پاک چین دوستی کی راہداری اور عالمی سازشیں

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک

 صدر زرداری نے کل ایوان صدر میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کو ”نشان پاکستان“ پیش کیا۔ اس قسم کے اعزازات بھی کسی کسی پر سجتے ہیں اور چین کے لئے ”نشان پاکستان“ کا اعزاز پاکستان کے عوام کی بھی دلی مسرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔خیام کی رباعی ہے کہ :
برخیز بنا بیار بہر دل
حل کن بجمال خویشتن مشکل ما
یک کوزہ شراب تابہم نوش کینم
زاں پیش کہ کوزہ ہا کنند از گل ما
یعنی : ”اے محبوب ! اٹھ اور اپنے جمال سے ہماری مشکل کو حل کر دے ۔ ہمارے دل کی آرزو پوری کر دے اور ایک کوزہ شراب لا جو ہم مل کر پیئں۔ اس سے پہلے کہ ہمارے مٹی کے کوزے بنا ڈالے جائیں “.... اور ہماری مٹیوں کے کوزے بنانے کی کئی بار کوششیں کی جاتی رہی ہیں ایسے کوزے کہ جن میں اپنا من پسند مشروب ڈالا جا سکے مگر چین کی دوستی کے جمال کے ساتھ ہماری ہر مشکل حل ہوتی رہی۔ اب اس جمال میں چین کی اقتصادی ترقی کا کمال بھی شامل ہو گیا تو کافی ساری مزید مشکلات بھی کم ہو سکتی ہیں اور پھر پاک چین دوستی کے ذریعے کئی ممالک کو یہ سبق بھی دیا جا سکتا ہے کہ طاقت کی برتری کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر ایک نیا عالمی نظام مرتب کرنے کی نئی سوچ کی ترویج کی جا سکتی ہے۔فریڈرک نطشے نے اپنی تصنیف Der will Der Macht نے کہا تھا کہ ”فرد ہمیشہ طاقت کا طلب گار ہوتا ہے“جبکہ فلاسفر ہنری ایڈمز نے کہا تھا کہ ”طاقت ایک زہر ہے“ اور شاید اسی لئے طاقت کی بدعنوانی کے ذریعے دنیا کے لاکھوں انسانوں کی جانیں لے لی گئیں اور طاقت کو انصاف پر فوقیت دے کر دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور اس ساری صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ امریکہ اور بھارت وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں پر غور و فکر اور نظر ثانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسا کہ 1954ءمیں امریکہ نے تائیوان کا ساتھ دیا مگر 1971ءمیں عوامی جمہوریہ چین کو تائیوان کی جگہ اقوام متحدہ کا رکن بنایا۔ اس لئے پاکستان کے لئے بھی یہ تاثر درست نہیں کہ وہ امریکہ کے پیچھے چلتا ہے۔ کوریا کے جنگ کے مسئلے میں بھی پاکستان اقوام متحدہ کے کمیشن برائے کوریا میں شامل تھا ‘ جس سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ حاشیہ نشین ہونے کا تاثر ملتا رہا۔ جس کی وجہ سے چین یہ کہہ سکتا تھا کہ ....
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
آج چین اور پاکستان کی انمول دوستی اقتصادی اور دفاعی ترقی کے اقدامات کئی ممالک کو کھٹکتے ہیں۔ چین کے وزیراعظم نے پاکستان کو بجلی کے بحران سے نکالنے پر مدد دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اقتصادی ”راہداری“ بنانے پر بھی معاہدہ کیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں گوادر ‘ گومل زیم ڈیم اور شاہراہ مکران کی تعمیر کے منصوبے سازشوں کا شکار ہوتے رہے۔ چین کے وزیراعظم بھارت کا دورہ کرکے پاکستان کے دورے پر آئے تھے‘ کچھ ممالک ہیں کہ جو پاک چین دوستی کو بہت اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑیں ڈالنے اور چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مصروف رہتے ہیں اس لئے اس دوستی کی پائیداری کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کی سازشوں کو بھی سامنے رکھا جائے۔....
دشمنوں کو بھی ہم نے سامنے رکھنا ہے
زندگی کی راہوں میں سازشیں تو ہوتی ہیں
اور چین اور پاکستان نے ہمیشہ ہی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ چین کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ 27 سال بعد دورہ پر آیا ہوں۔ہمارا خیال ہے کہ یہ آمد و رفت بڑھنی چاہئے کیونکہ چین کے ساتھ ہمارے فقط ورکنگ ریلیشنز ہی نہیں بلکہ جذباتی تعلق بھی موجود ہے اور چین کے ساتھ دوستی صرف عارضی تعلقات پر مبنی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر قائم ہے۔ چین کے وزیراعظم نے اشاراتاً کہا کہ پاکستانی قیادت کے داخلی معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں مگر ہم دوستی پر متفق ہیں۔ لہذا دوست دشمن کی پہچان کیلئے پاکستان کے داخلی معاملات میں بھی آگے چل کر بہتری آ سکتی ہے۔
وہ صدف کیا جو قطرے کو گہر کر نہ سکے!!