرپشن پچھلے 3 سال میں 400 فیصدی بڑھ گئی ہے اس رپورٹ کے مطابق جہاں عدلیہ میں کرپشن کافی حد تک کم ہوئی ہے وہاںپولیس پچھلے کئی سال سے پاکستان کے کرپٹ ترین ادارہ ہونے کی ذلت آمیز سیاہی اپنے چہرے سے نہیں دھو سکی اس رپورٹ کیمطابق پاکستان میں فوجی حکومتوں کے مقابلے میں سویلین حکومتیں زیادہ کرپٹ تھیں لوگوں کی اکثریت کا یہ خیال بھی ہے کہ قومی احتساب بیورو یا اس طرح کا کوئی بھی کرپشن ختم کرنیوالا ادارہ حکومت کے ماتحت نہیں بلکہ بلاواسطہ سپریم جوڈیشیل کونسل کے ماتحت ہونا چاہیے۔ تقریباً 70% لوگوں کا یہ خیال تھا کہ کرپشن کا مقابلہ کرنے میں میڈیا نے پچھلے کچھ عرصہ سے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ قارئین اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر آزاد میڈیا کے موثر کردار کے باوجود کرپشن 400% بڑھ گئی ہے تو تابعدار میڈیا کی صورت میں تو پاکستان دنیا کا کرپٹ ترین ملک بن چکا ہوتا۔
حالیہ سروے میں 80% سے زیادہ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ چونکہ موٹروے پولیس میں کرپشن کم ہوئی ہے اس لئے پولیس کا یہی نظام پورے ملک میں بھی لاگو ہونا چاہیے ۔ سروے کیمطابق سرکاری اداروں میں ٹینڈرنگ اور پروکیورمنٹ میں رشوت بہت زیادہ چلتی ہے اسکے علاوہ پیپرا کا ادارہ اپنے قوانین کو صحیح لاگو کرنے میں سنجیدہ نظرنہیں آتا چونکہ پیپرا نے نجکاری کی وزارت اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کو غیر قانونی طور پر پیپرا آرڈیننس سے باہر رکھا ہوا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ان اداروں کیساتھ خط و کتابت ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ حالیہ نیشنل کرپشن پر سیپشن سروے یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان میں قانون تو موجود ہے لیکن قانون کی حکمرانی موجود نہیں اس رپورٹ کے اندر پاکستان میں کرپشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تین وجوہات بتائی گئی ہیں۔
پہلی وجہ صوابدیدی اختیارات اور انکا ناجائز استعمال، دوسری وجہ شفافیت کی کمی اور تیسری وجہ دیانتدارانہ احتساب کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔ اس لئے کرپشن کا مقابلہ کرنے کیلئے جو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے تین اہم اقدام تجویز کئے ہیں ان میں عدل کی فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر کرنا ، احتساب کے نظام کو موثر بنانا اور پورے پاکستان میں ساری تعیناتیاں میرٹ پر کرنا شامل ہیں لیکن یہ کارنامہ سرانجام دینے کیلئے ہمیں قائداعظم محمد علی جناح جیسے اہل بصیرت، با اصول ، صاف گو اور دیانتدار قائدین چاہییں جو آج چراغ لیکر بھی ڈھونڈیں تو دور دور تک میسر نہیں۔
پاکستانی عوام اور ہمارے ہنرمندوں کے اندر ایک محنتی اور باوقار قوم کے سارے اوصاف موجود ہیں ۔یقین کریں شہیدوں کی اس دھرتی کی وارث اور ایٹم بم بنا لینے والی قوم آسمان سے ستارے بھی توڑ کر لا سکتی ہے صرف ہمیں چند مشعل برداروں کی ضرورت ہے ہمارے پاس بہترین انسانوں کا بے پناہ سرمایہ ہے جنوری 2004 سے ستمبر 2006 تک جب میں سٹیل ملز کا چیئرمین تھا تو ہم نے خود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کراچی کے Chapter کے انچارج سید عادل گیلانی اور ان کی ٹیم کو سٹیل ملز آنے کی دعوت دی تھی اور انکے ساتھ ایک Integrity Pact پر دستخط کئے تھے اور اسکے بعد ہم ہر چھوٹا بڑا ٹینڈر ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی Vetting اور رہنمائی کے بعد جاری کرتے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے پاکستان سٹیل کو دوسرے اداروں کیلئے رول ماڈل کہا اس سے سٹیل ملز کا کارپوریٹ سیکٹر میں وقار اور بڑھا اور بعد میں ہمیں اس کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ انٹرنیشنل کمپنی جاپان کریڈٹ ریٹنگ نے بھی سٹیل ملز کو بہت اچھی Rating دی اور ہمیں بہت سے ISO کے سرٹیفیکیٹ بھی ملے یہ وہ دور تھا جب لوہا بنانے کیلئے درکار خام مال کی قیمتوں میں اچانک چین میں بننے والے دیو قامت Dams کی وجہ سے نا قابل یقین تقریباً 200 فیصد اضافہ ہو گیا اور سب سے بری خبر یہ تھی کہ منہ مانگی قیمت پر بھی یہ خام مال بین الاقوامی منڈی میں کوئی سوداگر بیچنے کو تیار نہ تھا ساتھ ہی شپنگ کمپنیاں بھی فریٹ میں کئی ملین ڈالرز کے ہوشربا اضافے کی وجہ سے ڈیفالٹ کر گئیںیہ سب چیزیں ریکارڈ پر ہیں ان ساری تکالیف کے باوجودسٹیل ملز کے یومیہ اجرت پر کام کرنیوالے مجاہدوں سے لیکر سینئیر موسٹ ڈائریکٹروں تک نے دن رات محنت کر کے تقریباً ساڑھے بارہ ارب روپے کا منافع کما لیا جس میں چھ ارب کا وہ انکم ٹیکس اور تقریباً 10 ارب کا سیلز ٹیکس شامل نہیں جو حکومت پاکستان کو الگ جمع کرایا گیا۔ سٹیل ملز کی یہ اتنی بہترین ٹیم تھی کہ اس میں چیئرمین سب سے کمزور لگتا تھا آج بھی سٹیل ملز کی ٹیم بہت اچھی ہے اور میری دعائیں انکے ساتھ ہیں۔
قارئین ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے حالیہ کرپشن پرسیپشن سروے میں ایک اور چیز جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام اس سے پہلے لاگو ضلعی حکومت کے نظام سے زیادہ کرپٹ ہے اس چیز کا ذکر میں نے پہلے بھی اپنے کئی کالموں میں کیا تھا اور اب بھی یہ کہوں گا کہ موجودہ بلدیاتی نظام جسکا مدعا نچلی سطح تک اختیارات کو لے جانا تھادر اصل بدترین کرپشن اور نا انصافیوں کو گراس روٹ لیول تک لے آیا ہے جسکا واضح ثبوت ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی حالیہ رپورٹ ہے جو کہہ رہی ہے کہ :
\\\"Overall corruption in 2002 has increased from Rs. 45 billion to Rs. 195 billion in 2009\\\"
اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس بلدیاتی نظام کا قوم کیلئے اصلی تحفہDevolution of Power نہیں بلکہ Devolution of Corruption ہے
امریکہ کے ایک مشہور قلمکار سٹیفن پی کو ہن نے 3جولائی 2007ء کو واشنگٹن پوسٹ میں لکھا تھا ۔
\\\"Pervaiz Musharraf Implemented a crazy scheme of local goverment that further destroyed Pakistan\\\'s civillian bureaucracy\\\"
سٹیفن کو ہن کی یہ بات بالکل درست ہے چونکہ پہلے ڈی ایم جی گروپ کا ایک قابل آفیسر ڈپٹی کمشنر کے روپ میں پورے ضلع کو مئو ثر طریقے سے چلا تا تھا ۔ کوئی بھی منتخب قومی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر خواہ اس کا تعلق حکومت سے ہو یا حزب اختلاف سے ۔ ڈپٹی کمشنر کو غلط کام کر نے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا ۔ لوگوں نے ووٹ جس پارٹی کو بھی دیا ہو، وہ ڈی سی اور ایس پی سے انصاف کی توقع رکھتے تھے اور ایسے چند نالائق اور سفارشی سی ایس پی آفیسروں کو چھوڑ کر، جو بڑے سیاستدانوں کے رشتہ دار ہونے کے ناطے زبردستی سروس پر ٹھونس دیئے جاتے ہیں، ضلع کے سی ایس پی افسران عام طور پر لوگوں کو مایوس یا نا امید نہیں کر تے تھے ۔ یہ افسران گریڈ اٹھارہ سے زیادہ کے نہ تھے ۔
اب گریڈ 20کے ڈی سی او کے نیچے گریڈ اٹھا رہ کے درجن سے زیادہ آفیسر ز موجود ہو نے کے باوجود خصوصاً وہ طبقہ جو نا ظمین کے ووٹرز نہیں انصاف کے حصول سے خاص کر دیہی علاقوں میں یکسرمحروم ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ مقابلے کے امتحانوں کو پاس کر نے کے بعد تعلیم یا فتہ آفیسر ز کی کریم جب ضلعی انتظامیہ میں قدم رکھتی ہے تو ان کو اوسط ذہانت رکھنے والے ایک نیم تعلیم یا فتہ ناظم کے نیچے کام کرنا پڑتا ہے اور وہ ناظم ان محکموں کے آفیسرز کی سالانہ خفیہ رپورٹ( جو ڈی سی او کی وساطت سے اس تک پہنچتی ہیں) پر اپنے تاثرات بھی قلمبند کرتا ہے اس لئے ضلع کے سارے سرکاری افسران کسی معاملے میں بھی ناظم کو نا خوش نہیں کرنا چاہتے یہی حال محکمہ تعلیم کا بھی ہے ۔
سارے ای ڈی اوز تقریباً بے بس ہوتے ہیں اور وہ اپنی پیشہ وارانہ سوجھ بوجھ کے ساتھ ہر استاد کی موزونیت کا اندازہ کر تے ہوئے اس کی تعینا تی کا فیصلہ کر نے کی بجائے ناظم کی منظوری کے بغیر کوئی پوسٹنگ یا ٹرانسفر نہیں کر سکتے اور ناظم کی طرف سے جتنے احکامات اساتذہ کی تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق ہو تے ہیں وہ تقریبا ایک سو ایک فیصدی سیاسی بنیادوں پر ہی کیے جا تے ہیں ۔
چونکہ ایک میٹر ک یا ایف اے پاس ناظم جس کو اور کوئی رسمی تعلیم یا تربیت نہ دی گئی ہو اس چیز کا شعور یا ادراک نہیں رکھتا کہ کس تعلیمی ادارے کیلئے کونسا استاد کس پوسٹ کیلئے موزوں ہو گا چند اچھے ناموں کو چھوڑ کر خصوصاً دیہی علاقوں میں چند ایسے ضلعی اور تحصیل ناظم ہیں جو چند سطور لکھ سکتے ہیں نہ اعلیٰ پالیسی معاملات کو سمجھنے کی بصیر ت رکھتے ہیں۔ ایک ناظم سے کسی نے پوچھا کہ ہمارے ادارے میں معاشیات پڑھانے والا کوئی استاد نہیں تو ناظم نے فوراً کہا کہ معاشرتی علوم پڑھانے والے استاد سے کام چلایا جائے۔ موجود ہ ضلعی نظام کا سب سے بڑا منفی پہلو سیاسی طاقت کا غیر منصفانہ استعمال ہے ۔ (جاری ہے)