ووٹر کی عمر؟

ووٹر کی عمر؟

سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر 26 چھبیس سال سے اٹھارہ سال کر دی۔ اسکے پیچھے انکے کیا مقاصد تھے۔ کچھ کیا مشکل ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اٹھارہ سال کے کھلنڈرے اور نادان بچوں کے ہاتھ میں اٹھارہ کروڑ عوام اور ملک کی تقدیر کی کنجی دیدی گئی یہ سراسر غلط فیصلہ تھا کوئی بھی باشعور اور صاحب فہم آدمی اس ترمیم کی حمایت نہیں کر سکتا۔ پاکستان ایک ملک ہے کوئی کھلونا نہیں جس سے کھیلنے کی اجازت بچوں کو دے دی جائے اور اٹھارہ کروڑ عوام انسان ہیں کوئی چابی والے بندر نہیں جنہیں بچوں کے ہاتھ میں سونپ دیا جائے۔اس وقت ملک میں عمران خان نے نفرت کی سیاست کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس سے ”نئے پاکستان“ کے خدوخال نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹھارہ سے بائیس سال تک کے نوجوان کو اپنے مفادات کے حصول کی خاطر غلط طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نئی نسل کو عمران خان وہ زبان، وہ انداز اور وہ غصہ ٹرانسفر کر رہے ہیں جو انکے مزاج کا حصہ ہے یعنی یہ نوجوان عمران خان کے پیچھے لگ کر اپنے بزرگوں سے بھی بدتمیزی کرنے سے جھجھکتے نہیں لہذا ضروری ہو گیا ہے کہ نوجوان نسل کو عمران خان کے شر سے بچایا جائے۔ اس کا حکومت کوئی طریقہ نکالے اور نوجوانوں کو ادب، آداب، شرافت، رواداری، تہذیب و اخلاق اور خوش خلقی کا ایسا نمونہ بنا دیا جائے کہ یہ نوجوان پاکستان کی قابل احترام پہچان بن سکیں ورنہ کپتان صاحب تو لٹیا ہی ڈبونے پر تلے بیٹھے ہیں۔
مسلم لےگ ن کی حکومت کو چاہئیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ مل کر آئین میں مشرف نے ووٹر کی عمر میں جو ترمیم کی ہے۔ اسے ختم کیا جائے اور چھبیس 26 سال کی بجائے ووٹر کی کم سے کم عمر تیس 30 سال مقرر کی جائے تاکہ عام انتخابات میں وہ لوگ ہی ووٹ ڈالیں جو باشعور ہیں۔ اور اچھے برے کی پہچان کر سکتے ہیں۔ اٹھارہ سال کا لڑکا تو ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہیں کھول پاتا اسے اچھے برے بڑے چھوٹے یا ملک و قوم کے بارے میں کیا علم ہو سکتا ہے؟ یہ عمر تو فرسٹ ائیر کے سٹوڈنٹ کی ہے۔ جنہیں ابھی پوری طرح بولنا بھی نہیں آتا۔ سوچنا تو بہت دور بہت بات ہے۔ ایسے بچوں کو ملک و قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دینا ناجائز ہی نہیں، گناہ بھی ہے۔ کیونکہ یہ اٹھارہ کروڑ عوام کی قسمت اور مستقبل کا معاملہ ہے۔ تیس 30 سال کا نوجوان باشعور اور کسی حد تک تجربہ کار بھی ہوتا ہے۔ وہ سیاسی شعور بھی رکھتا ہے اور سیاسی قائدین کے کردار اور سیاسی جماعتوں کے منشور اور کارکردگی سے بھی واقف ہوتا ہے۔ وہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر حکومت چاہتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی ملک و قوم سے محبت رکھنے والی مہذب اور معاملہ فہم سیاسی جماعت حکومت بنائے تو آئینی ترمیم کے ذریعے ووٹر کی کم سے کم عمر تیس 30 سال مقرر کی جائے۔حکومت مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے نہایت حوصلے اور صبر سے دھرنے والوں کو تقریباً ”ڈھائی ماہ شاہراہ دستور پر برداشت کیا اور بغیر کسی جانی نقصان کے اس سے چھٹکارا بھی پالیا لیکن عمران خان ابھی ڈی چوک میں منڈی لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ تاحیات دھرنا دینے کو تیار ہیں۔ چلیں! اچھی بات ہے اسی بہانے طویل ترین دھرنے کی بناءپر ان کا نام ”گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ“ میں شامل ہو جائیگا لیکن حکومت کو بھی اب سنجیدگی کیساتھ پاکستان کے بنیادی اور بڑے مسائل سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں.... نمبر ایک ترجیحی بنیادوں پر پاکستان میں شرح تعلیم کو بڑھانے کی طرف توجہ دینا چاہئیے۔ کیونکہ تعلیم ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ناخواندگی اور جہالت کی وجہ سے ہمارا پورا سسٹم خراب ہو چکا ہے۔ جیسے جیسے تعلیم کی روشنی ذہنوں کی تیرگی مٹاتی جائیگی ویسے ویسے نا انصافی، ظلم و ستم اور دیگر استحصالی قوتیں کمزور پڑتی جائیں گی۔ تعلیم کے بعد لوڈشیڈنگ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں تو حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں کافی اقدامات کئے جن پر عمران اور قادری نے پانی پھیرنے کی حتی المقدور کوشش کی لیکن بحمداللہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے.... ایک سب سے اہم کام جو کم از کم حکومت پنجاب کو سب سے پہلے کرنا چاہئیے وہ یہ کہ سرکاری ملازمین کو انکے علاقوں میں تعینات کیا جائے تاکہ انکے فاضل اخراجات بچ سکیں۔ دوسرے یہ کہ جن سرکاری ملازمین کو شہروں سے دور دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں تعینات کیا جاتا ہے۔ ان کی تنخواہوں اور دیگر الاﺅنسز شہر والوں سے بھی زیادہ ہونا چاہئیں کیونکہ وہ پسماندہ علاقوں میں ڈیوٹی دے رہے ہیں لہذا ان کا حق ہے کہ انہیں زیادہ مراعات دی جائیں۔اسی طرح کے اور بہت سے کام ہیں جو حکومت ہم سے زیادہ بہتر سمجھتی ہے جو اسے اپنی ٹرم پوری ہونے تک مکمل کرنے چاہئیے تاکہ آئندہ الیکشن میں اپنی کارکردگی کی بناءپر عوام سے ووٹ مانگا جا سکے۔مسلم لےگ ن کو نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے بھرپور کوشش کرنا چاہئیے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل انہیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے لیکن انکی تربیت ایسی ہونی چاہئیے کہ پاکستان کے مہذب، شائستہ اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔ نہ کہ عمران خان کی طرح بدزبان، بداخلاق اور بدتمیز بقول اقبالؒ....
جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پردے
خدایا آرزو میر یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے