خدشہ زرداری صاحب کو

صحافی  |  عطاء الرحمن

صدر زرداری نے کہا ہے بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ ملک کے اندر ان کے خلاف محاذ بن رہا ہے۔ جس کا مقابلہ کرنا وہ جانتے ہیں۔ بھارت سے جناب زرداری کو واقعی کوئی خطرہ نہیں‘ نہ یہ ملک ان کا مخالف ہے۔ اس سے اگر خطرہ ہے تو پاکستان کو ہے۔ اس سے نمٹنا پاکستان کے عوام کی ذمہ داری ہے۔ سو وہ جانیں اور ان کا کام زرداری صاحب پریشان کیوں ہوں۔ ان کے سیاسی مخالفین موصوف کے بیان کے مطابق جو محاذ بنا رہے ہیں۔ اس کے خطرے سے پوری طرح نبردآزما ہونے کیلئے البتہ وہ مستعد ہیں۔ انہیں اس کا تجربہ بھی ہے۔ گذشتہ پندرہ مارچ کو میاں نواز شریف اور وکیلوں کے لانگ مارچ کی شکل میں عوام کا جو طوفان بلاخیز اٹھا تھا۔ خدشہ تھا دارالحکومت کو بہا کر لے جائیگا۔ اس زبردست چیلنج کا جناب زرداری نے بروقت مقابلہ کیا۔ چیف آف دی آرمی سٹاف اور بعض باخبر حلقوں کے مطابق امریکہ کی مداخلت سے چیف جسٹس کی بحالی پر رضامند ہوگئے۔ حالانکہ اس سے قبل وہ ایک نہیں تین تحریری معاہدے کر چکے تھے۔ کسی پر عمل نہ کیا۔ عدلیہ کی بحالی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئی۔ پنجاب میں گورنر راج بھی لگایا۔ اس کے باوجود حالات قابو میں نہ رہے۔ تب زرداری صاحب نے حد درجہ ’’بالغ نظری‘‘ سے کام لیتے
ہوئے نوشتہ دیوار پڑھا۔ لانگ مارچ اپنا ہدف حاصل کر کے گوجرانوالہ سے واپس آگیا۔
اب جناب صدر نے انکشاف کیا ہے وہ یہ کام خود کرنا چاہتے تھے۔ بلاوجہ یاروں نے شور مچایا۔ چلیے جو ہوا سو ہوا۔ آپ قوم و ملک پر مہربانی فرمائیے۔ 17ویں ترمیم کے خاتمے کا وعدہ پورا کرنے میں مزید تاخیر نہ کیجئے۔ یہ تو آپ کے منشور کا حصہ ہے۔ مرحومہ بے نظیر کے میثاق جمہوریت کا تقاضا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے نافذکردہ ملکی آئین کا جو فوجی ڈکٹیٹر نے حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا اسے اصل حالت میں واپس لانا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اس مقصد میں آپ کا ساتھ دینے کیلئے بے تاب ہوئی جارہی ہے۔ اس نے غیرمشروط تعاون کی پیشکش کر رکھی ہے۔ پھر دیر کس بات کی۔ قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے آخرکار مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے لیکن مدت کا تعین نہیں کیا آخر کیوں؟ پارلیمنٹ کی دو سب سے بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو تو پہلے ہی اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ دونوں کے رہنماء بے نظیر بھٹو اور نواز شریف اس ضمن میں تفصیلی اتفاق نامے (میثاق جمہوریت) پر دستخط کر چکے ہیں اگر یہ دونوں اکٹھی ہوجاتی ہیں تو بقیہ چھوٹے پارلیمانی گروپ لامحالہ عمومی اتفاق رائے کی جانب آنے پر مجبور ہونگے۔
لیکن اس کا کیا کیجئے پیپلزپارٹی میں جو لوگ جناب زرداری کے نقش ناطقہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر بابر اعوان اور محترمہ فوزیہ وہاب وہ وقتاً فوقتاً ایسے بیانات داغ دیتے ہیں کہ سار اتفاق رائے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کی آئینی و دستوری وراثت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ تاثر یہ بنتا ہے کہ زرداری صاحب ان کے ذریعے ذاتی خیالات و تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں وہ تو اچھا ہوا اگلے روز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قطعی الفاظ میں ان بیانات کی حیثیت ختم کر کے رکھ دی۔ زرداری صاحب کو کہیں اس سے خدشہ پیدا نہیں ہوا ان کے خلاف محاذ تیار ہو رہا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ جناب صدر نے تازہ ارشادات میں فوج کا بھی دفاع کیا ہے۔ کہا ہے یہ تاثر درست نہیں کہ فوج صرف حکومت کرنا چاہتی ہے۔ یہ چاہنے والی بات بھی خوب کی۔ فوج جب مناسب سمجھتی ہے حکومت پر قبضہ کر لیتی ہے۔ جب خود حکومت پسند نہیں کرتی پیچھے بیٹھ کر حکومتوں کو چلاتی ہے۔ اسے اپنی خواہشات کے اظہار کی کیا ضرورت ہے۔