علامہ قادری کا سفر رائیگاں ؟

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
علامہ قادری کا سفر رائیگاں ؟

سوالات کا ایک جنگل تا حدِ نگاہ پھیلا ہُوا ہے اور حقیقت بر مبنی جواب دینے والا کوئی نہیں؟ قادری حلقہ علم و فضل میں ذووجھین(دوچہروں والا) کے طور پر جانے جانتے ہیں جبکہ حلقہ¿ مریدین میں ان کا جھوٹ معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ انکا حلقہ نیابت صم بکم عمی کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے۔ اللہ کے رسول کا© فرمان ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا جبکہ انکے حلقہ¿ عقیدت میں بیٹھے افراد متعدد مرتبہ آنجناب سے ڈسے جا چکے ہیں۔ جناب نے اگر اپنے اُگلے ہوئے الفاظ کو نگلنا تھا تو گیارہ اگست کو جوش و خطابت میں آگ برساتے ہوئے یہ کیوں کہا تھا کہ جو انقلاب برپا کیے بغیر واپس آ جائے اس کو قتل کر دیا جائے۔ کیا اُگل کر نگلنا اسے نہیں کہتے ؟لیپا پوتی اور آزمائشی اقدامات کا اصل مقصد کیا تھا؟ دھرنے کی آڑمیں وہ لوگ بھی چہچہانے لگے جو اپنے سیاہ اعمال کی بدولت اس قابل بھی نہیں تھے کہ وہ مر جاتے تو انکی قبروں سے وہ سلوک کیا جاتا جو عبدالرحمن بن سفاح نے بعض اموی سرداروں کی قبروں سے کیا تھا ۔ہمیشہ کوشش کی کہ انکے ذکر سے قلم کو پاک رکھا جائے کیونکہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ نعوذ باللہ آپ نے مجھ سے کرایہ مانگا تھا اور انکے اس دعویٰ پر ابلیس بھی شرمندہ ہو تو اس شخص کے ذکر سے قلم کو آلودہ نہیں کرنا چاہئے‘ خود نمائی میں جو اپنے آپ کو اتنی بلندی پر رکھے کہ انکے مریدین ان کا نظارہ تو کر سکیں لیکن چُھو نہ سکیں، چُھونے سے اندیشہ ہے کہ لاجونتی کا یہ پھول مُرجھا جائیگا۔ جتنے جھوٹ انہیں ترکہ میں ملے ہیں وہ شوق سے سنائیں کیونکہ ایسا ناٹک کوئی اور نہیں کر سکتا۔ اپنے خطاب میں جن جرائم اور غلط کاریوں کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں۔ ان سب کی ابتدا جھوٹ اور انتہا دغا بازی اور فراڈ پر ہوتی ہے جبکہ موصوف اسی کا سہارا لیکر مخالفین کو یزیدی، ڈاکو ،لعنتی ،جہنمی اور لُٹیرے جیسے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ اپنے مخالفین کیلئے وہ ایسے ایسے الفاظ چُن کر لاتے ہیں کہ الفاظ کے اسراف پر دل دہل جاتا ہے۔ اپنی جماعت میں انکی مثال برگد کے اس درخت کی سی ہے جس کی گہری چھاﺅں کے نیچے کوئی اور پیڑ پودا پنپ ہی نہیں سکتا۔ یہ غیر ملکی طاقت کی شہہ پر ہیں، انکے ارد گرد ایسے لوگ ہیں جن کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں کہ وہ ایک ہمسایہ ملک کے فلسفے کی آبیاری کر رہے ہیں۔ ان پر دستِ غائب رکھنے والے اس ملک کے وہ سرمایہ کار ہیں جو گوادر پورٹ کو چلتا نہیں دیکھ سکتے۔ رہی بات چوہدری برادران کی تو انہیں اقتدار کا ایسا چسکا پڑ گیا ہے جس کے حصول کیلئے انہوں نے اپنی تجوریوں کے منہ کھول دئیے ہیں۔ انکی بے کراں دولت کا کوئی حساب نہیں، وہ ہر قیمت پر جمہوریت کے محمل سے اسکی جانِ قیس کو اُڑانے کے درپے ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ انکے دامن پر کوئی ایسا داغ دھبہ نہیں جس سے اقربا پروری اور پنجاب بنک سکینڈل کی آلودگی کی بُو نہیں آ رہی۔ چوہدری مونس الٰہی کو پنجاب بنک نے ہی خراج ادا نہیں کیا بلکہ این آئی سی ایل سیکنڈل میں ملوث حبیب واڑئچ بھی اعتراف کر چکے ہیں۔ انکے پانچ سالہ دور اقتدار میں انکے قرب و جوار میں خاص قسم کے لوگ تھے جو سب اچھا کی رپورٹ دیتے رہے، وہ عوام کی شکایت کا ذکر بھی تکلف سے کرتے تھے۔ وہ بیورو کریسی کے ڈھانچے میں اس انداز میں ڈھلے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے فوق البشر ہونے پر یقین کامل تھا۔ شریف برادران بھی آج ایسے ہی خوشامدیوں کے گھیرے میں ہیں جو سب اچھا کی رپورٹ دے کر حکومت کی لُٹیا ڈبو رہے ہیں،ایسے لوگوں پر فنِ خوشامد صدیوں ناز کرتا رہے گا۔ انکی دلیلیں، تاویلیں اور باتیں سُن کر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی پیدا کیا۔ رہی بات شریف برادران کی تو انکے نائبین اور وزرا تک عوام کو رسائی ہے، نہ کوئی رابطہ، عوام سے رابطہ پیدا کرنے کی وہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے جس بنا پر فاصلوں سے افسانے جنم لے رہے ہیں۔ انکے ایسے ہی رویے کے باعث عوام جمہوریت دشمن عناصر کے کیمپوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں اپوزیشن کے جلسوں میں عوام کی جوق در جوق شمولیت انکے بادشاہانہ طرز عمل کے باعث ہے۔ لندن پلان کا مُہرہ تائب ہوا، خیمے اُکھڑے، 69 روزہ دھرنا مفاہمت سے ختم ہوا۔ زیر گردش مصدقہ خبروں کیمطابق 68 کروڑ میں معاملات طے ہوئے۔ میاں برادران کی والدہ محترمہ نے علامہ قادری کو فون کر کے اپنے بچوں کی جان بخشوائی اور پھر نظام لپیٹنے والوں نے خیمے لپیٹ لئے۔ لُٹا پُٹا قافلہ اپنے اپنے گھروں میں پہنچ چکا ہے۔ آئے روز نئی سٹوریاں اخبارات کی زینت بنیں گی اور اپنے آپ کو قافلہ¿ حسینی اورمخالفین کو یزیدی کہنے والوں نے بالاآخریزید کی اطاعت قبول کرلی ۔ اب وہ علاقائی عصیبت کو ہَوا دینے کیلئے شہر شہر درجنوں آدمی اکٹھے کر رہے ہیں۔ علامہ اقبال نے ایسے نہیں کہا تھا ....
میں جانتا ہوں اس معرکے کا انجام
جس معرکے کے مُلاں ہوں غازی
انکی پارٹی پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہے، جو سب کے سامنے ہے۔ قادری ہر شخص کی وکالت کر سکتے ہیں لیکن انکی نیابت نہیں کیونکہ سیاسی فضا انکے موافق نہیں۔ اس وقت جو نہیں بِک رہے ہیں وہ قوم کے عتاب و احتساب کا شکار ہیں اور جو بِک گئے وہ قوم کے محبوب و مطلوب۔آج انہیں لوگوں کو اپنے اپنے دائرے میں قبولِ عامہ حاصل ہے جن پر غیر ملکی امداد سے متمتع ہونے کا الزام ہے۔ جس ملک کی جماعتیں اور رہنما بِک جائیں اس ملک کا خدا حافظ ہے۔ وہ قوم کیسے پنپ سکتی ہے جس کو بازار میں جنس بنا کر رکھا گیا ہو۔ ایسے افراد کا محاسبہ ہونا چاہئے جو عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح بیچ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں گلہ بان قصابوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ افسوس قادری کے خیمے اکھاڑنے کا نہیں کیونکہ اس کا خمیر جس مٹی سے لیا گیا ہے اس میں استقامت، وقار خودداری اور خودی نام کی کوئی چیز نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک مزید 4 سال تک نااہلیت، کرپشن، بدعنوانی، اقتصادی بدحالی اقربا پروری، پٹرول اوربلوں میں جاں لیوا اضافے کا بارگراں اپنے کندھوں پر اٹھائے گا۔ حکومت کو کسی ریلی یا دھرنے سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ حکومت کو اپنے آپ سے خطرہ ہے جو اصلاح احوال پر آمادہ نہیں بلکہ ایسی بیداری اور تبدیلی کے ہر راستے کو بھی سختی سے بند کئے ہوئے ہے۔