اہلیان اسلام آباد کیا کہتے ہیں؟

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
اہلیان اسلام آباد کیا کہتے ہیں؟

دو روز پیشتر راقم اسلام آباد گیا۔ اسلام آباد جانے کا مقصد آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تعلیمی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی۔ یہ کانفرنس اسلام آباد ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ راقم نے اس تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محکمہ تعلیم نے پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن آرڈیننس مجریہ 2014ءکے سیکشن 13-Bجاری کر دیا ہے۔ جس کے مطابق تمام پرائیویٹ سکولوں کو دس فیصد بچوں کو مفت پڑھانا ہو گا۔ اس پالیسی پر عملدرآمد کروانے کیلئے پنجاب کے تمام ای ڈی اوز نے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو احکامات جاری کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے نجی سکولوں پر دس فیصد بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے نجی تعلیمی اداروں پر 18 سے زائد ٹیکسز عائد کر رکھے ہیں۔ ان ٹیکسوں کی وجہ سے گذشتہ پانچ سالوں میں پنجاب کے 30 ہزار کے لگ بھگ پرائیویٹ سکولز بند ہو چکے ہیں اور باقیوں کی بندش کا عمل جاری ہے۔ راقم نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نجی سکولوں پر عائد ٹیکسز ختم نہیں کرتیں تب تک ہم دس فیصد بچوں کو فری تعلیم نہیں دیں گے۔ راقم نے کہا کہ بھارت میں پرائیویٹ سکولوں پر ایک بھی ٹیکس نہیں ہے اس لئے وہ اپنی حکومت کے حکم پر دس فیصد بچوں کو فری پڑھا رہے ہیں۔ اگر پنجاب اور وفاقی حکومت پرائیویٹ سکولوں پر عائد تمام ٹیکسز ختم کر دے تو ہم بھی دس فیصد بچوں کو مفت تعلیم دینا شروع کر دیں گے۔ راقم نے کہا کہ ہم پنجاب حکومت کی دس فیصد بچوں کو مفت پڑھانے کی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو ہم ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ کانفرنس سے راولپنڈی ڈویژن تنظیم کے صدر ابرار احمد خان‘ چوہدری فرقان‘ عامر انور‘ ملک محمد اعجاز‘ ابرار شاکر‘ محمد سلیم‘ سید حسنین گیلانی‘ حاجی بشارت علی‘ افتخار حسین ملک‘ عبدالرحیم خاں اور سینیٹر طاہرہ لطیف نے بھی خطاب کیا۔
اس کانفرنس کے بعد راقم سینیٹر چوہدری جعفر اقبال کے بیٹے عمر جعفر کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کیلئے اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں گیا تو وہاں تقریباً ہر سیاسی جماعت کے رہنما آئے ہوئے تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال سے راقم نے اسلام آباد میں دھرنوں اور حالیہ دنوں پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونے والے جلسوں کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے دھرنوں اور حالیہ دنوں میں جلسوں کے دوران جس تدبر‘ تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا گیا وہ مثبت اور قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم نے اپنے وزراءاور لیگی رہنما¶ں کو دھرنا ختم کرنے کے اعلان پر منفی بیان بازی سے روک کر سیاسی خیرسگالی کا پیغام دیا اور اپنے مفاہمانہ طرز عمل سے حالات کو تصادم اور پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں جانے دیا۔ اس کشادہ ظرفی کے تحت حکومت نے خیبر پی کے اور آزاد کشمیر میں وفاق کی مداخلت اور عدم اعتمادی کی تحریکوں سے گریز کرکے ایک صحت مند سیاسی اشارہ دیا ہے۔ اس شادی میں راقم کی قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ راقم نے ان سے دو سوالات کئے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت سے علیحدہ ہو گئی ہے کیا پیپلز پارٹی انہیں دوبارہ منا لے گی؟ اور میرا دوسرا سوال ان سے یہ تھا کہ بلاول بھٹو اب پنجاب میں جو جلسہ کر رہے ہیں کیا وہ واقعی بہت بڑا جلسہ ہو گا ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ہم سے کئی بار روٹھی ہے اور ہم نے ہمیشہ اسے منایا ہے اب بھی اسے منا لیں گے ایم کیو ایم علیحدگی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے اگر وہ سنجیدہ ہوتی تو ان کے گورنر سندھ ضرور استعفیٰ دے دیتے۔ رہی بات پنجاب میں بلاول کے جلسے کی تو بلاول واقعی پنجاب میں ایک بہت بڑا جلسہ کر رہے ہیں اور اس کی ہم نے بھرپور تیاری شروع کر دی ہے۔ راقم کی اس موقع پر مذہبی امور کے وفاقی وزیر پیر محمد امین حسنات شاہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دھرنوں کی سیاست کو بے ہودہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کا دھرنے ختم کرنے کا فیصلہ درست فیصلہ ہے۔ انہوں نے پیشگوئی کی اب پاکستان عوامی تحریک دھرنوں کی سیاست کی دوبارہ غلطی نہیں کرے گی ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قسمت آزمائی کا بھی یہی انجام ہو گا۔ دورہ اسلام آباد میں راقم کی محمد اعظم وفاقی وزیر سیکرٹری اطلاعات و نشریات سے بھی ملاقات ہوئی کہ ذرائع ابلاغ کے کسی بھی ادارے پر پابندی عائد کرنا مسئلہ کا حل نہیں۔ تاہم ابلاغ کے ہر ادارے کو حدود و قیود میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا نے حال ہی میں اے آر وائی کے قابل اعتراض پروگراموں کی وجہ سے اس پر اور اس کے اینکر پرسن مبشر لقمان پر پابندی لگا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے دفتر کے دروازے صحافیوں کیلئے ہر وقت کھلے ہیں۔ حکومت اور میڈیا کے مابین خوشگوار تعلقات کے فروغ اور رابطوں کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے میں بطور وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات پُل کا کردار ادا کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور میڈیا کے مابین خوشگوار تعلقات کا فروغ میری اولین ترجیح ہے۔ اخبارات اور جرائد کے اشتہارات کے بلوں کی بقایا رقم جو وفاقی حکومت کے ذمہ تھی وہ کافی حد تک ہم نے ادا کر دی ہے بقایا رقم بھی ہم بہت جلد ادا کر دیں گے۔