مسلم لیگ ن یقینا ملک کو بحرانوں کی دلدل سے نکال لے گی

کالم نگار  |  محمد اعجاز شفیع

 شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی پنجاب حکومت کے 2008سے 2013تک صوبے میں تعمیر و ترقی کے ریکارڈ رقم کےے جن کا احاطہ کرنے کے لئے دفاتر درکاہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مسلم لیگ (ن)نے مرکز میں بہترین اپوزیشن اور پنجاب میں میاں شہباز شریف نے بطور خادم اعلی گڈگورننس کی روشن مثالیں قائم کیں۔ قائدین مسلم لیگ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی دور اندیش پالیسیوں نے عوام کے دلوں میں گھر کر لیا۔ جس کا نتیجہ گیارہ مئی کے انتخابات میں قوم نے مسلم لیگ (ن) کے قائدین سے اپنی عقیدت کا ثبوت دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ہر امیدوار کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور یوں پیپلزپارٹی اور ان کے اتحادیوں کو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عوام سے کئے گئے نارواسلوک کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ اب اگرچہ اس دوران قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے صدر زرداری کو سمجھانے کے ہر طرح کے جتن کئے مگر "آفرین"اتحادی حکمرانوں پر جنہوں نے قائدین مسلم لیگ (ن) کے ہمدردانہ مشوروں پر کان نہ دھرا ۔گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے مارے عوام بلبلاتے احتجاج کرتے سڑکوں پر ماتم کناں تھے دوسرے لفظوں مےں روم جل رہا تھا اور نیرو چین کی بانسری بجا ئے جارہا تھا۔بھوک و افلاس کے مارے مزدور اپنے گلے اور پیٹ پر روٹیاں باندھ کر سڑکو ں پر سراپا احتجاج اور حکمران ان کے اشک شوئی کرنے کی بجائے غیر ملکی دوروںاور سیر سپاٹوں میں مشغول تھے۔
یوسف رضا گیلانی اپنے آقا این آر او زدہ صدر زرداری کو بچاتے بچاتے خود قربان ہو گئے جبکہ پیپلزپارٹی کے دوسرے وزیر اعظم راجہ رینٹل کا عوام نے کچومر نکال دیا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے اتحادیوں کو باور کرارکھا تھا کہ الیکشن کا انعقاد مشکل مرحلہ ہے ۔ایک سٹیج پر آکر انتخابات ملتوی ہوجائیں گے۔ مگر قائدین مسلم لیگ نے کمال دانشمندی سے انتخابات کا انعقاد کرواکر اتحادیوں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی۔
بطور خادم اعلی پنجاب شہباز شریف نے عوام کی جو خدمت کی انتخابات کے روز عوام نے منافع سمیت انہیں بھاری مینڈیٹ دے کرواپس کر دیا ۔یوںگیارہ مئی کو مسلم لیگ (ن) نے پورے ملک بالخصوص پنجاب میں بہت بڑی جماعت بن کر ابھری ۔ مرکز پنجاب اور بلوچستان میں اسے حکومت سازی کا واضح مینڈیٹ ملا۔ خیبر پی کے میں حکومت سازی ممکن ہونے کے باوجود عمران خان کے مینڈیٹ کو تسلیم کر لیاگیا۔
نواز شریف کی دانشمندی نے ثابت کر دیا کہ وہ ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے مخلص ہیںاقتدار ان کی منزل نہیں بلکہ عوام کو مسائل سے چھٹکارہ دلانا ان کا اصل ہدف ہے۔ اتنی بڑی کامیابی کے باوجود میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف عاجزی و انکساری سے دوسرے سیاسی قائدین کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
عوام بجا طور پر اپنے مستقبل کو روشن اور پاکستان کو ایشیاءکا ٹائیگر دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے ووٹ دے کر طاقت سے اتحادیوں کو شکست فاش دی ہے۔
قائدین مسلم لیگ (ن)بخوبی آگاہ ہیں کہ سابق آمر پرویز مشرف اور اتحادی حکمرانوں نے اپنی عاقبت نا اندیش پالیسیوں کے باعث ملک کو جس نہج پر پہنچا دیا ہے ان حالات میں کسی بھی جماعت کے لئے اقتدار پھولوں کی مالا نہیں بلکہ کانٹوں کا ہارہے ۔ جس نے گلے ڈالنا ہے خود کو خون آلود کرنے کے مترادف ہے ۔ اس کے باوجود میاں نواز شریف نے عوامی درد اور ملکی محبت کو محسوس کرتے ہوئے اقتدار کی بھاری بھر کم ذمہ داریوں کا بیڑا اٹھایا ہے۔ عوام آگاہ ہیں کہ میاں برادران جس کام کو کرنے کی ایک بار ٹھان لیتے ہیں۔ اسے کئے بغیر نہیں رہتے ۔ ہر قومی مسئلے کو وہ اپنے لئے چیلنج سمجھ کر عہدہ برا ءہوتے ہیں۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران مرکز نے صوبہ پنجاب کو ہر موقع پر نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ جو عوام نے کامیاب نہ ہونے دیںاور گیارہ مئی کوتمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے عوام نے اپنی پرچی کا تمام تر وزن مسلم لیگ (ن) کے پلڑے میں ڈال کر اسے بے مثال تاریخی کامیابی سے نواز دیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی انشاءاللہ اسی طرح جاری و ساری رہے گااور مسلم لیگ (ن) عوام کی حمایت اور تعاون سے ورثے میں ملنے والے تمام بحرانوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو گی اور قائدین ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال کر سرخرو ہوں گے۔