خاطر جمع رکھیں

کالم نگار  |  سعید آسی

قومی وسائل کی لوٹ مار ہی کو آخر اشرافیہ طبقہ نے اپنا شعار کیوں بنالیا ہے‘ غضب خدا کا‘ اب تو قدرتی وسائل بھی اسی طبقہ کی جاگیر بننے لگے ہیں۔ ان کا بس چلے تو بارش‘ پانی اور ہوا کو بھی اپنے سے باہر کی ہوا نہ لگنے دیں۔ سمندر‘ دریا اور پہاڑ ہضم کرکے ڈکار نہ ماریں‘ اس دھرتی پر اپنی خدائی کی دھاک بٹھائے رکھیں۔ کسی انسان کو زندہ رہنے‘ آزاد فضاء میں سانس لینے کا حق نہ دیں‘ ہر سہولت اپنے دامن‘ اپنے آنگن میں سمیٹ لیں مگر نظام قدرت میں ان کا بس نہیں چلتا‘ بس چلتا تو یہ دھرتی انسان کے وجود کو ترس رہی ہوتی۔ پھر بھی ان کا جتنا بس چلتا ہے‘ یہ قومی اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ انہیں ایوان اقتدار کا تحفظ ہی نہیں ہوتا‘ وہ خود یا انکے نمائندے ایوان اقتدار میں موجود بھی ہوتے ہیں۔
قومی وسائل کی اسی لوٹ مار نے معاشرے کا توازن خراب کیا ہے‘ غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر سے بھی آگے پہنچا دیا ہے اسی لئے تو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کیڑے مکوڑے انسانوں کی تعداد بہت تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ وسائل کی نامنصفانہ اور غیرمساویانہ تقسیم سے غیرمتوازن ہو کر جب کوئی معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا تو اس انسانی دھرتی پر زیادہ تباہی کا موجب بنے گا۔ ناانصافیوں کیخلاف آواز بلند نہ ہو تو یہ الگ بات ہے مگر جب احتجاج کی نوبت آتی ہے تو وہ محض رسمی نہیں رہتا‘ خونیں انقلاب کی شکل میں قہر ڈھانے لگتا ہے۔ اس انقلاب میں ہدف تو مراعات یافتہ طبقہ اشرافیہ ہی ہوتا ہے‘ مگر کلہاڑا چلتا ہے تو اس انقلاب کا باعث بننے والے لوگ بھی زد میں آجاتے ہیں اس لئے معاشرے کی اصلاح کی تدبیر ضرور نکالی جائے‘ خونیں انقلاب کی دعا نہ مانگی جائے کیونکہ خونیں انقلاب غیرمتوازن اور بے انصاف معاشرے کو انسانوں کے وجود سے پاک کرنے کا نام ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے محکمہ صحت کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران یقیناً اپنی دردمندی کے اظہار کیلئے یہ مثال دی ہو گی کہ اگر ہم نے وسائل عوام تک نہ پہنچائے تو خونیں انقلاب آجائیگا۔ یقیناً اس صورت میں خونیں انقلاب آئیگا مگر انقلاب میں سب سے پہلے تاج ہی اچھلیں گے‘ تخت ہی گریں گے‘ اسکے بعد مظلوم و مقہور انسانوں پر بھی قہر ٹوٹے گا تو اس سے کیا فرق پڑیگا‘ اس لئے طبقۂ اشرافیہ کو کم از کم اپنے تخت و تاج کو بچانے کی خاطر ہی خونیں انقلاب کا راستہ روکنے کی کوئی تدبیر سوچ لینی چاہئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس کا احساس ہے تو وہ دیگر اقتدار نشینوں کو بھی خبردار کریں اور خلق خدا کو تنگ کرنے کے اقدامات سے پرہیز کا انہیں مشورہ دیں۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی عبوری رپورٹ میں تیل کمپنیوں کو منافع سے مالا مال کرنے والی حکومتی پالیسیوں کی نشاندہی کرکے درحقیقت طبقہ اشرافیہ کو اپنی بداعمالیوں سے باز آنے کا مشورہ دیا گیا ہے‘ ورنہ خونیں انقلاب انکے سر پر کھڑا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کم ہونے کے باوجود حکومتی زیر کنٹرول ادارے نیپرا نے مسلسل پانچ سال تک تیل کمپنیوں کو مہنگا پٹرول‘ ڈیزل‘ تیل فروخت کرکے لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ دی چنانچہ اس لوٹ مار میں عوام کی جیبوں سے 80 ارب روپے ناجائز طور پر نکلوائے گئے۔ سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا تو نہ صرف یہ کہ حکومتی مشینری ٹس سے مس نہیں ہوئی بلکہ سپریم کورٹ کے اس اقدام پر واضح برہمی کا اظہار بھی سامنے آگیا اور پھر قیمتیں کم کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے احکام کو سبوتاژ کرنے کے راستے بھی نکال لئے گئے‘ اس لئے اب …؎
یہیں پہ اٹھے گا شور محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہو گا