صدرِ مملکت کی پانی میں مدھانی

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

بلند و بالا عمارات اور وسیع و عریض محلات وقتی شان و شوکت کے مظہر ہو سکتے ہیں مگر دائمی اقتدار کی ضمانت نہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو قیصر روم کی اولاد آج بھی اقتدار میں ہوتی۔تاج محل اور لال قلعہ بنانے والے مغلوں کی نسل آج بھی تخت پر براجمان نظر آتی۔موہنجودڑو اور ہڑپہ کے کھنڈرات ہمیں بتاتے ہیں کہ اقتدار کا تسلسل حکمرانی کی پالیسیوں سے وابستہ ہوتا ہے۔صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری نے تخت لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے لاہور کے نواح میں اربوں کی لاگت سے محل تعمیر کراکے لاہور میں ڈیرہ جمانے کی کوشش کی اور تاثر یہ دیا کہ اس قلعہ نما محل میں بیٹھ کر وہ پنجاب کے عوام سے روابط بڑھا سکیں گے۔2013ءکے الیکشن کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ محلات کی تعمیر غریب کے زخموں پر نمک پاشی ہی ہو سکتی ہے،مرہم نہیں جبکہ عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنے والے لیڈر کے پاس محلات نہ بھی ہوں تو وہ گڑھی شاہو، مزنگ، لکشمی، بھاٹی گیٹ، دہلی دروازہ میں اڑھائی مرلہ مکان میں رہ کر بھی عوام کے دلوں پر حکمرانی کر سکتا ہے۔
گذشتہ دنوں صدرِ مملکت نے حالیہ الیکشن میں عبرت ناک شکست کے بعد پہلی دفعہ لاہور میں دربار لگایا اور ہارے ہوئے چند سو کھلاڑیوں کی اعلیٰ اقسام کے کھانوں سے تواضع کی۔ سینیٹر اعتزاز احسن کی سربراہی میں ہمیشہ کی طرح ایک کمیشن تشکیل دے دیا جو پیپلزپارٹی کی شکست کے اسباب تلاش کرے گا ۔خود ان پر اپنی اہلیہ محترمہ بشریٰ اعتزاز کی الیکشن میں ضمانت ضبط ہونے راز نہیں کھل سکا ۔اس دربار ہال میں موجود حالیہ الیکشن کے امیدواران صوبائی و قومی اسمبلی سمیت سابقہ کابینہ اور دونوں سابقہ وزرائے اعظم موجود تھے ۔امیدواران کی ایک بڑی تعداد نے کھل کر اصل حقائق جناب صدرِ مملکت کو بتانے کی کوشش کی ۔ جب کہ راجہ ریاض کی قماش کے لوگ جو کہ پیپلزپارٹی کی شکست کی وجوہ میں سے ایک ہیں لوگوں کو چپ کرانے کی کوشش کرتے رہے۔کیا صدرِ مملکت نہیں جانتے کہ ہماری پارٹی کی اس عبرت ناک شکست کے پیچھے اسباب کیا ہیں ؟ کیا صدرِ مملکت نے اس بدترین شکست کے بعد اپنی چارپائی کے نیچے ”ڈانگ پھیرنے کی کوشش کی ہے؟“کیا صدرِ مملکت کو دونوں وزرائے اعظم کے خاندان اور اولادوں کے ہاتھوں لوٹا ہوا قومی خزانہ یاد نہیں ؟کیا صدر مملکت کو ہزاروں ارب روپے کا لوٹا ہوا قومی خزانہ صرف چند وزراء،مشیران اور اداروں کے چیئرمینوں میں تقسیم ہوتا ہوا نظر نہیں آیا تھا؟صدرمملکت اس وقت خاموش کیوں تھے جب ان کا پرائیویٹ سٹاف، پرسنل میل او رفی میل سیکرٹریوں نے بھتہ وصول کرنے کی مہم چلا رکھی تھی اور صدر مملکت سے ملاقات کے فی منٹ ریٹ مقرر تھے ۔ کیا صدر مملکت کو گذشتہ پانچ سال میں اپنے اور وزرا ءکے اکاﺅنٹس میں کھربوں ڈالر کے اضافے کا کبھی پتہ نہ چلا ؟کیا صدرِ مملکت کو میاں منظور وٹو کو پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر اور سلیم سیف اللہ کو خیبرپی کے کا صدر بناتے ہوئے یہ خیال نہ آیا کہ ان دو اصحاب کا پیپلزپارٹی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کیا صدرِ مملکت کو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مبینہ قاتلوں کو نائب وزارتِ عظمیٰ پیش کرتے وقت یہ خیال نہ آیا کہ یہ کونسی مصلحت کی سیاست ہے ،یہ کونسی مفاہمت ہے؟؟؟؟ صدر صاحب آپ کو سب یاد تھایہ ریکنسی لیشن کی سیاست نہیں تھی یہ صرف ”مُک مکا “ تھا ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں اور اپنے دشمنوں کو بیک وقت لوٹنے اور لوٹانے کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔ آپ نے گذشتہ پانچ سال میں پیپلزپارٹی سینٹرل ایگزیکٹو اور فیڈرل کونسل کے کتنے اجلاس منعقد کروائے؟شہید بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانثار ساتھیوں سے کبھی مشاورت کی؟ ؟کبھی پارٹی کے لیے خون دینے والوں، کوڑے کھانے والوں، جیلیں کاٹنے والوں اور معاشی قربانیاں دینے والوں کو اعتماد میں لیا کیا؟؟؟صدرِ مملکت کیا آپ کو خبر نہیں تھی کہ آپ کی پولیٹیکل سیکرٹری کارکنان اور عہدیداروںتک کی برسرعام بے عزتی کرنے میں مشہور تھی ۔ زنانہ سٹاف نے فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران کو بھی کبھی آپ سے ملنے نہ دیا ۔ اگر کبھی کوئی ملاقات آپ سے اتفاقاً ہو جاتی تو آپ کا سٹاف ہمیشہ سر پر کھڑا رہتا کہ کہیں کوئی ان کی شکایت نہ کردے۔
جناب صدر ِ مملکت کہ آپ باجرہ کاشت کرکے گندم تو نہیں کاٹیں گے اس لیے آپ نے جو بویا پانچ سال کے بعد وہی کاٹا ۔ آج کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہر زبان زد عام پر یہ فقرہ ہے کہ بھٹو 5جنوری 1928ءکو پیدا، 4اپریل1979ءکو شہید ہوا اور 11مئی 2013ءکو ہمیشہ کے لیے دفنا دیا گیا ۔ ہم کارکنان کو یہ سب پڑھ کر ،سن کر،دیکھ کر جو کرب کی کیفیت سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ آپ اور آپ کی ٹیم کیسے لگائے گی ۔اس کرب اور اذیت کا اندازہ ایک جیالا ہی لگا سکتا ہے کہ جس کے ارمانوں کا خون 27دسمبر 2007ءکو ہی ہو گیا تھا۔صدرِ مملکت !محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جو کہ آپ کی شریک حیات اور آپ کے بچوں کی ماں تھی اور آپ کی اور ہماری لیڈر تھیں اس کے قاتلوں کو پکڑنے کی بجائے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جعلی مصالحت کی سیاست کا نعرہ بلند کرتے رہے اور پانچ سال تک صرف اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے شہیدوں کے خون کو چراغوں میں جلاتے رہے جبکہ پورا ملک اندھیروں میں ڈوبا رہا۔ کارخانے فیکٹریاں ملیں ،لومیں بند ہو گئیں۔ اس ملک کا غریب سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ جس میں ذرا ہمت تھی وہ آپ کے کاسہ لیسوں کے ساتھ مل کر لوٹنے میں مصروف ہو گیا ۔ملکی معیشت کا یہ عالم کہ ڈالر دُگنا مہنگا ہوا ،قرضوں کا حجم گذشتہ پانچ سالوں میں تین سو گنا بڑھ گیا لیکن اس دوران صدارتی محل میں بیٹھے ہوئے کبھی آپ کو یہ خیال آیا کہ مجھے اقتدار کی مسندتک پہنچانے میں جن لوگوں نے قربانیاں دیں میں ان کی طرف ایک بار مسکرا کر ہی دیکھ لوں۔ملک اور ملک کے عوام اندھیروں میں ڈوبے رہے ،تاریکیوں میں بھٹکے ہوئے ان عوام کو قیادت ہی میسر نہ تھی۔چھوٹا بڑا درمیانے درجے کا سرمایہ کار اپنا سرمایہ لے کر بنگلہ دیش، ملائیشیا، سنگاپور بھاگ گیا ۔ سندھ اورپنجاب کے سردار اور مخدوم اپنے بینک اکاﺅنٹس بھر کر امریکہ ،کینیڈا اور یورپ میں جا بسے۔اور ان کی اولادیں آج یورپ کی سڑکوں پر عیاشیاں کرتی نظر آتی ہیں۔آپ نے اعتزاز احسن کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دیا۔ وہ اعتزاز احسن جو سہ پہر کے وقت روزہ توڑ کر مراعات یافتہ طبقہ سے جا ملا وہ ہماری شکست کے اسباب کیا دریافت کرے گا؟جناب صدر صاحب پانی میں مدھانی چلانے سے پانی کی سطح پر مکھن نہیں آتا ۔ اگر آپ کو واقعی اب احساس ہوا ہے کہ ہم سے زیادتیاں سرزد ہوئی ہیں تو اس کے ازالے کے لیے پارٹی کی فیڈرل کونسل اور سینٹر ل ایگزیکٹو کمیٹی میں سے وہ لوگ تلاش کرکے کمیشن بنایا جائے جن کا دامن پچھلے پانچ سال سے مراعات سے پاک ہو۔ ورنہ یہ صرف پانی میں مدھانی چلانے کی بات رہ جاتی ہے۔