باراک اوباما…ایک شائستہ دروغ گو

کالم نگار  |  انور سدید

امریکہ میں نومبر 2007ء کے صدارتی انتخاب میں ری پبلکن پارٹی کے سفید فام امیدوار جان میکین کی شکست اور ایک افریقی نژاد سیاہ فام باراک اوباما (جو ہیلری کلنٹن کو مات دیکر ڈیموکریٹک کا صدارتی امیدوار بنا تھا) کی فتح نے اس ملک کی تاریخ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ عام تاثر یہ تھا کہ امریکہ کے سابق صدر بش کی جنگجویانہ حکمت عملی، نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکیوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا، نادیدہ اور ناموسوم دشمن کیخلاف دہشت گردی کی جنگ کا آغاز اور اسامہ بن لادن کو موردِ الزام ٹھہرا کر اسکے میزبان ملک افغانستان پر حملہ اور پھر وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر عراق پر یلغار‘ اور ان دہشت گردانہ جنگی منصوبوں میں ناکامی کی وجہ سے امریکی عوام نے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کو مسترد کر دیا اور باراک اوباما کو منتخب کر لیا‘ جو جان میکین کے مقابلے میں ناتجربہ کار تھا لیکن جس نے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران اپنی فصیح و بلیغ تقریروں میں تبدیلی chang کا نعرہ بلند کیا تھا۔
اوباما کی کامیابی کو امریکہ سے نسلی امتیاز کے خاتمے سے بھی تعبیر کیا گیا لیکن چند ماہ کے بعد ہی اب یہ حقیقت کھلنے لگی ہے کہ اوباما امریکہ کے سفید فام دانشور طبقے کا پسندیدہ صدر نہیں ہے اور یہ طبقہ وائٹ ہاؤس میں ان کی موجودگی کو برداشت نہیں کر رہا۔ درآں حالیکہ باراک اوباما نے سابق ری پبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں میں تاحال کوئی انقلابی تبدیلی نہیں کی اور امریکہ کی صہیونی لابی کو خوش رکھنے کی کوششوں سے بھی دریغ نہیں کیا۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ صدر اوباما کی قاہرہ کی تقریر کے بعد ایک امریکی اخبار نے اداریہ لکھا تو اس پر ’’باراک حسین بش‘‘ کا عنوان جمایا جو خاصہ تضحیک آمیز ہے۔
ایک اور تجزیہ نگار جان آر میکارتھر نے ’’دی پراویڈنس جرنل‘‘ میں اوباما کو ایک شائستہ دروغ گو‘‘ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ اس نے اپنی انتخابی مہم میں اپنی تقریروں میں بڑی احتیاط سے کام لیا اور اہم ترین مسائل پر رائے دینے سے گریز کیا تاکہ بعد میں اپنی رائے سے پسپائی اختیار نہ کرنی پڑے، اس احتیاط کے باوجود سینٹ پیٹرز برگ ٹائمز نے اوباما کے وعدوں کی تعداد 36 بتائی اور اس اخبار کی رائے میں صرف چھ وعدوں سے تاحال انحراف کیا گیا ہے صحافی میکارتھر نے اس اخبار کی تردید کرنے کی بجائے لکھا ہے کہ اوباما کی پرشکوہ تقریروں کے خوبصورت الفاظ پر نہ جائیے کیونکہ یہ کھوکھلے ہیں اور اوباما نے خاصی بڑی تعداد میں جھوٹ بولے ہیں اور وہ ایک شائستہ دروغ گو ہے‘ میکارتھر نے اس دعوے کے جواز میں جو دلائل دئیے ہیں ان میں چند ایک کا ذکر ہم ذیل میں کرتے ہیں؟
صدارتی امیدوار کی حیثیت میں اوباما نے امن پسندی کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایک جنگ مخالف صدارتی امیدوار ہیں لیکن اب ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ امن دوست صدر نہیں ہیں اور نہ وہ انسانیت کش جنگوں کو روک رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ری پبلکن امیدوار جان میکین کا منہ کرنے کیلئے انہوں نے افغانستان میں فوجی کارروائی میں اضافے کا اعلان کیا تھا‘ تاہم دوسری طرف امریکی عوام نے اپنے اس نئے ہیرو سے توقع قائم کی تھی کہ وہ عراق کی مقبوضگی ختم کرینگے اور طالبان سے سنجیدگی سے مذاکرات کرینگے اسکے برعکس انہوں نے نہ صرف افغانستان میں مزید فوج بھیج دی اور شدت پسند جنگجوؤں کیخلاف حملے زیادہ کر دئیے بلکہ جارج ڈبلیو بش کی حکمت عملی کیمطابق پاکستان کی آئینی حدود میں دراندازی اور ڈرون حملے تیز تر کر دئیے جن میں بے شمار عام شہری مارے جا چکے ہیں اور اب حالات جس سمت میں جا رہے ہیں انکے نتیجے میں پاکستان نیا کمبوڈیا اور بارک اوبامہ نیا نکسن بن سکتے ہیں۔
جان آر میکارتھر نے لکھا ہے کہ صدر اوباما نے عراق سے امریکی افواج نکالنے کا وعدہ کیا تھا بشرطیکہ…اور اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ ہم نکل نہیں رہے اور عراق کی حکومت کی دعوت پر اگر پچاس ہزار امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو یہ اتنی بڑی تعداد ہے جو عراق میں امریکہ کے چودہ مستقل فوجی اڈوں کی تمام عسکری ضرورتوں کیلئے کافی ہے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ یکم جنوری 2012 کی ڈیڈ لائن کے بعد امریکی فوج کا انخلا نہیں ہوگا۔
میکارتھر کی رائے میں اوباما نے جن کے نام کے وسط میں عربی لفظ حسین شامل ہے قاہرہ میں ایک زبردست تقریر کی۔ ان کا مقصود نظر یہ تھا کہ مسلم دنیا انہیں اپنا ایک نیا بہترین دوست تصور کرے تاہم اگر ہم سعودیہ کے شاہ عبداللہ کے ساتھ خوش نظر آتے ہوئے اوباما کی اور مسکراتے ہوئے عمانویل کی سعودی وزیرخارجہ سعودالفیصل کے ساتھ تصویریں دیکھیں تو نتائج اوباما کی خواہشات کے متضاد نکالے جائیں گے۔ سعودیہ کا شاہی خاندان عوام کی نمائندہ حکومت کے حق میں نہیں اور فلسطینیوں کی قسمت کے جو فیصلے کئے جا رہے ہیں وہ انہیں بھی ناپسند کرتے ہیں اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ سعودیہ کی مرضی کیخلاف طے نہیں پا سکتا۔
وجہ یہ کہ اس فیصلے میں سعودی عرب کے تیل کے چشمے اہم کردار کر رہے ہیں اور امریکہ تیل کی اس دولت تک رسائی حاصل کرنے کیلئے ہی اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے لیکن ایک لمحے کیلئے بھی یہ نہ سوچئے کہ امریکہ مغربی کنارے پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیوں کو خالی کرنے کیلئے اسرائیل کو مجبور کر دیگا بلکہ یہ مطالبہ رسمی نوعیت کا علامتی ہو گا جس سے مسلم امہ کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے اور اسرائیل کو حسب سابق من مانی کرنے کا موقع بھی دستیاب ہو۔‘‘
اوباما کی قاہرہ کی تقریر سے مسلم امہ نے موہوم سی امیدیں وابستہ کی ہیں جبکہ مغرب اور بالخصوص امریکہ کی سابق وعدہ خلافیوں کے پیش نظر اوباما کیخلاف پروپیگنڈہ مہم تیز کر دی ہے۔
واشنگٹن ٹائمز میں سکیورٹی پالیسی سنٹر کے سربراہ فرینک گفنی نے اوباما کو امریکہ کا پہلا مسلمان صدر قرار دیا ہے اور قاہرہ کی تقریر میں انہوں نے قرآن مجید کی جن آیات کریمہ کے حوالے دیئے تھے ان پر نہ صرف اعتراض کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اوباما دراصل مسلمانوں ہی میں سے ہیں۔
دوسری طرف تجزیہ نگاروں کے اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے اوباما کے اس بیان کو اچھالا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا تعلق دائم اٹوٹ ہے اور امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ جارج مچل کو قاہرہ کی تقریر کے بعد حالات کو سازگار بنانے کیلئے اسرائیل میں بھیجا گیا تو انہوں نے بھی یہودی ریاست کیساتھ امریکہ کی وابستگی کو ناقابل شکست قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مضبوط حلیف ہیں اور ہمیشہ دوست رہیں گے۔
باراک اوباما کو امریکہ کی صدارت پر اس ملک کے عوام نے فائز کیا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایک سیاہ فام کیلئے سفید فام معاشرے میں یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ خصوصاً اس لئے کہ امریکہ کی یہودی لابی اور اسرائیل نے اس نئے صدر کے انتخاب پر طمانیت کا اظہار نہیں کیا اور صدر اوباما کے پہلے سال کے اوائل میں ہی انکے خلاف مہم شروع کردی گئی ہے کیا اوباما صدارتی مہم کی طرح مخالفت کی اس مہم کو سر کرلیں گے؟ اس کا جواب دنیا کے سامنے شاید جلد ہی آجائیگا۔