شاید کہ شہر بھر میں کوئی ایسی ماں نہیں

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

میں خود وکالت کے پیشہ سے منسلک ہوں۔ اس لئے جب میں ملک کے تمام بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر یہ خبریں پڑھتا ہوں کہ ’’لاہور ہائیکورٹ کے وکلا کے دو گروپوں کے درمیان تصادم‘‘ تو میں رنج و افسوس کی گہری کیفیت میں ڈوب جاتا ہوں۔ وکلا کو ایک دوسرے سے دست وگریبان دیکھ کر اور وکلا کے ساتھ خود وکلا کے تشدد آمیز سلوک اور تھپڑوں‘ گھونسوں اور گالیوں کے آزادانہ استعمال کی خبریں پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیا یہ وہی وکلا ہیں جنہوں نے دو سال کے طویل عرصہ تک آزاد عدلیہ کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لئے تحریک جاری رکھی۔ ایک ایسی تحریک جس کی پاکستان کی تاریخ میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ فوجی آمر پرویز مشرف اور بعدازاں سویلین صدر آصف زرداری کی طرف سے تمام تر مخالفتوں کے باوجود عدلیہ کی آزادی کی یہ جدوجہد کامیاب ہوئی۔ اس تحریک میں پوری قوم نے تاریخ ساز کردار ادا کیا تھا لیکن اس تحریک کا ہراول دستہ اور ہیرو وکلا ہی تھے۔ آزاد عدلیہ کی تحریک کے دوران اور اس تحریک کی کامیابی کے بعد عوام کی نظروں میں وکلا کے احترام میں بجا طور پر بے پناہ اضافہ ہوا۔ اب یہ وکلا کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جس طبقہ کو قوم حد درجہ تعظیم کے ساتھ دیکھتی ہے وہ طبقہ ہائی کورٹ بار کی صدارت کے تنازع میں اتنا آگے نکل جائے کہ وکلا کے دونوں گروپ آپس میں مکالمہ کے ذریعے اس تنازع کو حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر تھپڑوں گھونسوں اور لاتوں کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ واقعہ ایک دفعہ نہیں کئی مرتبہ دہرایا جا چکا ہے۔ اس تنازعہ میں فریقین کو حوصلے اور برداشت سے کام لینا چاہئے۔ وکلا کی ہر تقریب میں شدید ہنگامہ آرائی اور تشدد کا رجحان ختم ہونا چاہئے۔ وکلا جیسا طبقہ اگر اپنے ایک معاملہ کو قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر حل نہیں کر سکتا تو وکلا کی طرف سے معاشرے کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ وکلا ہمارے معاشرے میں انصاف کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ جس بھی فریق کے ساتھ معاشرے میں ناانصافی ہوئی ہے یا جس بھی فرد کی کوئی حق تلفی ہوئی ہے اس ناانصافی اور حق تلفی کے ازالہ کے لئے معاشرہ وکلا کے پاس جاتا ہے اور عدالت وکلا کی مقدمات میں دانشمندانہ پیروی کے بعد انصاف کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ ان وکلا کا اپنے ایک تنازع کے لئے ایک دوسرے کی جان کا دشمن بن جانا ار برسرعام ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔ کیا وکلا کے ان دو متحارب گروپوں میں مفاہمت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کیلئے سینئر وکلا کا کوئی گروپ موجود نہیں۔ غیر جانبدار اور بزرگ وکلا کو میدان میں نکلنا چاہئے اور کچھ ایسے وکلا بھی سامنے آئیں جو ماں جیسا کردار ادا کریں۔ وہ ماں جو ان ’’بچوں‘‘ سے تشدد کا ہتھیار چھین لے اور انہیں باہم بھائی بھائی بنا دے۔ راولپنڈی کے بزرگ شاعر سید طارق مسعود نے کہا تھا۔ …؎
خنجر لپک کے چھین لے بچوں کے ہاتھ سے
شاید کہ شہر بھر میں کوئی ایسی ماں نہیں