مسائل کا حل معاشی ترقی سے ہے

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر

پاکستان پر مسائل کا انبوہِ کثیر اور قرضوں کا پہاڑ نوازشریف حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پانچ سو ارب کے قرضے معاشی ڈھانچے کی اُن کمزوریوں کو ظاہرکرتے ہیں جس کے تحت ایک مضبوط سیاسی اور معاشی نظام معرضِ وجود میں نہ آ سکا۔ کیونکہ جمہوریت کے ساتھ ہی مضبوط معاشی نظام کا تصور ابھرتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہ دیا گیا، تاہم اس ضمن میں کئی سوالات ابھرتے ہیں۔
1۔ کیا ن لیگ کی حکومت ان مسائل سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
2۔ کیا عوام کو ریلیف مل سکے گا جس کے تحت انہوں نے ن لیگ حکومت کو منتخب کیا کہ وہ انہیں تیزی سے بڑھتے ہوئے مسائل خصوصاً غربت، مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بیروزگاری جیسے عفریت سے باہر نکال پائے گی؟۔ تو اس کا جواب کچھ یوں دیا جا سکتا ہے کہ معاشی ترقی کے بغیر مسائل کا حل ناممکن نظر آتا ہے۔ پاکستان میں اقتصادی مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ ان سے گلوخلاصی مشکل نظر آتی ہے۔ نوازشریف نے بھی اپنے خطاب میں قرض کی ادائیگی کے لئے مختلف ترجیحات کا آپشن دیا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لئے چھوٹے قرضوں کی اسکیم کا حل تو کسی حد تک درست ہے لیکن اس کے ہمیشہ دو نقصانات سامنے آئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سے مراعات یافتہ طبقے نے فائدہ اٹھایا اور دوسرے یہ کہ یہ اقدام مسئلہ کا حل نہیں ۔ ایک معروف معیشت دان نے تو اس طریقہ کار کے بارے میں لکھا کہ ”یہ اسی طرح ہے کہ اگر کسی ملک میں فضائی آلودگی کی وجہ سے گلے اور سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہوں تو بجائے فضائی آلودگی کی طرف توجہ دینے کے گلے اور ڈاکٹرز کی تعداد دگنی کر دی جائے“
بظاہر تو معاشی مسائل کا حل آئی ایم ایف کا اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام بھی ہے۔ گزشتہ چالیس سالوں میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی غلط ترجیحات کا شکار نہ صرف پاکستان ہوا بلکہ غیر مسلم ممالک بھی ہوئے۔ افریقہ کو تو آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام نے نچوڑ کر رکھ دیا۔ پاکستان اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام میں ستر کے آخر میں شامل ہوا اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں یہ طے پایا کہ بنکوں کو قومی ملکیت میں نہیں رکھا جائے گا۔ اگر بنکوں کو جلد از جلد نجی شعبوں کے حوالے کر دیا جاتا تو ڈیفالٹرز بنکس کی وجہ سے ملک کا سرمایہ برباد ہونے سے بچ جاتا۔
ہمارے ہاں معاشی مسائل کی وجہ ناقص انتظام اور چور بازاری بھی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ واپڈا کے خسارے کی وجہ بجلی چوری اور اس ادارے کے ناقص منصوبہ بندی کو اس ادارے نے خود تسلیم کیا ہے کہ سالانہ دو سو ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے جس کے تحت مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ جیسے مسائل نے صنعتی اور زرعی ترقی پر خاطر خواہ منفی اثر ڈالا ہے۔قرضوں کی ادائیگی کے لئے GST سے حاصل ہونے والے وسائل کو استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے نقصانات درج ذیل طریقے سے سامنے آتے ہیں جن میں لوگوں کی بچتوں میں قابل ذکر کمی کے ساتھ مجموعی طلب اور زیادہ کم ہونے سے منڈی کی پست قوتِ خرید میں بھی کمی واقع ہو گی ملکی معیشت کے استحکام کے لئے جی ایس ٹی سے حاصل ہونے والے وسائل کا کم از کم پچاس فیصد ترقیاتی کاموں پر صرف کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کی طرف قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی سیاسی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ معیشت کی مضبوطی جمہوری نظام کی مضبوطی سے منسلک ہے۔ اگر ہم عوام کو مزید دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتے تو ہمیں اُس سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے جس کے تحت گڈ گورننس کے اصول کو لاگوکیا جا سکے۔ بُری گورننس اور نظام احتساب کی غیر موجودگی کے باعث معاشی خوشحالی کے لئے قرض غریبوں کو فائدہ پہنچائے بغیر بااثر لوگوں کی جیبوں میں جاتا رہا ہے۔ ہمارے ہاں "Context free rules" کے تحت کام کرنے کی روایت کمزور ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جمہوری عمل سرکاری شعبوں کی کارکردگی کے لئے مخصوص سیاسی پارٹیوں اور بااثر افراد کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب بھی جمہوریت کو سبوتاژ کیا گیا تو فوج نے سیاسی زندگی میں مداخلت کی۔ جرنیلی مداخلت کی وجہ سے نہ تو غیر پیداواری اخراجات کم کئے جا سکے اور نہ سیاسی نظام کو استحکام ملا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترقیاتی عمل اور نظریات کے متعلق اپنے طرزِ فکر کو تبدیل کریں۔ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو مرکزی اہمیت دیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد سازی قائم کریں قرض کی دلدل سے نکلنا کسی جادو کی چھڑی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے وقت، دیانتداری، خلوص نیت، سیاسی نظام کی درستگی اور پیہم جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ صاف شفاف جمہوری نظام سے ہی ممکن ہے۔