ڈاکٹر فوزیہ افتخار ایک ہمہ جہت شخصیت

ڈاکٹر فوزیہ افتخار ایک ہمہ جہت شخصیت

وہ لوگ جو علم کے پھیلاﺅ میں شفقت، محبت اور مقصدیت کے قائل ہیں۔ ان میں ڈاکٹر فوزیہ افتخار پرنسپل گورنمنٹ کالج برائے خواتین باغبانپورہ کا نام قابل ذکر ہے، انہوں نے شبانہ زور محنت سے نہ صرف طالبات میں اخلاقی، تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں اور کاوشوں کو ابھار بلکہ دیگر کالجوں سے زندگی کے ہر شعبہ اور میدان میں طالبان نے نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ ماہانہ شائع ہونے والا کالج ٹائیٹل “روشنی کا سفر“ تعلیمی میدان میں ان کی پرعزم جدوجہد کا عملی ثبوت ہے۔ حال ہی میں ان کی کارکردگی کالج میں نئے کمروں کی تعمیر ہے۔ اس سے قبل جب سے کالج کا آغاز ہوا تھا۔ کالج میں کمروں کی کم تعداد ایک گھمبیر مسئلہ بن گیا تھا۔ سرد اور گرم موسم میں طالبات کھلی جگہوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھیں، نئے کمروں کی تعمیر یقینی طور پر اساتذہ اور طالبات کے لئے خوش آئند بات ہے۔ وہ اس لحاظ سے مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے کالج کے لاینحل مسائل حل کر کے طالبات کے لئے سہولیات فراہم کیں ہیں۔
جوں جوں وقت گذرتا جا رہا ہے۔ ہمارے مسائل میں اسی شدومد کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اخلاقی اقدار جب رویہ زوال ہو جائیں تو غیر اخلاقی اقدار زندگی کے ہر شعبہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہمیں اسوقت اخلاقی اقدار تہذیبی روایات، نظریاتی اصول اور اس سیاسی شعور کی ضرورت ہے جو مسائل کے ازالے کا سبب بن سکے، اور ان عناصر کی بحالی کے لئے تعلیمی شعور لازمی حیثیت رکھتا ہے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ان دو عناصر کا ہمیں ہاں فقدان رہا، اخلاقی قوت اور مضبوط تعلیمی نظام، دنیا میں ترقی یافتہ اقوام تعلیم کو اولین حیثیت دیتی ہیں۔ ملکی حلالات موسمی کیفیات، طلباءو طالبات کے تعلیمی میلانات اور اساتذہ کی تعلمی اسقدار اور مہارت کو مد نظر رکھ کر فزیبلیٹی رپورٹ بنائی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں وہی روایتی تعلیم، تعلیم کے حصول میں نا مناسب سہولیات اور ماحول، غیر متوازن سیاسی نظام اور اس کے تعلیم پر اثرات، تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں مغرب کا شانداز طرز زندگی ہو یا امریکا کی ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت چین کا چند ہی سالوں میں اپنا لوہا منوانا ہو یا ملائیشیاءکی دن دگنی رات چگنی ترقی سب تعلیم کی مرہون منت ہے۔ مسائل کے حل کے لئے طرز زندگی میں توازن اسی تعلیم کے ذریعہ ممکن ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تعلیمی نظام کی پسماندگی مسائل کی بنیاد ہے اور ان نقائص کو دور کرنے میں کبھی ہم نے مخلصانہ کوششں نہیں کیں۔ تو پھر کس تبدیلی کے ہم خواب دیکھ رہے ہیں؟
ایک بہت بڑے پلازہ کی تعمیر میں بہت سے لوگ مصروف تھے۔ اچانک ہی ایک مزدور پر گرمی اور لو کے تھپیڑے برداشت نہ کرسکا۔ اور چکرا کر زمین پر گر گیا۔ ”اسے کیا ہوا“ تمام مزدور اس کے اردگرد اکھٹے ہوگئے، تمام مزدورں کو حیرانی اس بات پر تھی۔ ساٹھ سالہ شخص کتنی تن دہی سے اپنے کام میں مگن رہتا تھا۔ آج اسکی اعصالی قوت جواب دے گئی۔ تمام لوگ اس پر ترس کھانے لگے۔ کچھ لوگ آگے بڑھے اور اسے اٹھا کر قریبی ہسپتال لے گئے جہاں پر وہ زخموں کی تکلیف نہ برداشت کرسکا اور مرگیا۔ عام مزدوروں کو اسکی موت کا بہت صدمہ تھا۔ اس کی لاش اسکے ورثاءکے حوالے کردی گئی۔ اس کے دو جوان بیٹے اور چاربیٹاں تھی۔ لیکن پھر وہ مزدوری کرتا تھا۔ اسکا نام محمد عاقل تھا۔ اس کے سینے میں کیا کیا دکھ اور صدمے تھے یہ وہی جانتا تھا۔ اب یہ دکھ ناسور بن کر پھیل چکا ہے۔ اور عام آدمی کا دکھ بن گیا ہے۔ ایسے ہی نجانے کتنے لوگ بیچ چوراہوں، پارکوں، سڑکوں اور پلازوں میں مرگئے۔ اور جو زندہ رہ گئے وہ روز روز مرنے لگے۔ ایک بارہ سالہ بچہ ہاتھ پھیلاتے دعا مانگ رہا تھا کہ ”اے اللہ میرے ابو کو ایک ہی بار مار دے“ کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی اور پوچھا کہ بیٹا یہ دعا کیوں مانگ رہے ہو“ وہ معصومیت سے بولا، اماں کہتی ہے کہ تیرا ابا مہنگائی اور بجلی کے بل کی وجہ سے روز روز مرتا ہے میں چاہتا ہوں کہ وہ ہر روز نہ مرے۔آج ہمیں نئے سرے سے جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایک مفکر کا نظریہ ہے کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو اسی نقطہ سے دوبارہ سفر کا آغاز کیا جائے۔ اور پچھلی خامیوں سے سبق سیکھا جائے۔ ایک کہاوت ہے کہ ایک بادشاہ وقت اپنے مصاحبوں کے ہمراہ ایک جنگل سے گزرا اس نے دیکھا کہ ایک مفلوک الحال آدمی مٹھی بھر مٹی ہوا میں اچھال دیتا ہے۔ اس شخص نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور مٹی بادشاہ کی طرف اچھال دی اور کہا کہ ”اے نادان غافل تو اپنی حقیقت کو فراموش کر چکا کہ تو ایک حقیر نفطے سے پیدا کیا گیا۔ اور اب تیرا یہ حال ہے کہ تو زمین پر اکڑ کر چلتا ہے۔ بادشاہ نے غصے میں اسکے قتل کا حکم دیا تو وزیروں نے درخواست کی کہ جناب جانے دیں یہ دیوانہ ہے۔ بادشاہ نے اسے چھوڑ دیا مگر اس کے بعد بادشاہ کے مزاج میں تبدیلی آگئی۔ اب وہ سادہ لباس زیب تن کرتا، اسکی زندگی میں اب کروفر بھی باقی نہ رہا تھا ایک رات وزیر باند بیر نے اسکی سسکیوں کی آواز سنی، وزیر دروازے پر کان لگا کر کھڑا ہوگیا، بادشاہ کہہ رہا تھا ”اے نادان غافل تونے خود کو فراموش کیا اور عوام سے دور ہوا۔ اپنے رب کو تو راضی نہ کرسکا، وزیر سمجھ گیا کہ بادشاہ کے ضمیر پر بوجھ ہے۔ اگلے دن دربار لگا تو بادشاہ نے کہا کہ یہ حکومت میرے کس کام کی میں بشریت کے تقاضے پورے کرسکا اور نہ رب راضی کرسکا، اب دل چاہتا ہے کہ جنگل کی طرف جانکلوں تاکہ سکون پاسکوں، اس پر وزیر نے کہا کہ اب جبکہ آپ حقیقت تک پہنچ گئے اور حقیقت ہی سچائی ہے تو آپ عوام کی فلاح کے لئے کام کریں۔ آپکے جانے کے بعد کوئی اور بادشاہ تخت پر متمکن ہوگا اور وہ حقیقت کا ادراک کرنے میں عرصہ لگا دے گا اور رعایا ظلم کی چکی میں پستی رہے گی۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے منصب کے تقاضوں کو پہچانیں اور اس محبت کو دل میں جگہ دیں جس سے عوام کی زندگیوں میں انقلاب آجائے۔ اور رب تجھ سے راضی ہو جائے۔ اس کے لئے نئے عزم نئے ارادے اور نئی جدوجہد کی ضروت ہے،، ہمیں بھی اپنی عناصر کی ضرورت ہے۔ کیونکہ عزم، ارادوں اور جدوجہد میں تاخیر وہ صورتحال پیدا کردیتی ہے جس سے نبرد آزما ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے۔