نئی حکومت سے عوامی توقعات

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے مل جل کر چلنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے اسے کوئی ایک سیاسی جماعت حل نہیں کر سکتی صدر زرداری سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کریں گے بی بی سے کئے گئے میثاق جمہوریت کو آگے لے کر جائیں گے ۔صدر زرداری نے کہا کہ نواز شریف کو ایوان صدر کا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔ الیکشن کے موقع پر پیپلز پارٹی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر میاں صاحبان کے خلاف جو اشتہاری مہم چلاتی رہی اسے میاں صاحبان بھول گئے ہیں ۔میاں صاحبان آصف زرداری کے احتساب کرنے کے بارے میں بھی بہت بلند و بانگ دعوے کرتے رہیں ہیں لیکن اب ان کی مفاہمتی پالیسی سے پتہ چلتا ہے کہ اب کسی کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ آصف زرداری کی اب ستے خیراں ہیں۔ قارئین کرام ماضی کی اکثر حکومتیں عوام میں نیک نامی حاصل کرنے کے بجائے بدنامی مول لے کر رخصت ہوئی ہیں۔
 حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی بدترین ناکامی کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انہوں نے ذاتی و گروہی مفادات تو خوب حاصل کئے‘ قومی خزانہ خالی کر دیا اور تمام اہم اداروں کو تباہ برباد کر معیشت کو اس حال میں چھوڑا کہ آنے والی حکومت کو اسے سنبھالنے کیلئے سخت جدوجہد کرنی پڑے گی بشرطیکہ وہ بھی لوٹ کھسوٹ کی عادی نہ ہو جائے۔ عوام میں شدید نفرت و انتقام کے جذبات نے پیپلز پارٹی جیسی قومی جماعت کو صرف سندھ تک محدود کردیا ہے۔
 پاکستان کا انتخابی نظام جیسا بھی ہے اس کے مطابق فی الحال مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں اتنی اکثریت حاصل ہو گئی کہ اسے دوسری جماعتوں سے بیساکھیوں حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے رہنما¶ں کو معروضی حقائق کا اندازہ ہونے لگا ہے اور وہ انتخابی نعرے سے گریز کا راستہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ خزانہ تو خالی ہے ہم 16 ارب کے مقروض ہیں‘ قرض اتاریں یا بجلی ٹھیک کریں؟ ہم قارئین کو بتاتے ہیں کہ میاں نواز شریف جب 97ءمیں وزیراعظم بنے تھے تو انہوں نے قرض اتارو ملک سنوارو کی تحریک چلائی تھی لیکن اس تحریک چلانے باوجود انہوں نے بھی آئی ایف سے قرضہ لیا تھا۔
 خدا کرے کہ وہ اس مرتبہ قرضہ نہ لیں میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی تاریخ نہیں دی جا سکتی‘ شہباز شریف تو جوش خطابت میں کچھ بھی کہہ جاتے ہیں‘ میں نہیں کہوں گا۔ حکمرانوں کیلئے یہ احتیاط اچھی چیز ہے۔ میاں شہباز شریف اپنے خطاب میں ”تاریخ پر تاریخ“ دیتے رہے ہیں۔ کبھی چھ ماہ کبھی ایک سال اور پھر تین سال‘ اس دعوے کے ساتھ کہ مسلم لیگ (ن) نے اقتدار ملنے پر یہ بحران ختم نہ کیا تو وہ اپنا نام بدل لیں گے۔
ممکن ہے انہوں نے کوئی دوسرا نام بھی سوچ لیا ہو لیکن میاں نواز شریف کی طرف سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بارے میں کسی عزم کا نہ ہونا عوام کیلئے ناراضی کا سبب بنے گا جنہیں گمان تھا کہ پیپلز پارٹی سے نجات ملی تو لوڈشیڈنگ سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ پنجاب کے بیشتر علاقوں میں صنعتیں بند پڑی ہیں۔ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں 20,20 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ میاں صاحب نے ابھی حکومت سنبھالی نہیں ہے لیکن منگل کو ان کے گھر کے باہر بجلی کے ماروں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
اس احتجاج سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو عوام بے قابو ہو جائیں گے۔ میاں نواز شریف کی یہ بات اصولاً صحیح ہے کہ پہلے قرض اتاریں یا بجلی ٹھیک کریں لیکن یہ قرض عوام نے نہیں چڑھایا۔ جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے حلق میں ہاتھ ڈال کر پیسے وصول کئے جائیں۔ عوام کو اس سے غرض نہیں کہ خزانہ خالی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ بجلی اور گیس کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ ختم ہو جو پیپلز پارٹی کی حکومت کو لے بیٹھی میاں نواز شریف لوڈشیڈنگ ختم ہونے کی تاریخ بے شک نہ دیں لیکن 30 دن میں جو کارکردگی دکھانے کا اعلان کیا ہے اس میں لوڈشیڈنگ میں کمی ضروری ہونی چاہئے۔
 میاں نواز شریف کو یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے کہ عوام نے پانچ سال تک بجلی کے بحران کو ماضی کا ورثہ قرار دے کر اس کی طرف توجہ نہ دینے والے حکمرانوں کو ان کے آبائی گھروں تک محدود کر دیا ہے ۔نئے حکمرانوں کے انتخاب کے پس پردہ بھی یہ خواہش کار فرما ہے کہ لوڈشیڈنگ سمیت تمام پریشان کن مسائل جلد از جلد حل ہو جائیں اگر آنے والے حکمرانوں نے بھی اس سمت میں کوئی فوری اور ٹھوس قدم نہ اٹھایا تو ان کا حشر بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا۔ میاں نواز شریف چند روز تک عوام کی بھاری اکثریت کا اعتماد حاصل کرکے تیسری مرتبہ وزیراعظم بن رہے ہیں۔
سابقہ ادوار کے تجربات اور ان کی خوبیوں‘ خامیوں کا جائزہ لے کر آگے بڑھنا ان کیلئے بہت آسان ہو گا سابقہ حکومت کی طرح مفاہمت کے نام پر سودے بازی کی سیاست سے گریز ان کے لئے ازبس ضروری ہے جو لوگ حصول اقتدار کے لالچ میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرکے اس میں شمولیت کے لئے جوق در جوق آرہے ہیں۔ ان سے بچنا اور تحریک انصاف جیسی حزب اختلاف کی تنقید کے ساتھ آگے بڑھنا میاں نواز شریف کی حکومت کیلئے مفید ثابت ہو گا۔ مفاہمت اور بلیک میلنگ کی سیاست سے کوئی فائدہ ہوگا نہ مسلم لیگ (ن) کی نیک نامی ہو گی۔ ایسی صورت میں مسلم لیگ (ن) کا بھی بقول میاں نواز شریف‘ پیپلز پارٹی جیسا حشر ہو گا۔