لاہور آرٹس کونسل کی چھت کا تخمینہ 32 لاکھ روپے

کالم نگار  |  محمد مصدق

جب جہالت کا زمانہ تھا تو ہوسٹلوں میں رہنے والے طلبہ گھروں سے پیسے منگوانے کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرتے تھے جنہیں پڑھ کر والدین فوراً مطلوبہ رقم بھجوا دیتے تھے اور طالب علم دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر عیش کرتا اور خوش ہوتا کہ اس کے والدین پڑھے لکھے نہیں‘ اکثر بلاٹنگ پیپر کے نام پر پیسے منگوائے جاتے تھے لیکن جدید اور پڑھے لکھے دور میں کمپنیوں نے پیسے کمانے کے نئے رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے ہیں۔ ریسکیو 15 کے سامنے دھماکہ ہوتا ہے۔ راستے میں آنے والی تمام چھتوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن جب ٹوٹے ہوئے شیشے دکھانے کے لئے ماہر تعمیرات نیر علی دادا کو بلایا جاتا ہے (جیسے شیشے لگانا اس کا بزنس ہو) تو شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ الحمرا نمبر ایک کی چھت تو اپنی جگہ سے ہل گئی ہے جبکہ اسی بلڈنگ میں موجود باقی چھتوں پر پتا بھی نہیں ہلا۔ ایگزیکٹو دائریکٹر نے فوراً رپورٹ چیف سیکرٹری کو بھجوائی اور طے پایا کہ روزانہ معقول آمدنی دینے والا ہال نمبر ایک فی الحال بند کر دیا جائے۔ دلچسپ اور قابل غور بات ہے کہ الحمرا کی انتظامیہ نے سائنٹفک طریقے سے چھت کی مضبوطی کو جانچنے والی کسی کمپنی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اب تازہ ترین صورت حال ہے کہ نوائے وقت کی نیئر علی دادا سے بات ہوئی تو نیئر نے بتایا ’’چھت تو ٹھیک ٹھاک ہے بس اس کے اوپر پڑی ہوئی شیٹس پرانی اور خستہ ہو چکی ہیں چھت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے صرف شیٹوں کو تبدیل کرنے کے لئے کہا ہے۔‘‘
لیکن دوسری طرف چھت کی صفائی‘ زنگ اتارنے‘ صفائی کرنے کے لئے 32 لاکھ روپے کا تخمینہ پہنچ چکا ہے۔ اب یہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور گورننگ باڈی کی ذمہ داری ہے کہ سرکاری تقاضے پورے کرنے کے لئے مزید دو کمپنیوں سے تخمینے حاصل کرے۔ اتنے متضاد تخمینے آئیں گے کہ خود لاہور آرٹس کونسل کی انتظامیہ حیران رہ جائے گی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب الحمرا ہال نمبر ایک کی چھت پہلے جیسی مضبوط ہے اور وہاں آسانی سے ڈرامے اور روزمرہ کے پروگرام ہو سکتے ہیں تو پھر اس ہال نمبر 1 کو بلاجواز بند رکھنے کا جواز کیا ہے؟ ایک طرف تو صوبائی بجٹ میں لاہور آرٹس کونسل کے سالانہ بجٹ میں کمی ہو گئی ہے دوسری طرف وہ مفت ڈرامے کرنے والوں کی سفارشوں سے مجبور ہو کر اپنا ہال نہ صرف مفت دیتا ہے بلکہ بجلی وغیرہ کا معاوضہ بھی حاصل نہیں کرتا جس کا سالانہ بل ستر لاکھ سے زیادہ ہے اور متوازی ڈرامے کی حیثیت اس معذور بچے کی ہے جو پچیس سال گزرنے کے باوجود اس قابل نہیں ہوا کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے اور دیکھنے والے ٹکٹ لے کر اسے دیکھنے آئیں۔