ہم نئے عزم سے آغاز سفر کرتے ہیں!!

کالم نگار  |  رفیق غوری

ان دنوں راقم بڑا خوش ہے اور اگردانتوں کی کمی کا احساس نہ ہوتا اور چلنا پھرنا مشکل نہ ہوتا تو باچھیں پوری طرح کھول کے قہقہے لگاتا اور لڈیاں ڈالتا اب چونکہ آنکھوں میں بھی دم نہیں رہا اس لئے ٹیلی فون کے سہارے ہی اپنی خوشیوں کا اظہار کرنے اور مبارکبادیں دینے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے مرد مجید جناب مجید نظامی کو فون کے ذریعے مبارکباد دی، کچھ اور مردان حق کو بھی ٹیلی فون کرنا چاہتا تھا مگر inbalance ہو جانے کے خدشہ سے احتیاط کی کہ بیلنس رہنے کیلئے بیلنس ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے سوچا کیوں نہ نوائے وقت کے ذریعے اس خوشی کا اظہار کر لیا جائے۔خوشی کا اندازہ تو پیارے قارئین کو ہو ہی گیا ہو گا کہ وہ بھی انتخابی نتائج کے سبب بڑے شاد ہیں ۔ اب ذرا ایک دن کے اخبارات کی کچھ سرخیاں، کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
 ”منموہن کو حلف برداری کی تقریب میں بلاﺅں گا، پہلی دوسری تیسری ترجیح معیشت کی بحالی ہے: نواز شریف ۔
پیپلز پارٹی کو شکست، گورنر پنجاب مستعفی یوسف رضا گیلانی نے بھی پارٹی عہدہ چھوڑ دیا۔
زرداری کا نواز شریف کو فون، الیکشن جیتنے پر مبارکباد، اقتدار کی منتقلی جلد ہو گی، صدر
90 فیصد انتخابی عمل شفاف، اطمینان بخش تھا سندھ میں بے قاعدگیاں دیکھیں یورپی مبصرین ۔
آزاد ارکان کی ملاقات مسلم لیگ (ن) سے وابستگی کا اعلان مرکز میں مسلم لیگ (ن) خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی کامیابی کالا باغ ڈیم بننے کی امید پیدا ہو گئی ۔ نئی حکومت کیساتھ تعاون کرینگے، امریکی سفیر۔ مسلم لیگ (ن) کی برتری خوش آئند ہے: چین
نواز شریف کو ملکی اور عالمی سطح پر فوری کارکردگی دکھانا ہو گی: عالمی میڈیا .... عمران کی عیادت مکمل صلح ہو گئی، ملکی خوشحالی کے لئے مل کر چلنا ہو گا: نواز شریف
وٹو، مخدوم شہاب، انور سیف اللہ عہدوں سے شیری رحمٰن سفارت سے مستعفی
آپکے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اوباما کا نواز شریف کو فون
شریف فیملی کے 5 ارکان 10قومی اور صوبائی نشستوں پر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) نے ایک سال کی ترجیحات پرمبنی قومی چارٹر تیار کر لیا۔
پیارے قارئین! مندرجہ بالا خبروں کی سرخیاں، جھلکیاں اس لئے قند مکرر کے طور پر درج کر دیں تاکہ جن قارئین نے اخبارات کا بغور مطالعہ نہیں کیا انہیں آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے۔جس میں جماعت اور شخصیت کے کرتا دھرتا کو میڈیا پر کافی وقت ملا انکا کچا چٹھا بیان کرنے کی بجائے مقصد صرف یہ ہے کہ جب الیکشن میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے اور تمام پاکستانیوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے تو ضروری ہے کہ مجبوراً کسی کو پاکستان مسلم لیگ لکھنے، بیان کرنے سے اب اجتناب برتا جائے اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے جو ساتھی پاکستان مسلم لیگ کے نام پر جن لوگوں کو سابقوں لاحقوں کے ذریعے اہمیت دے رہے ہیں وہ اصلی اور سچی مسلم لیگ کے بارے میں آگاہ ہو جائیں۔
اصلی مسلم لیگ ہمارے خیال میں وہی ہے جس نے قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن ایک سبز ہلالی پرچم کا محض ذکر ہی نہیں کیا۔ عملی طور پر اسکے لئے کام بھی کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کو تمام تر سازشوں، دھونس، دھاندلی کے باوجود پاکستانی قوم نے اصلی اور حقیقی مسلم لیگ تسلیم کر لیا ہے ۔مرد مجید جناب مجید نظامی سے بھی ان سطور میں درخواست ہے کہ انکا مسلم لیگیوں کو اکٹھے کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کا بھی وقت آ گیا ہے کہ جس طرح پاکستانی قوم نے دو ٹوک انداز میں فیصلہ کر لیا ہے اسکے مطابق وہی حقیقی مسلم لیگ ہے جسے بالغ رائے دہی کے ذریعے مانا گیا ہے!! مولانا ابو الکلام آزاد کے اس جملے کو حرف آخر کے طور پر قول صدیق کے انداز میں بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ....ع
”حسن وہ جسکا اعترا ف سوتن بھی کرے“
آخر میں بس یہ کہہ کر اجازت چاہتے ہیں کہ A سے لے کر Z تک جن دھڑوں کو مسلم لیگ کہا جاتا ہے وہ ایک اصلی پلیٹ فارم پر واپس آ جائیں!! اور انہیں واپسی پر قبول بھی کر لیا جائے۔ جناب مجید نظامی کی خواہش کو اب تسلیم کر لیا جائے اور تمام دھڑوں کو ان کی حقیقت ان کے وقار کے مطابق حصہ بقدر جثہ کے فارمولا پر پاکستان کیلئے کام کرنا چاہئے اور ہمارے دانشوروں کو بھی اگرچہ مگر چہ چونکہ چنانچہ کی بجائے سیدھی اور صاف ستھری بات کی طرف آنا چاہئے۔ آخر میں یہی کہنا ہے کہ اللہ پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کو چشم بد سے بچائے! اور ہم جو نظر وٹوﺅں اور منظور وٹوﺅں سے بچ بچا کر انتخابات کی کٹھالی سے بخیریت باہر آگئے ہیں تو ہم سب کو شعر کے مطابق یہی کہنا چاہئے
ان اندھیروں سے کہو کہیں اور ٹھکانہ کر لیں
ہم نئے عزم سے آغاز سفر کرتے ہیں